عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی: پیٹرو ڈالر سے پیٹرو یوان تک کا سفر۔(یوان میں تیل کی خریداری: بھارتی خارجہ پالیسی جرات مندانہ اقدام اور معاشی خود مختاری کا مظہر)۔ ازقلم : اسماء جبین فلک۔
عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی: پیٹرو ڈالر سے پیٹرو یوان تک کا سفر۔
(یوان میں تیل کی خریداری: بھارتی خارجہ پالیسی جرات مندانہ اقدام اور معاشی خود مختاری کا مظہر)
ازقلم : اسماء جبین فلک۔
اپریل 2026 کا ایک انتباہی دن ہے جب دنیا کی تاریخ ایک بار پھر ایک چھوٹے سے لین دین کے واقعے سے ہل گئی۔ بھارت نے ایک ایسی تزویراتی حرکت کر دی جو بظاہر ایک تیل کی خریداری لگتی ہے مگر باطن میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری کے خلاف ایک خاموش اور انقلابی چال ہے۔ ایران سے خام تیل کی 20 لاکھ بیرل سے زائد ترسیل جو تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی ہے، اب بھارت کے لیے صرف توانائی کا مسئلہ نہیں بلکہ واشنگٹن کے سامنے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ڈالر کا غلبہ فی الحال محفوظ سہی مگر اس کا اختیار محدود ہو رہا ہے۔
اس ترسیل کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ حقیقت کو پیش کرنا ضروری ہے کہ بھارت تیل کی ایک بڑی درآمدی معیشت ہے۔ تقریباً 85 سے 90 فیصد تیل بیرون ملک سے آتا ہے اور اسی وجہ سے سستی اور محفوظ فراہمی، چاہے وہ روس ہو یا ایران، بھارت کے لیے جزو بقا بن جاتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز کی نقل و حمل میں رکاوٹیں، خلیج فارس میں تنازعات اور ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی تھیں، جس کے نتیجے میں ایک ایسا ملک جو اپنی اور صنعتی ترقی کے لیے تیل کی دستیابی پر بھروسہ کرتا ہے، اس کے لیے سستی اور متبادل فراہمی نہ صرف ایک انتخابی مسئلہ ہے بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ بھی ہے۔
مگر ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس کے ساتھ براہ راست ڈالر میں کوئی لین دین ممکن نہیں تھا۔ امریکہ نے اپنی پابندیوں کے ذریعے ایک چھوٹی سی خفیہ سچائی کو طاقتور بنایا ہوا ہے کہ جو بھی امریکی ڈالر کے نظام سے گزرتا ہے وہ واشنگٹن کی نظر میں آتا ہے اور اگر سوئفٹ (SWIFT) یا کسی اور مالیاتی ذریعے سے بھی ایران کی طرف ایک سینٹ کی منتقلی نظر آئے تو اسے امریکی اثر و رسوخ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ اسی لیے ایک ایسا راستہ درکار تھا جو امریکی دائرہ کار سے باہر کام کرے اور وہ راستہ چینی کرنسی یوان تھا جو اب عالمی مالیاتی نظام کے اندر ایک اتحادی اور متبادل کے طور پر مستحکم ہو چکا ہے۔
اسی راستے پر چلتے ہوئے بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری کی ادائیگی ICICI بینک کے ذریعے کی جو اپنی چینی شنگھائی شاخ کے ذریعے یوان کی منظوری کے عمل میں حصہ دار ہے۔ یعنی لین دین یوں ہوا کہ ٹینکر بھر ایرانی تیل بھارت کے تصفیہ خانوں کی طرف روانہ ہوا اور پیسہ ایک چینی بینک کے کھاتے میں یوان کی شکل میں منتقل ہوا، جس سے امریکی ڈالر کا کوئی براہ راست کردار یا امریکی مالیاتی نظام کا کوئی نمایاں ذریعہ استعمال ہی نہ ہوا۔ یہی وہ بات ہے جس نے ایک عام تیل کی خریداری کو ایک اعلی سطحی سیاسی اور مالی بیانیے میں تبدیل کر دیا۔
امریکی انتظامیہ اس طرح کے اقدامات کو نہایت حساسیت سے دیکھتی ہے کیونکہ اس کے پاس ثانوی پابندیوں یعنی دوسرے درجے کی پابندیوں کا ایک وسیع اسلحہ خانہ ہے جس کے ذریعے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی ایرانی تیل کی خریداری، رسد یا مالیاتی راہداری فراہم کرے گا، اس پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ مگر ایک بات یہ بھی ہے کہ عالمی رسدی سلسلے میں بحران کے دوران امریکہ نے چند ممالک بشمول بھارت کو ایک محدود عارضی چھوٹ یا رعایت دی تھی جس کے تحت ایرانی تیل کی خریداری کی اجازت دی گئی تاکہ عالمی تیل کی قیمتیں نہ بڑھیں۔ اس عارضی نرمی کا اعلان 30 دن کے لیے تھا اور اسی دوران بھارت نے ایک لاکھ بیرل سے زائد ایرانی تیل خریدا اور اس کی ادائیگی یوان میں مکمل کر دی۔
یہیں سے امریکی انتظامیہ کے لیے ایک گہرا پیغام نکلتا ہے کہ بھارت نے نہ صرف واشنگٹن کی اسی ممنوعہ رعایت سے فائدہ اٹھایا بلکہ اس کے ساتھ ہی ایک ایسا مالیاتی ڈھانچہ بھی تشکیل دیا جو امریکی ڈالر کے زیر اثر نظام سے نکل کر چین کے یوان کے تصفیاتی نظام میں چلا گیا۔ اس طرح بھارت نے ایک تزویراتی چال کھیلی، ایک طرف اس نے واشنگٹن کے سیاسی دباؤ اور انتہائی حساس دوسرے درجے کی پابندیوں کے سامنے ٹھہر کر کھیل کھیلا اور دوسری طرف اس نے چین کے ساتھ مالیاتی اتحاد میں ایک ایسا رشتہ مضبوط کر دیا جو امریکی اثر و رسوخ کی حدود کو آہستہ آہستہ سکیڑ رہا ہے۔
اس واقعے کو سمجھنے کے لیے ایک گہرا تاریخی پس منظر بھی ضروری ہے جسے ماہرین ڈالر سے انحراف (ڈی ڈالرائزیشن) یا ڈالر کی اجارہ داری کے خاتمے کے عمل کے نام سے جانتے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں امریکہ اور سعودی عرب کے مابین ہونے والے ایک اہم معاہدے نے ایک نئی تاریخ بنائی جہاں عالمی تیل کی ایک بڑی تجارت امریکی ڈالر میں طے ہونے لگی اور اس طرح پیٹرو ڈالر کا نظام قائم ہوا۔ اس نظام نے ڈالر کو ایک ایسی عالمی معیاری کرنسی بنا دیا جس کی وجہ سے امریکہ نہ صرف اپنے گھریلو اخراجات کو آسانی سے پورا کر پا رہا ہے بلکہ اپنے سیاسی اور معاشی ہتھیار کے طور پر پابندیوں کا استعمال بھی کر سکتا ہے جسے مالیاتی اثر و رسوخ کہا جاتا ہے۔
لیکن گزشتہ چند سالوں میں چین، روس، ایران اور دیگر ممالک نے اپنی باہمی تجارت کا ایک بڑا حصہ ڈالر کے بجائے یوان، روبل یا مقامی کرنسیوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ چین نے اپنی عالمی تجارت کا 47 فیصد لین دین یوان میں منتقل کر دیا ہے جبکہ BRICS اور CIS ممالک میں 80 فیصد سے زائد تجارت مقامی کرنسیوں میں ہو رہی ہے۔ اس پس منظر میں بھارت کی جانب سے چینی یوان میں ایرانی تیل کی ادائیگی اس ڈالر سے انحراف کے ڈھانچے میں ایک چھوٹی مگر نمایاں کڑی ہے جو وقت کے ساتھ دنیا کی مالیاتی طاقت کا توازن بدل سکتی ہے۔
بھارت امریکہ کے لیے ایک اہم تزویراتی شراکت دار اور کواڈ (QUAD) اتحاد کا مرکزی حصہ ہے جس کا اصل مقصد چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو متوازن کرنا ہے۔ اسی لیے یہ ایک انتہائی اہم اور پیچیدہ پیغام ہے کہ جو ملک امریکہ کے ساتھ سلامتی اور ڈیجیٹل شعبے میں گہری شراکت داری چاہتا ہے وہ ایک تجارتی لین دین میں چین کے مالیاتی نظام کو اپنا رہنما ہتھیار بنا کر اپنی معاشی اور توانائی کی خود مختاری کی بات کر رہا ہے۔
بھارت کی تیل کی خریداری میں یہ پہلی بار نہیں ہے کہ چینی کرنسی استعمال ہوئی ہو۔ 2022 کے بعد روس پر امریکی اور مغربی پابندیوں کے نتیجے میں بھارت روس کا سب سے بڑا تیل خریدار بنا اور اس کے کچھ سودوں کی ادائیگی چینی یوان یا ڈالر کے علاوہ دیگر ذرائع میں ہوئی۔ یہ ایک ارتقائی عمل ہے جہاں بھارت اپنے توانائی کے مفادات کو امریکی یکطرفہ رویوں سے الگ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہی تزویراتی خود مختاری اس کے بیانیے کا مرکز ہے۔
چین گزشتہ کئی سالوں سے پیٹرو یوان کا تصور پیش کر رہا ہے یعنی یہ کہ عالمی تیل کی تجارت ڈالر کے بجائے چینی یوان میں ہو اور چین اپنے یوان کو ڈالر کے بعد دوسری بڑی عالمی کرنسی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے چین نے خلیجی ریاستوں، روس، ایران اور دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ ایسے مالیاتی معاہدے کیے ہیں جن میں یوان یا مقامی کرنسیوں کو ترجیح دی گئی ہے اور اب اس کے ساتھ ہی بھارت جیسے بڑے ملک کا چینی کرنسی میں ایرانی تیل کی ادائیگی کرنا اسی حکمت عملی کو ایک نئی بلندی پر لے جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جہاں امریکی اثر و رسوخ صرف ایک سیاسی دباؤ کا نام نہیں بلکہ چین کے ایک ٹھوس اقتصادی متبادل کے سامنے ایک چیلنج ہے جو اب عالمی تیل کی تجارت میں بھی اپنے نشان چھوڑ رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے لیے اس واقعے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ایک بڑے حلیف اور اتحادی کے ذریعے چین کے مالیاتی نظام کو عالمی میدان میں لانے کا ایک مثالی موقع ہے۔ اگر امریکہ اسی بھارت پر پابندیاں عائد کرتا ہے جو اس کا اتحادی ہے اور کواڈ کا رکن ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے ایک ایسے ملک کو بھی اپنے ہی اتحاد سے نکال دیا جو اس کے ساتھ سلامتی اور تزویراتی تعاون کرتا ہے۔ اگر امریکہ ایسا نہیں کرتا تو یہ پیغام جاتا ہے کہ امریکی پابندیوں کے سامنے بھی ایک ایسا راستہ موجود ہے جو اس کے اثر و رسوخ کو کمزور کر سکتا ہے اور یہ واشنگٹن کے لیے ایک گہرا نفسیاتی اور سیاسی جھٹکا ہے۔
اس طرح یہ واقعہ ایک ایسی تاریخی کہانی کا حصہ بن گیا ہے جہاں ڈالر کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے والے ممالک چینی یوان کے ذریعے ایک مشترکہ مالیاتی بنیاد بنا رہے ہیں۔ بھارت اگرچہ اپنے اتحاد کے اصولوں پر اصرار کرتا ہے مگر اس کا یہ اقدام نہ صرف اپنے توانائی کے مفادات کے لیے ایک عملی قدم ہے بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ کے سامنے ایک بہت بڑا مالیاتی نظام جو ایک دہائی قبل صرف ایک تصور لگتا تھا اب ایک حقیقت بن کر سامنے آ چکا ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ تیل کی خریداری صرف ایک لین دین نہیں بلکہ ایک نئی عالمی حکمت عملی کا ایک کھلا اعلان ہے کہ جلد یا بدیر ڈالر اکیلا تیل اور مالیات کا بادشاہ نہیں رہے گا اور اس بات کا ایک اثر بھارت، امریکہ، چین اور ایران کے محور کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی متوازن سیاسیات اور معاشیات کو گہرائی سے بدلے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے ایران سے چینی کرنسی میں تیل خریدا اور اس طرح امریکہ کو ایک بڑا جھٹکا دیا جو اب صرف ایک اخباری خبر سے آگے بڑھ کر ایک تاریخی ایجنڈے کا حصہ بن چکا ہے۔
Comments
Post a Comment