اپریل فول سے آگے—ہماری سچائی کہاں ہے؟ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک
اپریل فول سے آگے—ہماری سچائی کہاں ہے؟
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک
M A M Ed
8904317986
آج 31 مارچ کو مجھے سوشل میڈیا پر بہت جگہ یہ پیغام پڑھنے ملا کہ اپریل فول کے نام پر جھوٹ، فریب اور دھوکہ عام ہو چکا ہے۔ ہمیں اپریل فل نہیں منانہ چاہیے اور یہ بات بالکل صحیح بھی ہے
ہم سب کہتے ہیں:
“ہم اپریل فول نہیں منائیں گے، کیونکہ اسلام میں جھوٹ منع ہے”
یہ بات بالکل درست ہے…
لیکن ایک سوال ہے:
کیا ہم صرف یکم اپریل کو جھوٹ سے بچتے ہیں؟ یا پوری زندگی؟
احادیث کی روشنی میں
1. سچ اور جھوٹ کے بارے میں:
عربی حدیث
"إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ"
اردو ترجمہ:
بے شک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف، اور جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف۔
(بخاری و مسلم)
2. دھوکہ دینے کے بارے میں:
حدیث
"مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا"
اردو ترجمہ:
جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
(مسلم)
3. مومن کے کردار کے بارے میں:
عربی:
"لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِطَعَّانٍ وَلَا لَعَّانٍ وَلَا فَاحِشٍ وَلَا بَذِيءٍ"
اردو ترجمہ:
مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش گو اور نہ ہی بدزبان۔
(ترمذی)
آج کا المیہ
آج ہم دیکھتے ہیں:
نماز بھی ہے…
روزہ بھی ہے…
دین بھی ہے…
لیکن ساتھ میں:
جھوٹ بھی ہے،
دھوکہ بھی ہے،
فریب بھی ہے…
تو سوال یہ ہے:
کیا صرف اپریل فول چھوڑ دینا کافی ہے؟
اشعار
سچائی میں ہے عزت، یہی دین کا پیام
جھوٹوں کے لیے آخر ہے رسوائی کا انجام
نمازیں بھی، تلاوت بھی، اذکار بھی ہیں
پھر کیوں ہمارے اندر اتنے فریب کار بھی ہیں
اپریل فول سے بچ گئے تو کیا ہوا آخر
ہر روز کے جھوٹ کا بھی تو کرو کوئی ذکر
اصل پیغام
اسلام ایک دن کا نہیں، پوری زندگی کا نظام ہے۔
اگر ہم سچے مسلمان بننا چاہتے ہیں تو:
ہر حال میں سچ بولیں
ہر معاملے میں امانت داری اپنائیں
ہر قسم کے دھوکے سے بچیں
آؤ عہد کریں:
ہم نہ صرف اپریل فول چھوڑیں گے،
بلکہ اپنی پوری زندگی کو سچائی کا نمونہ بنائیں گے۔
کیونکہ:
سچا مسلمان وہی ہے، جس کی زبان بھی سچی ہو اور کردار بھی۔
Comments
Post a Comment