بھارت کا وشو گرو بیانیہ: حقیقت یا سراب؟ (عالمی قیادت کے دعوے اور زمینی حقائق کا تضاد)۔ بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔


بھارت کا وشو گرو بیانیہ: حقیقت یا سراب؟
 (عالمی قیادت کے دعوے اور زمینی حقائق کا تضاد)
بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔


ایک ایسے استاد کا تصور کریں جو شہر کے مرکزی چوک میں سونے کی تختی لٹکاتا ہے کہ یہاں علم کا سرچشمہ ہے، یہاں سے پانی پینے والا پوری دنیا کو سیراب کر دے گا۔ مسافر دور دراز سے آتے ہیں، متاثر ہوتے ہیں، دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں مگر اندر پہنچ کر دیکھتے ہیں کہ درسگاہ میں صرف چند منتخب شاگرد پہلی قطار میں بیٹھے ہیں، باقی سب صحن میں کھڑے انتظار کر رہے ہیں، اور استاد خود بیرونی دنیا کو اپنی تختی کی چمک دکھانے میں مصروف ہے۔ یہ تصویر صرف تخیل نہیں، بلکہ گزشتہ 12 سالوں میں بھارت کے "وشو گرو" یعنی دنیا کے استاد بننے کے بیانیے کی زندہ تصویر ہے۔ یہ ایک ایسا سراب ہے جو دور سے دیکھنے پر مسحور کر لیتا ہے مگر قریب جاکر ہر شے بکھر جاتی ہے، اور ہر انتخابی موسم میں اسے نئے جھنڈوں، نعروں اور تقریروں سے سجایا جاتا ہے۔ یہ تختی، یہ خالی صحن اور یہ منتظرانہ خاموشی اس تجزیے کے آخری الفاظ تک آپ کے ذہن میں نقش رہے گی۔
سنہ 2014 میں جب نریندر مودی نے 3 بار وزارتِ عظمیٰ کا قلعہ فتح کیا تو انہوں نے محض ایک انتخابی فتح حاصل نہیں کی تھی، بلکہ ایک عظیم قومی بیانیہ تعمیر کیا تھا جو بھارت کی قدیم تہذیبی عظمت کو عصری عالمی طاقت کے ساتھ جوڑتا تھا اور وہ وشو گرو یعنی وہ عظیم استاد تھا جو نہ صرف بھارت بلکہ پوری انسانیت کو راہ دکھائے گا۔ اس بیانیے کے ستون یوگا سفارت کاری، آیوروید کی عالمی تشہیر، اقوامِ متحدہ کی طرف سے 21 جون کو بین الاقوامی یومِ یوگا کا اعلان، اور 2023 کی جی 20 صدارت پر قائم تھے، ہر موقع کو اس بیانیے کی دلیل بنا دیا گیا کہ بھارت محض ایک ترقی پذیر ملک نہیں بلکہ ایک تہذیبی رہنما ہے۔ پیو تحقیقی مرکز کے 2023 کے وسیع سروے نے اس بیانیے کی اندرونی طاقت کو ثابت کیا جہاں 24 ممالک اور 30860 افراد سے کیے گئے جائزے میں 97 فیصد بھارتیوں نے مودی پر مثبت رائے ظاہر کی اور 68 فیصد نے یہ محسوس کیا کہ ان کا ملک عالمی سطح پر مضبوط ہو رہا ہے۔ یہ اعداد کوئی معمولی اعدادوشمار نہیں بلکہ ایک قومی شعور کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بھارتی عوام نے وشو گرو کے بیانیے کو اپنا لیا، یہ قبولیت محض سیاسی نہیں بلکہ نفسیاتی اور ثقافتی تھی جو بھارت کی صدیوں پرانی رشی بھومی کی یاد کو عصری فخر سے ملاتی تھی۔
مگر وہی پیو سروے جو اندر کی تصویر کشی کرتا ہے باہر کی تصویر بھی پیش کرتا ہے اور یہ تضاد دلچسپ ہے کہ 12 ممالک میں کیے گئے اعتماد کے جائزے میں صرف 37 فیصد نے مودی پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ 40 فیصد نے عدم اعتماد کا اعلان کیا، یہ اعداد بتاتے ہیں کہ وشو گرو کا بیانیہ بھارت کے اندر تو ایک قومی مذہب بن چکا مگر عالمی سطح پر یہ ابھی بھی ایک متنازع دعویٰ ہے۔ برانڈ فنانس کے عالمی سافٹ پاور انڈیکس 2025 نے اس خلیج کو اور واضح کر دیا کہ بھارت 19.8 اسکور کے ساتھ 30ویں نمبر پر ہے اور یہ پوزیشن گزشتہ سال کے 19ویں نمبر سے نیچے آ گئی جبکہ امریکہ، چین، برطانیہ، جرمنی، جاپان سافٹ پاور میں سبقت لے گئے، لووی انسٹیٹیوٹ کے ایشیا پاور انڈیکس 2025 میں بھارت ایشیا میں دوسرے نمبر پر ضرور ہے مگر عالمی طاقت کے مجموعی جائزے میں ابھی ترقی کی راہ پر ہے، یہ اعداد کوئی ذاتی رائے نہیں بلکہ عالمی ماپنے کے پیمانوں کا نتیجہ ہیں کہ وشو گرو بننے کا دعویٰ تب تک مکمل نہیں جب تک عالمی شعور اسے تسلیم نہ کرے اور یہ تسلیم ابھی نہیں ہوا۔
اب آتے ہیں سب سے اہم محاذ کی طرف، معیشت جو کسی بھی عالمی طاقت کا اصلی ستون ہوتی ہے، آئی ایم ایف کے عالمی اقتصادی منظرنامے اپریل 2026 نے بھارت کو دنیا کی تیز ترین بڑی معیشت قرار دیا کہ 2025-26 میں 17 فیصد اور 2026-27 میں 36 فیصد کی شرحِ نمو کے ساتھ جبکہ گولڈمین سیکس نے 2026 میں 6.9 فیصد کا تخمینہ لگایا، یہ اعداد قابلِ فخر ہیں اور ان کا احترام کرنا ضروری ہے کہ بھارت نہ صرف دوڑ رہا ہے بلکہ سب سے آگے دوڑ رہا ہے مگر اسی آئی ایم ایف رپورٹ کا دوسرا صفحہ ایک مختلف حقیقت بولتا ہے کہ مجموعی ملکی پیداوار کے کل حجم کے اعتبار سے بھارت چھٹے نمبر پر ہے 4.15 ٹریلین ڈالر کے ساتھ جبکہ برطانیہ 4.622 ٹریلین ڈالر کے ساتھ آگے ہے اور جرمنی، جاپان، چین، امریکہ یہ پانچوں ممالک بھارت سے بڑے ہیں، یہ تضاد وشو گرو بیانیے کا سب سے بڑا امتحان ہے کہ تیز ترین نمو کے باوجود ابھی چھٹا نمبر، تیز دوڑنا طاقت ہے مگر پیچھے رہ جانا خامی بھی۔
تیز ترقی کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ ترقی کس تک پہنچ رہی ہے اور عالمی عدم مساوات کی رپورٹ 2026 اس سوال کا سب سے واضح جواب دیتی ہے کہ بھارت دنیا کے سب سے غیر مساوی ممالک میں سے ایک ہے جہاں اوپر کے 10 فیصد لوگ 28 فیصد قومی آمدنی لے جاتے ہیں نچلے 50 فیصد کو صرف 15 فیصد ملتا ہے اور سب سے اوپر کا 1 فیصد 40 فیصد قومی دولت کا مالک ہے جبکہ یو بی ایس کی عالمی دولت کی رپورٹ 2025 بھارت کا ضریبِ گنی 0.74 بتاتی ہے جو امریکہ کے برابر ہے اور دنیا کے 8 سب سے غیر مساوی ممالک میں شمار ہوتا ہے، یہ اعداد کوئی تجرید نہیں بلکہ انسانی المیے ہیں کہ جب ترقی صرف چند لوگوں تک محدود رہے تو وشو گرو کا دعویٰ ایک مذاق بن جاتا ہے، آئی ایم ایف اپریل 2026 کے مطابق 2026 میں بنگلہ دیش کی فی کس مجموعی ملکی پیداوار بھارت سے آگے نکل جائے گی اور یہ محض اعداد کا معاملہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی شرمندگی ہے کہ 1971 میں آزاد ہونے والا ہمسایہ ملک اب اوسط بھارتی شہری سے آگے نکل رہا ہے۔
رامچندر گوہا نے اسکرول ڈاٹ اِن اگست 2024 میں بالکل واضح لفظوں میں کہا کہ بھارت کے دنیا کی قیادت کے دعوے فضول خیالات ہیں اور جو ملک اپنے کروڑوں شہریوں کو بنیادی تعلیم، صحت، اور انسانی وقار نہ دے سکے وہ عالمی استاد کیسے بنے گا، کورونا کی دوسری لہر نے اس سوال کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جب دہلی، لکھنؤ، پٹنہ کے ہسپتالوں کے باہر آکسیجن کی قلت سے لوگ دم توڑ رہے تھے اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں نے پی ایم کیئرز فنڈ سے ملنے والے وینٹیلیٹرز کو ناقص اور غیر فعال قرار دیا، تعلیم کا حال بھی اتنا ہی افسوسناک ہے کہ پیریڈک لیبر فورس سروے 2022-23 کے مطابق 15 سال سے زائد عمر میں خواندگی کی شرح 77.7 فیصد ہے مگر دیہی اور شہری علاقوں میں واضح فرق موجود ہے اور اثر 2023 رپورٹ بتاتی ہے کہ 5ویں جماعت کے بچوں میں سے صرف 76 فیصد سادہ تقسیم کر سکتے ہیں، یہ اعداد وشو گرو کے لیے کوئی شگون نہیں لاتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود بھارتی قیادت نے اس بیانیے میں خاموش تبدیلی کی ہے کہ وشو گرو کی جگہ اب وشو مترا یعنی دنیا کا دوست کا لفظ زیادہ سنائی دیتا ہے اور لووی انسٹیٹیوٹ اپریل 2026 کا تجزیہ کہتا ہے کہ یہ موعظت کرنے سے شراکت داری کی طرف ایک حقیقت پسندانہ قدم ہے، یہ تبدیلی ایک اقرار ہے کہ استاد بننا مشکل ہے تو دوست بن جائیں مگر دوست ہونا بھی بڑا مقام ہے اور بھارت کے پاس اس کی صلاحیت ہے، بھارت مایوس ہونے والا ملک نہیں کہ 17 کروڑ نوجوان اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور 74 فیصد آبادی چوتھائی صدی کی عمر سے کم ہے جبکہ اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی افرادی قوت، تیز ترین مجموعی ملکی پیداوار کی نمو، اور بے مثال تہذیبی ورثہ ہے، ڈیجیٹل انڈیا، یو پی آئی، چندریان یہ وہ نشانیاں ہیں جو بھارت کو منفرد بناتی ہیں۔
مگر وشو گرو کا تاج بلند آوازوں، چمکدار تختیوں، یا عظیم تقریروں سے نہیں ملتا، یہ تب ملتا ہے جب ہر شہری دیہی کسان سے لے کر شہری مزدور تک علم کی روشنی، روزگار کا یقین، اور انصاف کا احساس لے کر گھر لوٹے، جب درسگاہ کا صحن خالی ہو جب پہلی قطار کے علاوہ باقی سب انتظار میں کھڑے ہوں تو چاہے تختی سونے کی ہو وہ محض ایک شاندار اشتہار ہے گرو کا ثبوت نہیں، حقیقی استاد کو اشتہار کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے شاگرد خود چل کر آتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ