وہ کیوں ہنسا؟ (مزاح نگاری)۔ - از قلم: رہبر تماپوری۔
وہ کیوں ہنسا؟ (مزاح نگاری)۔ -
از قلم: رہبر تماپوری۔
شادی کی وہ پہلی شام کسی معرکہِ عظیم سے کم نہ تھی، جب عمرین کو اس کے میکے سے رخصت کر کے پیا گھر بھیجا گیا۔ ماں نے نم آلود آنکھوں کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے نصیحت کی، "بیٹی! ہم نے تمہیں تعلیم کے زیور سے تو آراستہ کر دیا، اب سسرال جا کر سگھڑاپے کے جوہر دکھانا۔ ہم تمہیں ہر فن سکھائیں گے، بس تم سیکھنے کی لگن برقرار رکھنا۔" دوسری طرف ساس صاحبہ نے بھی بڑے تپاک سے استقبال کیا اور شفقت سے بولیں، "عمرین بیٹی! تم نے کتابوں پر بہت وقت لگایا ہے، اب ذرا چولہے چوکے سے بھی شناسائی حاصل کرو، ہم تمہارے ساتھ قدم بہ قدم چلیں گے۔" شادی کے ہنگاموں سے فراغت ملی تو چند دن بعد عمرین نے پہلی بار کچن کی 'سرحد' میں قدم رکھا۔ ساس نے ایک مشفق استاد کی طرح میدانِ عمل میں اتارتے ہوئے کہا، "پہلا کام آسان ہونا چاہیے، آج ایک سادہ سی دال بناؤ، بس ذرا نمک کا خیال رکھنا کہ وہ 'چٹکی بھر' اور 'حسبِ ذائقہ' کے درمیان کہیں معلق رہے۔" عمرین نے خود اعتمادی سے سر ہلا کر کہا، "جی امی! آپ بالکل فکر نہ کریں، میں اپنی تمام تر تعلیمی قابلیت اس دال میں جھونک دوں گی۔" شام کو جب شوہر دفتر سے تھکا ہارا واپس آیا تو دسترخوان پر دال سجی دیکھ کر اس کے چہرے پر تھکن اور اشتہا کا ملا جلا تاثر ابھرا۔ عمرین نے فخر سے کہا، "دیکھیے! یہ آپ کی امی کا بتایا ہوا نسخہ ہے، لیکن اس میں ذائقہ میں نے اپنی 'تخلیقی صلاحیتوں' سے پیدا کیا ہے۔ آج کا کھانا بہت خاص ہے۔" شوہر نے پہلا لقمہ لیا تو اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی آئی، مسکرا کر بولا، "واقعی! ذائقہ تو بالکل اچھوتا ہے، تمہاری محنت اس کی رنگت سے صاف جھلک رہی ہے۔" اگلے چند دن عمرین کے لیے تجربات کی تجربہ گاہ بن گئے۔ ایک دن اس نے شیریں (میٹھا) پکاتے ہوئے شوہر کو جتایا، "یہ میٹھا میں نے خاص محبت کے جذبے سے تیار کیا ہے، اس میں چینی اتنی ہی ہے جتنی آپ کی پسند کی یاد۔" شوہر نے ایک چمچ بھر کر منہ میں رکھا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا، "واقعی بیگم! اس میں تمہاری محبت کی 'شدت' اتنی زیادہ ہے کہ حلق سے نیچے اتارنے کے لیے ہمت درکار ہے۔" کچھ روز بعد جب سبزی بنی تو شوہر نے لقمہ توڑتے ہوئے تبصرہ کیا، "دال تو امی نے بہت اچھی سکھائی تھی، لیکن آج بگھار میں تم نے جو 'خاص محبت' ملائی ہے، اس نے سبزی کے اصل ذائقے کو ہی روپوش کر دیا ہے۔" عمرین ان تعریفی کلمات کو سندِ فضیلت سمجھ کر نہال ہوتی رہی اور دل ہی دل میں خود کو 'ماسٹر شیف' تصور کرنے لگی۔ اسے گمان تھا کہ کچن کے معاملات بھی ریاضی کے فارمولوں کی طرح سیدھے ہوتے ہیں۔ ایک ہفتہ گزر گیا اور ہر شام اسی قسم کے شگفتہ مکالموں کی نذر ہوتی رہی۔ ایک روز شوہر نے شرارت سے پوچھا، "عمرین! کیا آج بھی مینو میں امی جان کا نسخہ شامل ہے یا آپ نے کوئی نئی 'ایجاد' کی ہے؟" عمرین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "جی ہاں! نسخہ تو وہی ہے، بس میں نے ذرا اپنا خاص 'ٹچ' دیا ہے تاکہ بوریت نہ ہو شوہر نے جیسے ہی پہلا لقمہ منہ میں ڈالا، اس کا چہرہ یکدم مختلف رنگ بدلنے لگا، وہ ہکا بکا رہ گیا اور پھر اچانک اس کے قہقہوں سے پورا گھر گونج اٹھا۔ وہ اس قدر ہنسا کہ کرسی سے گرتے گرتے بچا، اور آنکھوں میں پانی آ گیا۔ عمرین حیرت سے کہنے لگی، "آخر میری محنت پر یہ ہنسی کا طوفان کیوں؟" شوہر نے ہنستے ہنستے بمشکل کہا، شوہر نے ہنسی روکتے ہوئے کہا، "عمرین! کمال کر دیا، تم نے تو میٹھے اور نمکین کی صدیوں پرانی دشمنی ختم کروا دی، دال کے تڑکے میں نمک کی جگہ چینی جھونک دی ہے!" عمرین کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہو گیا، لیکن شوہر کی بے ساختہ ہنسی نے اسے بھی مسکرانے پر مجبور کر دیا۔ اس شور پر ساس صاحبہ بھی کچن کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے مسکرائیں اور مدبرانہ انداز میں بولیں، "بیٹی! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، انسان جتنا بھی بڑا علامہ بن جائے، اسے استاد کی رہنمائی اور بنیادی اصولوں کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔" شوہر نے ہنسی روکتے ہوئے تائید کی، "بالکل! یہ ہنسی تو ایک اتفاق ہے، لیکن زندگی کا سبق یہ ہے کہ جب ہم اپنی مہارت پر حد سے زیادہ غرور کرنے لگتے ہیں، تو نمک اور چینی کا فرق مٹ جایا کرتا ہے۔" اس شام کی ہنسی نے عمرین کو سمجھا دیا کہ سلیقہ مندی صرف ڈگریوں میں نہیں، بلکہ بڑوں کے تجربے، توجہ اور عاجزی میں چھپی ہے۔ وہ اسی لیے ہنسی تھی تاکہ عمرین کو بتا سکے کہ زندگی کے ذائقے صرف 'تخلیقی ٹچ' سے نہیں، بلکہ صحیح توازن اور سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنے سے بنتے ہیں۔ آخر میں، عمرین مسکرا کر بولی؛ ساس اور شوہر کی طرف دیکھ کر، "بیٹی، کل کیا بناؤں گی، عمرین؟" شوہر نے مسکراتے ہوئے کہا، "میٹھا یا کھٹا؟" اور یوں، ایک نئی روایت کا آغاز ہوا، جہاں ہر ذائقہ اپنے تجربے اور محبت سے جڑا ہوا تھا، اور عمرین کا یہ چھوٹا سا تخلیقی انداز اس کے سسرال میں تعلقات کو مزید خوشگوار بناتا گیا۔
Comments
Post a Comment