محمد بن قاسم سے بہادر شاہ ظفر تک ‘- تاریخ سے لبریز معلوماتی کتاب (ایک جائزہ)عرفان افضل
محمد بن قاسم سے بہادر شاہ ظفر تک ‘- تاریخ سے لبریز معلوماتی کتاب (ایک جائزہ)
عرفان افضل - 8618967693
آج کے دور میں جہاں کتابیںکتب بینی یا کتابوں سے رغبت کا فقدان پایا جاتا ہے اور آج کل ادباء و شعرا جہاں پہلے شرقی لگاتے تھے اب مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے ذریعہ پہلے پہل کچھ شعر یا مضمون اور آگے چل کر غزل اور پھر ناول اور اسی طرح تاریخی معلومات کو یکجہ کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ۔ وہاں ایک استاذ کو اپنے شاگردوں کی تاریخ سے لاعلمی نے اس قدر بے چین کیا کہ انہوں نے ایک تاریخی باب کو تاریخی کتاب کی شکل میں مرتب کرنے کی دھن پال لی۔ تقریباً ایک دہائی کی سوچ و فکر اور جد و جہد نے آفتاب عالم شاہ نوری کو ’’محمد بن قاسم سے بہادر شاہ ظفر تک -مسلمانوں کا عروج و زوال‘‘ رقم کرنے شرف حاصل ہوا۔ کتاب کو عام فہم صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ سرورق سادہ لیکن جاذب اور دلکش ہے۔ اور عنوان کو خوبصورت بنانے کے لئے کمپوٹر فائونٹ کا خوب استمال کیا گیا ہے (اردو کتابوں کے صفحہ اول پر یہ بہت کم ہی نظر آتا ہے۔) مصنفین صفحہ اول کو نیا رنگ دینے کے چکر میں عجیب عجیب حرکت کر جاتے ہیں لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا ہے جس پر میں آفتاب عالم صاحب کو دلی مبارکباد پیش کروں گا۔ عام کتابوں کی طرح اس کتاب کا آغاز کتاب کی مختصر تفصیلات پھر فہرست اور انتساب سے ہوتا ہے۔محرخ (آفتاب صاحب کی کتاب پڑھنے کے بعد انہیں محرخ کہنا غلط نہیں ہوگا اگر یہ غلط ہے تو میں معذرت خواہ ہوں ) نے کتاب کو اپنے 8 سالہ محمد تمیم پٹیل زادے کے نام تابناک مستقبل کی خواہش کے ساتھ منسوب کیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے ’اپنی بات‘ میں 2014 میں اپنی اسکول میں طلباء کے ساتھ پیش آئے اس واقعہ کو رقم کیا ہے جس نے آپ کو یہ کتاب رقم کرنے کی ترغیب دی۔ جہاں آپ نے کتاب کے مضامین کو یکجا کرنے سے آن لائن جمع کرنے تک کی تفصیلات سے آگاہ کروایا ہے۔ جو دوسروں کو تقلید کرنے کی سیعی کرتی ہے۔کتاب محمد بن قاسم کے تعلق سے غلط فہمیوں اور پھر راجا دہر پر حملے کی وجہ اس کے بعد امیر ناصر الدین سبکتگین سے لے کر بہادر شاہ ظفر اور پھر غدرِ ہند 1857 کی ہندوستانی واقعات سے بھر مار تاریخ کو بھر پور معلوماتی اور ٹھوس حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ آفتاب صاحب نے ایک ہزار سال کی مسلم حکمرانوں کی تاریخ کو اس طرح قلم بند کیا ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں ’’آپ نے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے‘‘۔ منیر احمد جامیؔ صاحب جیسی شخصیت کے فکری و طلسماتی ادبی نکات اور مشوروں نے کتاب کی اہمیت میں چار چاند لگا دئے ہیں۔ کتاب میں اردو کے دیگر مایہ ناز اور قابل احترام شخصیات نے اپنی آرا اور دعائوں سے آفتاب صاحب کی کتاب کو اور اہم بنا دیا ہے ، جو دیگر قلمکاروں کے لئے قابلِ رشک ہو سکتی ہے ۔ یقینا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب کتنی مستند اور معلوماتی ہے۔ کل 184 صفحات پر مشتمل یہ تاریخی معلومات سے بھر پور خزانہ صرف 240 روپئوں میں آفتاب صاحب سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ کل ملا کر یہ کتاب صرف کتب خانوں کی رونق نہیں بلکہ اسکولوں کے نصاب میں شامل ہونے کے لئے بھی بالکل تیار مواد فراہم کرتی ہے۔ میں آفتاب عالم شاہ نوری صاحب کو اپنی جانب سے دلی مبارکباد کے ساتھ نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے اس کتاب کو خرید کر پڑھنے کی گذارش ضرور کرتا ہوں۔
Comments
Post a Comment