ایس ایس ایل سی نتائج — لڑکوں کا پلڑا بھاری۔ کامیابی کا جشن ہے — مگر بچے کا مستقبل کہاں ہے۔ از قلم : جمیل احمد ملنسار۔


ایس ایس ایل سی نتائج — لڑکوں کا پلڑا بھاری۔ کامیابی کا جشن ہے — مگر بچے کا مستقبل کہاں ہے۔
از : جمیل احمد ملنسار۔

ہر سال نتائج کا دن آتا ہے۔ اخباروں میں سرخیاں سجتی ہیں، وزیر صاحبان مبارکباد دیتے ہیں، اسکولوں کے باہر بینر لہراتے ہیں۔ ماحول میں ایک خوشی کا شور ہوتا ہے۔ مگر اس شور کے نیچے ایک سوال دبا رہتا ہے — خاموش، بے چین، اور جواب کا منتظر۔ کیا واقعی کچھ بدلا؟ کیا بچہ کچھ سیکھا؟ یا ہم نے بس ایک اور فیصد کا ریکارڈ توڑ دیا اور آگے بڑھ گئے؟

اس سال کرناٹک میں پاس کا فیصد ۹۴.۱۰ رہا۔ ریاست کی تاریخ میں یہ سب سے اونچا ہندسہ ہے۔ سننے میں اچھا لگتا ہے — بلکہ بہت اچھا لگتا ہے۔ مگر جب ایک لمحے کو رک کر سوچتے ہیں تو ذہن میں کچھ کھٹکتا ہے۔
کیا واقعی ہمارے بچے اتنے بہتر ہو گئے؟ یا ہم نے پاس کروانے کو اتنا آسان بنا دیا کہ فیل ہونا ہی مشکل ہو گیا؟ یہ سوال تلخ ہے، مگر اسے پوچھنا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر فیصد بڑھانا ہی مقصد بن جائے تو تعلیم کا مقصد کہیں پیچھے چھوٹ جاتا ہے۔

یس نمبر کی سرکاری مہربانی : محکمۂ تعلیم کرناٹک نے ہدایت دی کہ تقریباً تمام طلباء کو ۲۰ داخلی نمبر دیے جائیں۔ استادوں کو کہا گیا، اسکولوں کو پابند کیا گیا۔ کارکردگی دیکھنے کی ضرورت نہیں — بس نمبر دے دو۔

یہ استاد کے ساتھ زیادتی ہے۔ وہ شخص جس نے پوری زندگی اس بات کو اہمیت دی کہ بچہ سچ میں سمجھے — اسے کہا جا رہا ہے کہ سمجھے یا نہ سمجھے، نمبر دو۔ اور یہ بچے کے ساتھ بھی بے انصافی ہے۔ جو کمزور ہے، اسے اس کی کمزوری کا علم ہی نہیں ہوگا۔ وہ آگے بڑھتا جائے گا — بنیاد کے بغیر، منزل کے بغیر۔


پاس ہونے والوں میں سے صرف ۲۷ فیصد طلباء نے A یا A+ گریڈ حاصل کیا۔ تہتر فیصد B، B+، C یا C+ پر ہیں۔ یہ اعداد کچھ کہہ رہے ہیں — اگر ہم سننا چاہیں۔

No Detention Policy نے بچوں کو فیل ہونے سے بچایا — یہ سچ ہے۔ مگر کیا اس نے انھیں سیکھنے پر بھی مجبور کیا؟ نہیں۔ بچہ جماعت در جماعت آگے بڑھتا گیا، بغیر اس بات کے کہ اسے واقعی اگلی جماعت کا حق ملا ہو۔ ماہرین برسوں سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ یہ پالیسی بچے کی ناکامی کو ڈھانپتی ہے، مٹاتی نہیں۔ اور آج کے اعداد اسی حقیقت کا آئینہ ہیں۔

جب معیار گرتا ہے تو سب کی نظر کسی اور پر ہوتی ہے۔ اسکول کہتا ہے حکم اوپر سے آیا تھا۔ استاد کہتا ہے مجھے مجبور کیا گیا۔ پالیسی ساز کہتے ہیں یہ بچوں کی بھلائی تھی۔ اور بچہ؟ وہ خاموش کھڑا ہے — نہ کسی نے اس سے پوچھا، نہ اس کی سنی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب نظام میں جوابدہی نہ ہو تو غلطی کا بوجھ سب سے کمزور کندھے پر آ گرتا ہے — اور وہ کندھا اس بچے کا ہوتا ہے جو بس سیکھنا چاہتا تھا۔ معیاری تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ اسکول، استاد اور پالیسی ساز تینوں مل کر ذمہ داری قبول کریں — نہ کہ یہ ثابت کریں کہ قصور کسی اور کا ہے۔

دسویں جماعت کسی بچے کی تعلیمی زندگی کا وہ موڑ ہے جہاں وہ پہلی بار خود فیصلہ کرتا ہے — میں کون ہوں، میں کیا بننا چاہتا ہوں؟ سائنس لوں یا آرٹس؟ آگے پڑھوں یا کچھ اور کروں؟ اگر اس موڑ پر اس کی بنیاد کمزور ہو تو آگے کا سفر چاہے جتنا بھی شاندار لگے — اندر سے کھوکھلا رہتا ہے۔ فیصد بڑھانے کی دوڑ میں ہم بچوں کو وہ ٹھوس بنیاد نہیں دے رہے جس کی انھیں زندگی بھر ضرورت ہوگی۔ یہ صرف ایک امتحان کا سوال نہیں — یہ ایک پوری زندگی کی سمت کا سوال ہے۔

کرناٹک آج ملک کا ایک بڑا تعلیمی مرکز ہے — بنگلور سے لے کر میسور تک، ہر طرف اسکول اور کالج کھلے ہیں۔ مگر ان میں سے بہت سے ادارے تعلیم نہیں، نتائج بیچتے ہیں۔ "ہمارے ۱۰۰ فیصد طلباء کامیاب!" — یہ نعرہ اب تعلیم کا اشتہار بن گیا ہے۔ والدین کو متاثر کیا جاتا ہے، داخلے بڑھتے ہیں، فیسیں آتی ہیں۔ مگر جب کوئی ادارہ بچے کی کامیابی کو اپنی مارکیٹنگ کا ہتھیار بنا لے تو وہ تعلیم دینا بند کر دیتا ہے — بس فیصد پیدا کرتا ہے۔ اس چکر میں سب سے زیادہ نقصان اس بچے کو ہوتا ہے جو سچ میں کچھ سیکھنا چاہتا تھا۔

تعلیم کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ کتنے بچے پاس ہوئے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ انھوں نے کتنا سیکھا، کتنا سمجھا، اور وہ زندگی میں کتنے تیار ہیں۔ جب ہم فیصد کو مقصد بنا لیتے ہیں تو تعلیم ایک رسم بن جاتی ہے — ادا کرنے کی، جینے کی نہیں۔

اور No Detention Policy کے بارے میں یہ بات بالکل سیدھی ہے: بچے کو فیل نہ کرنا اور بچے کو سکھانا — یہ دو الگ کام ہیں۔ جب پالیسی استاد کی زبان بند کر دے، جب کمزوری کو خاموشی سے ڈھانپ دیا جائے، جب بچے کی ناکامی کو سرکاری کاغذ پر کامیابی میں بدل دیا جائے — تو تدریس اپنی روح کھو دیتی ہے۔ تعلیم وہی ہے جو بچے کے اندر روشنی جلائے۔ جو بچے کو سوچنا سکھائے۔ جو اسے یہ ہمت دے کہ وہ غلط ہو سکتا ہے — اور غلطی سے سیکھ سکتا ہے۔ محض ایک کاغذ پر پاس کی مہر لگانا — یہ تعلیم نہیں، یہ تعلیم کا دھوکہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔