زبان، صحافت اور دوہرا معیار — سوال جو جواب مانگتا ہے - سید فاروق احمد قادری۔


زبان، صحافت اور دوہرا معیار — سوال جو جواب مانگتا ہے -  
 سید فاروق احمد قادری۔

میری کتاب "سلگتے احساس" اور میری زیرِ تکمیل خودنوشت—جس کے کئی ابواب مکمل ہو چکے ہیں—میرے اس طویل سفر کی گواہی ہیں جس میں میں نے صحافت کو زمین سے اٹھتے اور اب لڑکھڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے 13 سال کی عمر سے قلم اٹھایا، اور آج 79 برس کی عمر میں بھی ایک ہی سوال میرے سامنے ہے:
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
آج مہاراشٹر میں زبان کے نام پر جو فیصلے ہو رہے ہیں، وہ اپنی جگہ ایک بحث ہیں۔ مگر اس سے بھی بڑا سوال صحافت کے کردار کا ہے۔
اخبار جب کسی لکھنے والے سے یہ پوچھتے ہیں کہ “آپ نے مدد کہاں سے لی؟” تو دل میں ایک اور سوال جنم لیتا ہے:
کیا آپ خود ہر چیز اپنے قلم سے لکھتے ہیں؟
حقیقت سب کو معلوم ہے۔ بڑے بڑے اخبارات اپنی سرخیاں، اپنی اہم خبریں، اور اپنے “بینر” اکثر نیوز ایجنسیوں سے لیتے ہیں۔ وہی خبر مختلف ناموں سے چھپتی ہے، تھوڑی سی ترتیب بدلتی ہے، اور قاری تک پہنچ جاتی ہے۔
تو پھر ایک فرد اگر جدید ذرائع سے رہنمائی لے کر اپنی بات کہتا ہے،
تو اسے شک کی نگاہ سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟
یہاں اصل مسئلہ “ذرائع” نہیں، بلکہ دیانت اور ذمہ داری ہے۔
اگر کوئی لکھنے والا اپنی سوچ، اپنے تجربے اور اپنی ذمہ داری کے ساتھ لکھتا ہے، تو اس کی تحریر اس کی اپنی ہے—چاہے اس نے رہنمائی کہیں سے بھی لی ہو۔
افسوس اس بات کا ہے کہ آج کی اردو صحافت میں اصل سوالات پیچھے رہ گئے ہیں۔
نہ غریب کی آواز پوری طاقت سے اٹھتی ہے،
نہ زبان کے زوال پر سنجیدہ بحث ہوتی ہے۔
آج اگر ایک رکشہ چلانے والے پر زبان کی شرط لگائی جاتی ہے، تو کیا اخبار اس کی تکلیف کو اسی شدت سے بیان کرتے ہیں؟
یا پھر صرف رسمی خبریں چھاپ کر ذمہ داری پوری سمجھ لی جاتی ہے؟
صحافت کا کام صرف خبر دینا نہیں،
بلکہ سچ کو نمایاں کرنا ہے۔
اگر اخبار خود بھی ایجنسیوں پر انحصار کرتے ہیں،
تو انہیں نئے لکھنے والوں پر انگلی اٹھانے سے پہلے
اپنا دامن بھی دیکھنا چاہیے۔
یہ وقت تماشہ بنانے کا نہیں،
بلکہ خود احتسابی کا ہے۔
ورنہ کل تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ
جب زبان کمزور ہو رہی تھی،
جب غریب پر بوجھ بڑھ رہا تھا،
تو صحافت کہاں تھی

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔