غم منانے کیلیے نہیں ہوتے ... از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں)
غم منانے کیلیے نہیں ہوتے ...
از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں)
ہر بندہ خوش رہنے کیلیے پریشان ہے۔ خوشی کبھی نازل یا دریافت نہیں ہوتی، ہر حال میں خوش رہنے کی مشق کرنی پڑتی ہے۔ ایک نبوی دعا ہے : ”اللهم لا تجعل الدنيا أكبر همّنا۔“ اے اللہ دنیا کو ہمارے غموں کا محور نہ بنا۔ اسی طرح ایک اور مسنون دعا ہے*
: ”اللهم إني أعوذ بك من الهمّ والحَزن۔“
اے اللہ میں غموں اور سختیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
یہ دعائیں کرنی چاہییں۔ کتاب و سنت میں غم کا ذکر منفی پیرائے میں آیا ہے۔ غم ایک لَت ہے، اس سے ہر ممکن بچنا چاہیے۔
انسان کی فطرت ہے کہ جب غمگین ہوتا ہے تو اگلے پچھلے سبھی غموں کو آواز لگاتا ہے۔ ان کے ساتھ مجلس لگاتا ہے، انہیں ہلکی آنچ پر پکاتا ہے، ان کے حصار میں بند ہو کر اسے عجیب لطف آتا ہے۔ مگر خارج میں دنیا مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ علم، عمل، ذہن، معمولات ہر چیز متاثر ہو جاتی ہے۔ مناسب دینی رہنمائی یا اہلِ خانہ و دوست احباب سے خوشگوار تعلق نہ ہو تو لوگ ڈپریشن کے ہاتھوں نشے کی طرف چل پڑتے ہیں، زندگی سے تنگ آ جاتے ہیں۔
جس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ اور چچا ابو طالب کی وفات ہوئی، سیرت نگاروں کے ہاں وہ سال ”عام الحزن“ مشہور ہو گیا۔ ہمارے اسلاف نے اس بات پر نکیر کی ہے اور اسے اسلام کے عمومی مزاج کے خلاف قرار دیا ہے۔ کتابوں میں جابجا حزن کے مفاسد ذکر کیے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اسلام ”غم کو منانے“ سے روکتا ہے۔ یہ ایک فطری کیفیت ہے، جو ہر انسان کو لاحق ہو سکتی ہے۔ لیکن اسلام اسے مستقل روگ بنانے کا قائل نہیں۔
ماہرینِ نفسیات بھی اسی کی تاکید کرتے ہیں کہ پریشانی کے وقت میں آپ اپنے آپ کو سوچوں کے حوالے نہ کریں، یہ سنگین ہو سکتا ہے۔ واک کرنا شروع کر دیں، کہیں مصروف ہو جائیں، مطالعہ کریں۔ غم کو باعثِ لطف یا ایک عادتِ لازمہ نہ بننے دیں۔ ہمیں انفرادی و قومی سطح پر اس اپروچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ غم منانے کی چیز نہیں، پناہ مانگنے کی چیز ہے۔ اسلام کا مزاج مایوسی، غم اور خشکی کی بجائے امید، خوشی اور حرارت کا ہے۔
Comments
Post a Comment