شدید گرمی اور ہماری ذمہ داری۔۔ ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
شدید گرمی اور ہماری ذمہ داری۔
ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
گرمی کا موسم شروع ہے ہر سال کی طرح امسال بھی موسم شروع ہے مگر امسال گرمی میں اضافہ ہونے کے امکانات کے نہ صرف اعلانات ہورہے ہیں بلکہ تپیش میں اضافہ ہوچکا ہے مزید
آئندہ ہفتے شدید گرمی بڑھنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی تدابیر بھی بتائی جارہی ہیں عوام الناس بالخصوص بچے بڑھوں اور مریضوں کو خبردار کیا جارہا ہے ایسے میں جہاں انسان اپنے تحفظ کے لیے مختلف تدابیر اختیار کرتا نظر آتا ہے، وہیں ہمارے اردگرد موجود بے زبان یا غیر زبان مخلوق؛ چاہے وہ پالتو جانور ہوں یا جنگلی,ایک انسان ہونے کے ناطے ہماری توجہ اور ہمدردی کی زیادہ مستحق ہوتی ہے۔مزہب اسلام ہمیں نہ صرف انسانوں بلکہ تمام جانداروں کے ساتھ بھی رحم و کرم کا درس دیتا ہے۔پیارے نبی جناب حضرت محمد ﷺ نے جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔کئی واقعات میں آتا ہے کہ ایک پیاسی کتیا کو پانی پلانے پر ایک گناہگار عورت کی مغفرت ہو گئی، جبکہ ایک بلی کو بھوکا رکھنے والی عورت عذاب کی مستحق ٹھہری۔ یہ واقعات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام میں جانوروں کے حقوق کس قدر اہم ہیں۔ شدید گرمی کے اس موسم میں ہمیں چند آسان مگر مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں:
اپنے گھروں کے باہر اور چھت پر پرندوں اور جانوروں کے لیے پانی کے برتن رکھیں۔
پالتو جانوروں کو دھوپ سے بچانے کے لیے سایہ دار جگہ فراہم کریں۔انہیں مناسب خوراک اور ٹھنڈا پانی باقاعدگی سے دیں۔ سڑکوں پر موجود جانوروں کو ممکن ہو تو پانی اور خوراک فراہم کریں۔
قرآن مجید میں بھی تمام مخلوقات کو اللہ کی نشانیاں قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ نرمی اور شفقت برتنا دراصل خالق کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بے زبان یا غیر زبان مخلوق کی تکلیف ہم ان کی زبانی سمجھ نہیں سکتے ان کے انداز بیان کے طریقے اور کچھ ہیں۔ مگر ان کی خدمت اور دیکھ بھال ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن سکتی ہے۔ آئیے، اس شدید گرمی میں اپنے دلوں کو نرم کریں اور ان معصوم جانوں کے لیے آسانی کا سبب بنیں۔درختوں چھتوں، چھاؤں میں جھولہ نما رسیاں لگاۓ ذیادہ شورشرابا نہ کریں یہ بھی خدمت کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ ہے ۔
Comments
Post a Comment