اسرائیل پر فطرت کا حملہ: مکھیوں کی یلغار اور خوف کا سایہ - (مذہبی اضطراب کی لہر: کیا یہ مکھیوں کا حملہ الہامی عذاب ہے؟)۔ ازقلم : اسماء جبین فل۔
اسرائیل پر فطرت کا حملہ: مکھیوں کی یلغار اور خوف کا سایہ -
(مذہبی اضطراب کی لہر: کیا یہ مکھیوں کا حملہ الہامی عذاب ہے؟)
ازقلم : اسماء جبین فل۔
نیگب کے تپتے ریتیلے دامن میں جہاں آئرن ڈوم آسمان کا خود ساختہ نگہبان بن کر کھڑا ہے 15 اور 16 اپریل 2026 کو ایک سیاہ اور بھنبھناتا طوفان اٹھا۔ لاکھوں شہد کی مکھیوں کا دیوہیکل جھنڈ ایسے ٹوٹ پڑا جیسے فرعون کی ہڈیوں سے نکلا ہوا فطرتی غضب کا لشکر نتیووت شہر کے تجارتی مراکز، رہائشی گلیوں اور بازاروں پر اس طرح حملہ آور ہوا جیسے وہ غرور کی خود ساختہ سلطنت کی دیواریں چاٹنے کو بے تاب ہو۔ روشنی مدھم پڑ گئی، سڑکوں پر موت کا سناٹا چھا گیا اور دروازے مضبوطی سے بند کر دیے گئے۔ مقامی حکام کی لرزتی آواز گونج اٹھی کہ گھروں میں قید رہو اور دروازے کھڑکیاں بند رکھو۔ عام ہوابازی معطل کر دی گئی جبکہ ویڈیوز سماجی ذرائع ابلاغ پر پچاس لاکھ مرتبہ دیکھی گئیں جیسے یہ کسی ممنوعہ فطرتی عہد کی فلم کا تعارفی خاکہ ہو۔ کیا اربوں ڈالر کے میزائلوں کو نگل لینے والا آئرن ڈوم ایک کیڑے کے جھنڈ سے بچا سکتا ہے؟ یہ محض بہار کی ہجرت نہیں تھی بلکہ یہ تو کائناتی عدل کی تلوار تھی جو اسرائیل کے زعم خودمختاری کو چیرتی ہے، غزہ کی 40479 فلسطینی لاشوں کی دردناک چیخ کو گونجتی ہے اور بائبل عزیز کی کتاب خروج کو زندہ کر دیتی ہے جہاں اللہ نے موسیٰ سے فرمایا کہ اگر نافرمانی کی تو مکھیوں کا لشکر تیری سرحدوں پر چھا جائے گا۔
بدھ کی دوپہر سے جمعرات کی شام تک یہ سیاہ ہنگامہ خیز قالین نیگب کو لپیٹتا رہا جیسے کافکا کی کہانی مسخ میں کیڑا انسان کو نگل جاتا ہے اور یہاں کیڑا غاصب سلطنت کو کیڑا بنا دیتا ہے۔ عینی شاہدین کی لرزتی آوازیں گونجتی رہیں کہ مکھیاں عمارتوں پر چپک گئیں، گاڑیوں کے شیشوں پر سیاہ رقص کرتی رہیں اور ہوا میں جان کی رگ چیرتا آہنگ پھیلا رہا۔ بلدیاتی ٹیمیں بے بس ہو کر فاصلہ رکھنے کی تنبیہ کرتی رہیں جبکہ ماہرین حشرات کی سرد منطق بہار کی گرم لہروں، پھولوں کی مہک اور موسمی ہجرت کو مورد الزام ٹھہراتی ہے جیسے برطانیہ کے سرسبز کھیتوں میں ہزاروں کی تعداد میں پرندوں کا ہجوم اچھلتا ہے۔ مگر سماجی ذرائع ابلاغ کا جادوئی جال اسرائیل میں مکھیوں کے طوفان کے پچاس لاکھ مناظر والے ہنگامے میں حقائق کو الہامی طنز کی چمکدار قید میں جکڑ لیتا ہے اور صارفین کتاب خروج اور یسعیاہ کے حوالوں سے چیختے ہیں جبکہ مارچ کا تل ابیب جو کوؤں کے سیاہ جھنڈ سے ڈھکا تھا اب مکھیوں سے جڑتا ہے۔ یہ ایک فطرتی تسلسل ہے جو اقبال کی خودی کے زوال کی مانند غزہ کی نسل کشی، مغربی کنارے کی 700000 غیر قانونی بستیوں اور نیتن یاہو کے عمالقہ والے خطاب کی تصویر پیش کرتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر کی روایت میں سورۃ الاسراء گونجتی ہے کہ اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے فیصلہ کر دیا کہ تم زمین میں دو بار فساد مچاؤ گے جس میں پہلا فساد بخت نصر کے ہاتھوں انجام کو پہنچا اور دوسرا رومی آگ میں تو کیا اب صیہونیت کی باری ہے؟
یہودی حلقوں میں یہ سیاہ ہنگامہ روحانی زخموں کو کریدنے لگا اور تل ابیب سے یروشلم کی پتھریلی گلیوں تک ایک داخلی نفسیاتی کشمکش شروع ہو گئی۔ کٹر یہودی صارفین تورات کی سطروں سے مسلح ہو کر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اب فرعون ہم ہیں؟ مسجد اقصیٰ پر قبضہ، فلسطینی گھروں پر بلڈوزر اور غزہ پر ماہانہ 1.6 بلین ڈالر کی بمباری جیسے زمینی فساد کی تصویریں سورۃ الاسراء کی پیش گوئی کو زندہ کرتی ہیں کہ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آئے گا تاکہ وہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں۔ روشن خیال یہودی سائنس کی پناہ میں اسے محض موسم بہار کہتے ہیں جو ایک متضاد آواز ہے اور داخلی کشمکش کو عیاں کرتی ہے کہ خدا کی چنی ہوئی قوم کا دعویٰ فلسطینی بچوں کے لہو کو کیسے جائز ٹھہراتا ہے؟ یہودی علما کی مقبول تحریریں توبہ کی پکار لگاتی ہیں جبکہ فلسطینی سماجی ذرائع ابلاغ اسے فطرتی انتفاضہ قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک کثیر الجہتی طنز ہے جہاں مظلوم کی چیخ کیڑوں کی بھنبھناہٹ بن جاتی ہے اور ہولوکاسٹ کی یادیں ناکبہ کی راکھ سے ٹکراتی ہیں۔ نفسیاتی زاویے سے یہ اجتماعی صدمے کا ایک ایسا نفسیاتی نمونہ ہے جہاں جنگ زدہ معاشرے کا تاریک پہلو کیڑوں کی شکل میں ابھرتا ہے اور امریکی 3.8 بلین ڈالر سالانہ امداد کے نشے میں چور سلطنت کیڑوں سے خوفزدہ کھڑی ہے۔
عیسائی حلقوں میں انجیلی آگ اور قدامت پسند شمعوں کی روشنی میں یہ خبر ایک الہامی شعلہ بن گئی۔ ناصرہ کے صارفین حزب اللہ کے راکٹوں کی تازہ راکھ میں مکھیوں کو کتاب مکاشفہ کی پانچویں مہر سے جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسیٰ کے شہر پر حملے کے بعد اب کیڑوں کا غضب نازل ہوا ہے۔ امریکی مبلغین اپنی نشریات پر چیختے ہیں کہ مسیحا قریب ہے مگر توبہ لازمی ہے۔ جنوبی گرجا گھروں میں دعائیں تیز ہو گئیں اور خدا کا غضب اسرائیل پر کے عنوان سے یہودی اور عیسائی ہم آہنگ ہو گئے۔ یہ ایک عجیب اتحاد ہے جو بائیکاٹ کی تحریک کو ہوا دیتا ہے جہاں یورپ سے بنگلہ دیش تک اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ زور پکڑ رہا ہے۔ تنقیدی طنز یہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا 26 جنوری 2024 کا ممکنہ نسل کشی کا فیصلہ اور اقوام متحدہ کی تنقید اب فطرتی ردعمل سے تقویت پاتی ہے۔ مغربی طاقتوں کا خود دفاع کا بیانیہ کیڑوں کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے جہاں زکریاہ کی یہ پیش گوئی کہ میں تمام قوموں کو یروشلم پر اکٹھا کروں گا ان کیڑوں کے جھنڈ میں زندہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
2026 کی ایران جنگ جو فروری کی لاشوں سے بھڑکی آگ، حوثیوں کی بحیرہ احمر پر ناکہ بندی کی زنجیروں، حزب اللہ کے راکٹوں کی شعلہ باری اور ایران کے میزائلوں کی تیز دھار سے مل کر اس فطرتی طنز کو ایک عظیم الشاعرانہ آئینہ بنا دیتی ہے جہاں آئرن ڈوم اپنے اربوں ڈالر کے فخر سے میزائل تو نگل لیتا ہے مگر ایک ادنیٰ کیڑے کے جھنڈ کے سامنے ذلیل و رسوا کھڑا ہے۔ صحافتی نظر سماجی ذرائع ابلاغ کی اجالتی تلوار دکھاتی ہے جہاں افواہوں کی پرجوش پرواز حقائق کو عقیدے کی چمکدار قید میں جکڑ لیتی ہے اور ماہرین نفسیات کی یخ بستہ منطق جنگ زدہ نفسیات کے شعلوں سے ٹکراتی ہے جیسے کامو کی بے معنویت میں کیڑا انسانی وجود کی رگیں چیرتا ہو۔ قدیم مصر کی وہ سیاہ رات جب مکھیاں فرعون کے محلات پر مسلط ہوئیں، بخت نصر کی تیز تلواریں اور رومی آگ کے شعلے یہ سب گواہی دیتے ہیں کہ فطرتی آفات نے ہمیشہ متکبر غاصبوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ یہ محض کیڑوں کی بھنبھناہٹ کی داستان نہیں بلکہ صیہونیت کے زوال کی آسمانی گواہی ہے جہاں غرور جابر کی دیواریں سیاہ لشکر فطرت چاٹ جائے گا، فلسطین کی صبح آزادی سرخ کرنوں سے طلوع ہوگی اور مظلوم مسلمانوں کی صدیوں پرانی چیخ حق فطرتی بھنبھناہٹ میں فتح کا عظیم الشان گیت بن جائے گی۔
Comments
Post a Comment