بسونا۔ لنگایت دھرم کے بانی اور کنڑی زبان کے مصلح شاعر۔۔ ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔


بسونا۔ لنگایت دھرم کے بانی اور کنڑی زبان کے مصلح شاعر۔
ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔
 موبائل:9845628595 
 
 ایچ تپے رُدرے سوامی کی ساہتیہ اکیڈمی دہلی کی جانب سے 1975؁ء میں ایک انگریزی کتاب ”بسویشور“ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کے آخری صفحہ پر ساہتیہ اکیڈمی نے بسویشورکاتعارف کراتے ہوئے لکھاہے کہ ”بسویشور جنہیں بسونّا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ہندوستان کے عظیم روحانی پیشواؤں میں سے ایک ہیں۔ ایک انقلابی سنت، کنڑ زبان کے عظیم شاعر، معروف صوفی اور ایک سرگرم سماجی مصلح کے طور پر، انہیں کرناٹک میں ایک نئے دور کا پیغامبر قرار دیا جاتا ہے۔تقریباً 1131عیسوی میں ایک خوشحال برہمن خاندان میں پیدا ہونے والے سنت بسویشور نے ویدوں، اپنشدوں، پرانوں اور دیگر مذہبی کتب کا مطالعہ کیا لیکن ان کی زندگی بھر کی جدوجہد ذات پات کی تفریق کو ختم کرنا تھی۔ انہوں نے عام آدمی اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کو روحانی معرفت کی بلندیوں تک پہنچایا“
 ان کی معروف کنڑی صنف”وچن“کے بارے میں اکیڈمی آگے لکھتی ہے کہ ”وچن“ (Vachana) جس کا لفظی مطلب نثر (دیگر معنی بھی ہوسکتے ہیں)ہے، بسویشور کے ہاتھوں ایک نئی توانائی کے ساتھ ابھرا۔ انہوں نے کنڑ ادب میں ہیئت (صنف) اور مواد دونوں لحاظ سے انقلاب برپا کیا۔ ان کی شاعری دراصل زندگی کی شاعری ہے۔ اکیڈمی پہلے ہی بسویشور کے منتخب ”وچنوں“ کو کنڑ میں شائع کر چکی ہے“
 ایچ تپے رُدراسوامی نے مذکورہ کتاب میں ”ایک عظیم شاعر“ عنوان کے تحت لکھاہے ”ایک مشہور قول کچھ یوں ہے”عظیم لوگ نایاب ہوتے ہیں، عظیم شعراء اس سے بھی زیادہ نایاب، لیکن وہ عظیم انسان جو ایک عظیم شاعر بھی ہو، سب سے زیادہ نایاب ہوتا ہے“ بسویشور ایک عظیم انسان اور ایک عظیم شاعر کا نادر ترین امتزاج ہیں۔ وہ ایک ایسی عظیم شخصیت تھے جنہوں نے اپنی ذات میں ایک صوفی، ایک سماجی مصلح، ایک آزاد خیال مفکر اور ایک نئے دور کے پیامبر کی خصوصیات کو یکجا کر رکھا تھا۔ ان کا بنیادی مقصد ادبی تصنیف و تالیف نہیں تھا، بلکہ زندگی کے اعلیٰ ترین مقصد کا حصول اور عام آدمی کے لیے اعلیٰ ترین بھلائی کی راہ ہموار کرنا تھا۔ان کا عظیم کارنامہ لوگوں میں ابدی سچائیوں اور نظریات کی تبلیغ کرنا اور الٰہی پیغام کو ہر گھر اور ہر دل تک پہنچانا تھا۔ چنانچہ ہر وہ احساس یا خیال جس نے ان کے ذہن کو متحرک کیا، ان کی عقل کو جِلا بخشی اور ان کے دل میں کھلا، اسے سادہ مگر پُراثر ”وچن“ (Vachana) کی شکل میں اظہار کیا گیا۔درحقیقت بارہویں صدی کے ان تمام ”شرنوں“ (Sharanas) کا، جنہوں نے وچن لکھے، یہی ایک مقصد پیشِ نظر تھا۔ وہ اپنے روحانی خیالات، تجربات اور معاشرے کے نقائص و خرابیوں کو ایک ایسی زبان میں بیان کرنا چاہتے تھے جو سب کے لیے آسانی سے قابلِ فہم ہو۔ اس لیے انہیں سماجی بھلائی کے اپنے اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک بالکل نئی صنف وضع کرنی پڑی۔ اس جدوجہد میں انہوں نے جو الفاظ ادا کیے وہ ”وچن“ بن گئے، جو ایک تلاطم (طغیانی) کی طرح سامنے آئے(انگریزی کتاب بسویشور، مصنف:ایچ تپے ردراسوامی:صفحہ 48)
 byjus.comدراصل IASکی تیاری کرانے والا اِدارہ ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ مستند باتیں اپنے پڑھنے والوں یا IASکی تیاری کرنے والوں تک پہنچائے۔ بائی جوس ڈاٹ کام اس میں کتناکامیاب ہے، وہ اس راہ کے محقق جانیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک قابل ذکر ادارہ ہے۔ اس نے اپنی ویب سائٹ پر بسونا سے متعلق جو کچھ لکھاہے اس میں سے کچھ باتیں یہاں پیش کی جارہی ہیں۔ ملاحظہ کیجئے گا۔ بائی جوس ڈاٹ کام کہتاہے ”بسونا نے ذات پات کے نظام کے غیر انسانی عمل کے خلاف جنگ لڑی، جو لوگوں کے ساتھ ان کی پیدائش کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرتا تھا۔انہوں نے شرن تحریک کی قیادت کی، جس نے تمام طبقوں کے افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا اور، بھکتی تحریک کے بیشتر حصوں کی طرح، ادب کی ایک صنف ”وچن“ایجاد کی، جس نے ویرشیوا سنتوں کے روحانی دائرہ عمل کو ظاہر کیا۔بسونا کی شرن تحریک، اپنے وقت کی ایک بنیاد پرست تحریک تھی جس نے مساوات کاعلم اٹھایا۔بسویشور پہلے کنڑیگا ہیں جن کی سماجی اصلاحات کے پیش نظر ان کے اعزاز میں ایک یادگاری سکہ جاری کیاگیا۔نومبر 2015 میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے لندن کے لیمبتھ میں ٹیمز کے کنارے بسویشورکے مجسمے کی نقاب کشائی کی“
 جناب سید مقصود نے غالباً سب سے پہلے ”بسونا۔ ایک سماجی مصلح“ عنوان پر اردو میں پہلا کتابچہ لکھا۔ حال ہی میں ان کا ایک مضمون بعنوان ”برہمن دھرم کے باغی، لنگایت دھرم کے بانی گرو بسونّا“شائع ہواہے۔ جس میں انھوں نے لکھاہے کہ ”راجا بجل کلیان فتح کرنے کے بعد اپناصدرمقام منگل ویڑا سے کلیانی کوتبدیل کردیا۔ گروبسونا 1160؁ء کو کلیانی پہنچ گئے۔ اور نئی سلطنت میں گروبسونا کو ان کے ماموں کی جگہ وزیرخزانہ بنایاگیا۔ قیام ِ کلیانی کے زمانے میں 9/سال بعد 1169؁ء میں انوبھومنڈپ کا قیام عمل میں لایا۔ اس سماجی ادارہ سے سماج سدھار ہی نہیں ہوابلکہ سماجی تبدیلی بڑے پیمانے پر آئی اور اس انداز سے شیوشرنوں (لنگایت دھرم کے ماننے والے) کی ذہن سازی کی گئی۔ ورن ویوستھا کی لگائی ہوئی، ساری پابندیاں یکلخت ختم ہوگئیں۔ انوبھومنڈپ کے بنیادی اصول جن کو شرن اور گروبسونا مانتے تھے، ان میں سے کچھ اہم اس طرح ہیں۔ (۱) تمام انسان مساوی درجہ رکھتے ہیں (۲) کسی بھی انسان کی بڑائی، پیدا ئش، صنف، یا پیشے کے اعتبار سے نہیں دی جاسکتی۔ (۳)مردوزن کے درمیان کوئی تفریق نہ ہو، وہ اپنے ارتقاء کی راہ پر مرد کے شانہ بشانہ چل سکے (۴) ہر ایک کواپنی مرضی کاپیشہ اختیا رکرنے کی آزادی ہو(۵) ورن اور آشرم کو مکمل طورپر ترک کرنا ہوگا (۶) رہبانیت اختیار کرنا بزدلی کی علامت ہے۔ زندگی کی حقیقتوں سے فرار کی راہ ہے۔ اسی لئے رہبانیت اختیار نہیں کرناچاہیے(۷)چھوت چھات کا سماج میں کوئی مقام نہیں ہے (۸) بین طبقاتی شادیاں اور اجتماعی طعام کو بڑھاوا دینا چاہیے (۹)روحانی اور سماجی موضوعات پر سوچ وچار کرنے کی ہر ایک کو آزادی حاصل ہے (۰۱) عوامی زبان ہی کو مذہبی وغیرمذہبی تعلیم کاذریعہ بنایاجائے (بحوالہ Shri Basveshwara commemartion، جلد 1967، صفحہ 41,42) 
 اسی مضمون میں یہ بات بھی درج ہے کہ ”پروفیسر سنجے ماکھال، گلبرگہ نے، 2014؁ء میں کتاب لکھی، اس کاعنوان ہے ”Lingayat an Independent Religion“ بڑی گہرائی سے ان تمام چیزوں کاجائزہ لے کر انھوں نے ثابت کیاکہ لنگایت ہندو نہیں ہیں۔ (اس کی ساری تفصیلات ایک مضمون میں ممکن نہیں ہیں) ہندو، ویدوں کومقدس مانتے ہیں۔ ورن آشرم پر عمل پیرا ہیں مگر گرو
بسونا نے اس کو بڑی شدومد سے رد کیاہے۔ اپنے ایک وچن میں کہتے ہیں، وچن ؎ 
وید کو تھیلوں میں باندھ رکھوں گا
شاستر کو زنجیر پہناؤں گا
ارتھ شاستر کی چمڑی اُدھیڑدوں گا
اعظم شاسترکی ناک کاٹوں گا
اے سخی ِ اعظم، کوڈلاسنگم دیوا 
میں وفادار چنیا کے گھر کا وفادار بیٹاہوں (بحوالہ کتاب ”وچن“، وچن نمبر369، صفحہ نمبر 190، مرتبہ:ڈاکٹر ایم ایم کلبرگی، اردوترجمہ، ماہر منصور، بسوا کمیٹی بنگلور، 2004؁ء) اس وچن میں برہمن دھرم کی سبھی کتابوں کاجو حشر گروبسونّا نے کیا، اور اپنے آپ کو مادری چنیا (چمار) کے گھر کا وفادار بیٹا کہا، ذات پات کے نظام کو یکلخت رد کرنا ٹہرا۔دوسرا ہند وچھوت چھات کومانتے ہیں، لنگایت اس کا انکار کرتے ہیں۔ ایک وچن میں بسویشور کہتے ہیں ؎
وید لرز ہ براندام ہیں 
شاستر راستے سے ہٹ گئے 
ارتھ شاستر خاموش ہوگیا اعظم شاستر راستہ بھول گئے 
 یہ سب کب ہوا
جب مادرچنیا کے گھر پر پرساد نوش کرنے گئے 
کوڈلا سنگما دیوا
(وچن نمبر 360، صفحہ نمبر 190، وچن، بنگلورو، 2004؁ء) برہمن دھرم کی مقدس کتابیں، جو چھوت چھات کی تعلیم دیتی ہیں۔ اتی شودر چنیا (چمار) کے گھر پرساد نوش کرنے سے ساری کتابوں کی تعلیم،یکلخت ردّ ہوگئی۔دراصل بسونا نے اپنی کنڑی شاعری کی صنف ”وچن“ کے ذریعہ سے سماجی اصلاح کاجو فریضہ 12/ویں صدی عیسوی میں انجام دیاتھا، اس کے اثرات آج بھی کرناٹک، تلنگانہ، اور آندھراپردیش جیسی ریاستوں میں دیکھنے کوملتے ہیں۔ بسویشور کے ماننے والاطبقہ لنگایت کہلاتاہے اور یہ طبقہ سیاسی اعتبار سے کرناٹک میں انتہائی طاقتور ہے۔ ایک ذریعہ کے مطابق 11%آبادی رکھنے والالنگایت طبقہ ریاست کرناٹک کامقتدرہ طبقہ ہے۔لیکن افسوس ”وچن“ کا اثر اردو زبان پر نہیں پڑا۔ جب کہ یہ وہ صنف ہے جو خوبی کے ساتھ ”حمد“ کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ سال 2020؁ء کو خاکسار نے ایک مضمون ”بسونا کے وچن“ کے عنوان سے لکھاتھا۔اس کااقتباس یہاں درج کرتے ہوئے اپنی بات ختم کی جاتی ہے۔ ”بسونانے صحبت کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اور بری صحبت سے بچنے کی اپنے وچنوں میں تلقین کی ہے۔ لکھا ہے ؎
نوکرکے گلے کے نقلی زیورات کی طرح 
برے لوگوں کی صحبت 
مناسب نہیں ہے شریفوں کے حق میں 
کہ تنکابرابر ہو نہیں سکتا ہے ہیرے کے 
اے کوڈلا سنگما دیوا
بسونا کی تعلیمات میں ایک خداکی تلقین ملتی ہے، اچھی صحبت کو اہمیت دی گئی ہے،اوررحم کرنے کو مذہب کی بنیاد قرار دیاگیاہے۔ وہ کہتے ہیں ؎
کیا بے رحموں، ظالموں کاکوئی مذہب ہے؟
رحم کرنا چاہیے ہر ذی نفس پر 
رحم ہی مذہب کی جڑ، بنیاد ہے
یہ نہ ہوتو
کوڈلاسنگمادیواکی خوشنودی 
کبھی مل ہی نہیں سکتی تمہیں 
ایک خداکی بابت ایک وچن میں لکھاہے ؎
 ”خدا تو ایک ہی ہے 
نام اس کے ہیں الگ“
    ٭٭٭

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔