حمد پاک۔ - ازقلم : فرید سحر حیدر آباد ( تلنگانہ )
حمد پاک۔ -
ازقلم : فرید سحر حیدر آباد ( تلنگانہ )
زمین و آسماں سارا جہان اس کا ہے
مقام دونوں جہاں میں مہان اس کا ہے
جدھر بھی دیکھو یہاں گُلستان اس کا ہے
ہر ایک ذرہ میں ملتا نشان اس کا ہے
کروڑوں بندے ہیں آباد ساری دُنیا میں
کروڑوں بندوں کا یہ کاروان اس کا ہے
ہمارا بال بھی بیکا کبھی نہیں ہو گا
ہمارے سر پہ سدا سائبان اس کا ہے
خُدائے پاک کی عظمت کو کوئ کیا جانے
ہمارا سر ہے جہاں پائیدان اس کا ہے
اسی کے حکم سے ہی پُھول سب مہکتے ہیں
ہر اک چمن کا یہاں باغبان اس کا ہے
وہ اپنے بندوں سے غافل کبھی نہیں رہتا
تمام بندوں ُ پہ رہتا جو دھیان اس کا ہے
تلاش کرنے کی اس کو نہیں ضرورت ہی
ہر ایک بندے کے دل میں مکان اس کا
ہے
مصیبتوں سے دلاتا ہے وہ نجات ہمیں
ہمارا چھوٹا سا یہ خاندان اس کا ہے
زمانے بھر میں ہوں میں ُسرخرو جو آج سحر
کرم یہ مجھ پہ فقط صاحبان اس کا ہے
فرید سحر حیدر آباد ( تلنگانہ )
Comments
Post a Comment