معروف شاعر و مصنف آفتاب عالمؔ شاہ نوری کی کتاب کا اجرا، اردو اسکول داخلہ مہم اور تہنیتی تقریب۔
معروف شاعر و مصنف آفتاب عالمؔ شاہ نوری کی کتاب کا اجرا، اردو اسکول داخلہ مہم اور تہنیتی تقریب۔
چھوٹی (راست) کرناٹک ریاستی لسانی اقلیتی اسکول اساتذہ ویلفیئر ایسوسی ایشن، بنگلور (ضلع یونٹ: چکوڑی) کی جانب سے بروز اتوار، 5 اپریل 2026 کو پنچ محلہ ہال میں ایک شاندار اور بامقصد تقریب منعقد کی گئی، جس میں کتاب کا اجرا، اردو اسکول داخلہ مہم اور طلبہ کی تہنیتی تقریب یکجا طور پر انجام دی گئی۔اس پروقار تقریب میں چکوڑی تعلیمی ضلع کے ڈی ڈی پی آئی محترم جناب آر ایس سیتا رام صاحب اور گوکاک تعلقہ کے بی ای او محترم جناب جے بی بڑی گار صاحب نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔ اس کے علاوہ تنظیم کے ریاستی صدر محترم جناب سلیم مجاور صاحب، اسٹیٹ وائس پریسیڈینٹ میراں صاحب ملا، ضلعی صدر محترم جناب ذاکر حسین پٹیل، کروشی اردو ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر جناب یادگڑے صاحب، اسٹیٹ ریسورس پرسن محمد ذکی قاضی صاحب، اسٹیٹ جوائنٹ سیکریٹری نظام الدین واچ میکر صاحب اور چکوڑی تعلیمی ضلع کے تمام سی آر پی حضرات بھی موجود تھے۔پروگرام کی نظامت محترم جناب عطا محمد قاضی صاحب اور اقبال عمر خان صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ تقریب کا آغاز محمد ذکی قاضی صاحب کی قرأتِ کلام پاک سے ہوا، جبکہ نعتِ پاک جناب کلیم پیرزادے صاحب نے پیش کی۔ اس کے بعد ناڑ گیت پیش کیا گیا اور پھر شجرکاری کی علامتی تقریب منعقد ہوئی، جس کے موقع پر ناظمِ پروگرام نے آفتاب عالمؔ شاہ نوری کا یہ شعر پیش کیا:
"بے شجر راہ سے نظریں نہ چرا کر جاؤ
اپنے حصے کا کوئی پیڑ لگا کر جاؤ"
اس کے بعد ریاستی صدر سلیم مجاور صاحب نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے تنظیم کی چار سالہ کارگزاری اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور اردو اسکولوں میں داخلہ مہم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بعد ازاں بی ای او گوکاک نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریب کا اہم ترین مرحلہ معروف شاعر و مصنف آفتاب عالمؔ شاہ نوری کی کتاب "محمد بن قاسم سے بہادر شاہ ظفر تک" کی رسمِ اجرا تھا۔ اس کتاب کو پنجاب کے شاہی امام نے سراہتے ہوئے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ انہوں نے ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے تاثرات اس طرح پیش کیے:
"آج ہمارے پاس ڈاک سے جناب آفتاب عالم شاہ نوری صاحب کی مرتب کردہ کتاب محمد بن قاسم سے بہادر شاہ ظفر تک مسلمانوں کا عروج زوال موصول ہوئی ہے اور کل فون پر گفتگو بھی ہوئی تھی ماشاءاللہ کتاب کو پڑھا تو یہ اندازہ ہوا کہ موصوف نے بڑی ہی محنت اور لگن کے ساتھ اس تاریخ کو بڑی ترتیب کے ساتھ مرتب کی ہے جس کی ضرورت بھی تھی میں ان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب علمی حلقوں میں اور تاریخی حلقوں میں مقبول ہوگی اس کے ساتھ ساتھ میں گزارش یہ کرنا چاہتا ہوں تمام تاریخ دانوں کو خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو کہ اکثر جب ہم لوگ تاریخ کی کتابیں لکھتے ہیں تو جو ہمارے قومی ہیروز ہوتے ہیں جن کو راشٹریہ نائیک کہتے ہیں ان کا ذکر تو آ جاتا ہے بڑے بادشاہوں کا ذکر آ جاتا ہے لیکن وہ جنہوں نے سیکنڈ لائن میں رہ کے ملک اور قوم کے لیے بے انتہا قربانیاں دی ہں اکر وہ لوگ تاریخ میں گرد آلودہ ہو جاتے ہیں اس ضمن میں ہم لوگوں نے یہاں پنجاب میں ماشاءاللہ بڑی کوشش بھی کی ہے اور اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی کہ اپنے محلے کے گاندھی کو تلاش کیا حبیب الرحمن لدھیانوی کو دیکھا اپنے محلے کے شہید اعظم بھکت سنگھ ، راج گرو کو سُکھ دیو کو تلاش کیا کیونکہ یہ ٹھیک ہے کہ جو راشٹریہ نائک ہیں ہم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں لیکن ان کے علاوہ پورے دیش میں ہر ایک گلی محلے میں ہر ایک گاؤں میں ہر ایک صوبے میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے انگریز کے خلاف لگاتار ڈیڑھ سو سال تک ملک کی آزادی کے لیے اور قوم کے لیے سماج کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں تو میں تمام اتہاس لکھنے والوں کو یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ ایک بار ان کے اوپر بھی قلم اٹھائیں کہ جن کو لوگ بھول چکے ہیں اور جن کی قربانیاں ہماری بنیاد کا درجہ رکھتی ہیں جنہوں نے بنیاد کے پتھر اس ملک کے اندر لگائے ہیں تو ان کا نام ان کا ذکر ان کی قربانیاں بھی سامنے آنی چاہیے تو ایک بار ان لوگوں کو بھی یاد کریں کہ جن کی قربانیوں کی وجہ سے بڑے بڑے راشٹریہ نائک جو ہیں یاد کیے جاتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں آفتاب عالم شاہ نوری صاحب سے بھی کہ ان کی اس کتاب کے بعد وہ اہل کرناٹک کے لیے جس خطے سے ان کا تعلق ہے کہ اس خطے کے جو بھی جنگ آزادی کے سوتنتر سیلانی ہیں مجاہدین ہیں اور اس کے علاوہ جو الگ الگ مذاہب کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اس میں وہ اپنا قلم اٹھائیں گے تاکہ لوگوں کے سامنے ان کا ذکر خیر آ جائے شکریہ ۔ ۔ ۔ ۔ "(مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی، شاہی امام پنجاب، انڈیا)
کتاب کے اجرا کے بعد محمد ناظم پٹیل کی جانب سے تیار کردہ ایک تعلیمی سافٹ ویئر کی بھی پذیرائی کی گئی، جو طلبہ کے لیے مفید سہولیات جیسے رزلٹ اور کوئز پر مشتمل ہے۔اس موقع پر مشاعرہ کے ناظم محمد ناظم پٹیل اور آفتاب عالمؔ شاہ نوری کی ڈی ڈی پی آئی اور دیگر معزز مہمانان کے ہاتھوں شال پوشی کی گئی۔ بعد ازاں پرائمری، ہائی اسکول اور ایس ایس ایل سی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔آخر میں شکریہ کے ساتھ پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔
کتاب "محمد بن قاسم سے بہادر شاہ ظفر تک" حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں:
آفتاب عالمؔ شاہ نوری
کروشی، بلگام، کرناٹک
موبائل: 8105493349
Comments
Post a Comment