ترکی کا تاریخی فتویٰ : نتن یاہو دورِ حاضر کا ہٹلر۔(تین عدالتیں، ایک ملزم: نتن یاہو کے خلاف عالمی قانون کا محاصرہ)ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔


ترکی کا تاریخی فتویٰ : نتن یاہو دورِ حاضر کا ہٹلر۔
(تین عدالتیں، ایک ملزم: نتن یاہو کے خلاف عالمی قانون کا محاصرہ)
ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

21 فروری 2026 تک غزہ کی پٹی میں 73,188 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے تھے۔ ان ہلاک شدگان میں اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی  (UNRWA) کے مطابق تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے تھے یعنی ہر دس لاشوں میں سے سات بے گناہ شہریوں کی تھیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اگست 2025 تک صرف بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 18,885 سے تجاوز کر چکی تھی۔ فلسطینی مرکزی بیورو برائے شماریات کے مطابق 39,384 بچے یتیم یا نیم یتیم ہو چکے تھے اور 700 سے زائد بچے ایسے تھے جن کا پورا خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گیا۔ اقوامِ متحدہ کے اپنے بیان کے مطابق غزہ میں بچوں کی ہلاکتیں گزشتہ چار سالوں کے تمام عالمی تنازعات کو ملا کر بھی اس سے زیادہ ہیں۔ جب یہ اعداد و شمار ایک طرف ہوں اور دوسری طرف دنیا کی معتبر ترین عالمی فوجداری عدالت کا وارنٹ، امریکی نائب صدر کی کشیدہ ڈانٹ اور ترکی کی سرکاری قانونی کارروائی ہو تو تاریخ محض گواہ نہیں رہتی بلکہ وہ خود فیصلہ سنانے لگتی ہے۔
بنیامین نتن یاہو کے ساتھ ہٹلر کا موازنہ سب سے پہلے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دسمبر 2023 میں باضابطہ طور پر کیا۔ انقرہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا نتن یاہو جو کر رہا ہے وہ ہٹلر سے کم ہے؟ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے اور مغرب اسے کھلی حمایت فراہم کر رہا ہے۔ یہ الفاظ عارضی طیش کا نتیجہ نہیں تھے۔ جولائی 2024 میں ترکی کی وزارتِ خارجہ نے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا کہ جس طرح نسل کش ہٹلر کا انجام ہوا اسی طرح نسل کش نتن یاہو کا بھی ہوگا۔ اور اپریل 2026 میں ترکی کی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر نتن یاہو کو اس دور کا ہٹلر کہتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ یہ تین سال پر پھیلا ہوا تسلسل واضح کرتا ہے کہ یہ بیانات جذباتی اشتعال نہیں بلکہ ایک منظم، دیدہ دانستہ اور قانونی بنیادوں پر استوار سفارتی پالیسی کا حصہ ہیں۔
ترکی کے اس موقف کو محض ایک مسلم اکثریتی ملک کی جذباتی یکجہتی کہہ کر رد کرنا تجزیاتی کوتاہی ہوگی کیونکہ اس کے پیچھے بین الاقوامی قانون کا ٹھوس سہارا موجود ہے۔ 21 نومبر 2024 کو عالمی فوجداری عدالت کے پری ٹرائل چیمبر اول نے متفقہ فیصلے میں نتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گالانت کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ وارنٹ میں درج الزامات انتہائی مخصوص اور تفصیلی تھے جن میں غزہ کی آبادی کے لیے قحط کو جنگی ہتھیار کے طور پر جان بوجھ کر استعمال کرنا، شہریوں پر جان بوجھ کر اور غیر متناسب حملے کرنا، قتل، ظلم و ستم اور انسانی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے غیر انسانی افعال شامل تھے۔ یہ کسی بھی جمہوری ملک کے حاضر سربراہِ حکومت کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کا پہلا وارنٹ تھا جو ایک ایسی تاریخی نظیر ہے جس نے عالمی نظامِ انصاف کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ اسرائیل نے اس وارنٹ کو چیلنج کیا لیکن جولائی 2025 میں عالمی فوجداری عدالت کے ججوں نے اسرائیل کی درخواست یکسر مسترد کر دی اور عدالت کا مکمل دائرۂ اختیار برقرار رکھا۔
ترکی نے ان عالمی کارروائیوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی ملکی قانونی مشینری کو بھی فعال کیا۔ 7 نومبر 2025 کو استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس نے باضابطہ اعلان کیا کہ نتن یاہو سمیت 37 اسرائیلی حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ ملزمان میں اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز، قومی سلامتی کے وزیر اتامار بن گویر اور فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر بھی شامل تھے۔ ترکی کے فوجداری قانون کی دفعات 76 اور 77 کے تحت یہ وارنٹ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام پر جاری کیے گئے۔ اس طرح ترکی اس مسئلے میں محض ایک احتجاجی آواز سے بلند ہو کر ایک فعال قانونی فریق کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر ترکی جنوبی افریقہ کے اس مقدمے میں باضابطہ فریق بنا ہے جو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزام پر دائر ہے۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا محاذ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جنوری 2024 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے جنوبی افریقہ کی طرف سے دائر نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کے مقدمے میں اسرائیل کو عبوری احکامات جاری کیے۔ عدالت نے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کو نسل کشی سے بچانے کے تمام اقدامات کرے، نسل کشی پر اکسانے کو فوری بند کرے اور انسانی امداد کا راستہ کھولے۔ مئی 2024 میں عدالت نے مزید احکامات جاری کرتے ہوئے اسرائیل کو رفح میں فوجی آپریشن فوری روکنے کا حکم دیا اور یہ فیصلہ 13 ووٹوں کے مقابلے میں صرف 2 ووٹوں کی مخالفت سے آیا۔ اسرائیل نے ان احکامات کی مکمل پابندی کبھی نہیں کی جو خود ایک قانونی حقیقت ہے اور عالمی برادری کے سامنے ریکارڈ پر موجود ہے۔
غزہ کی انسانی تباہی کی شدت کو سمجھنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے اداروں کے اپنے اعداد و شمار کافی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپریل 2026 میں رپورٹ کیا کہ اکتوبر 2023 سے دسمبر 2024 کے دوران غزہ میں 344 امدادی کارکن ہلاک ہوئے جو کسی بھی جدید مسلح تنازعے میں امدادی کارکنوں کی ریکارڈ ہلاکتیں ہیں۔ اوچا کی اپریل 2026 کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے وسیع علاقے ابھی تک ملبے کا ڈھیر ہیں، ہسپتالوں کی اکثریت غیر فعال ہے اور انسانی امداد کی فراہمی کا بحران جاری ہے۔ یونیسف کے مطابق مئی 2025 میں 5,119 بچے شدید غذائی قلت کا شکار تھے۔ فلسطینی وزارتِ سماجی ترقیات کے مطابق جون 2025 تک 40,000 سے زائد بچے یتیم ہو چکے تھے جن میں 700 ایسے بھی تھے جن کا پورا خاندان نیست و نابود ہو گیا۔ یہ وہ زمینی حقائق ہیں جن کی بنا پر ترکی کی زبان خواہ وہ کتنی ہی تیز کیوں نہ لگے اس کو محض بلاجواز جذباتیت کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔
اس موازنے کے ناقدین کا استدلال ہے کہ ہٹلر سے تقابل تاریخی طور پر انتہائی حساس ہے۔ ہولوکاسٹ ایک ایسا منفرد سانحہ تھا جس میں 60 لاکھ یہودیوں کو صنعتی پیمانے پر قتل کیا گیا اور ہر دوسرے جرم کا اس سے لفظی موازنہ اس سانحے کی ہولناکی کو ہلکا کر سکتا ہے۔ اسرائیل نے ان بیانات کو یہود دشمنی اور سیاسی حرکت قرار دے کر مسترد کیا۔ یہ اعتراض سننے میں وزنی لگتا ہے لیکن یہاں ایک بنیادی قانونی حقیقت یاد رکھنی ضروری ہے کہ نسل کشی کنونشن 1948 لازمی طور پر ہولوکاسٹ کے پیمانے کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو تباہ کرنے کا ارادہ اور اس سمت میں عملی اقدامات کافی ہیں۔ جب عالمی فوجداری عدالت جیسا ادارہ باقاعدہ وارنٹ جاری کرے اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف جیسا ادارہ عبوری احکامات صادر کرے تو تقابلی زبان کی مناسبت یا نامناسبت کا سوال ان قانونی حقائق کے سامنے ثانوی ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی معتبر تجزیہ یہ بھی نظرانداز نہیں کر سکتا کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے میں 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے لیکن بین الاقوامی قانون یہ بھی کہتا ہے کہ کسی حملے کا بدلہ بے حساب اور غیر متناسب نہیں ہو سکتا اور شہری آبادی، ہسپتال اور امدادی کارکن کبھی جائز فوجی ہدف نہیں بن سکتے۔
اس تمام پسِ منظر میں واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں پیدا ہونے والی دراڑ تصویر کو ایک نئی جہت دیتی ہے۔ 23 مارچ 2026 کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور نتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر بات چیت ہوئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق وینس نے نتن یاہو سے کہا کہ ایران کی جنگ کے بارے میں جو جلد اور آسان پیشگوئیاں صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کی گئی تھیں وہ حقیقت ثابت نہیں ہوئیں۔ اپریل 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسرائیل وینس کی سفارتی کوششوں کو فعال طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہ گواہی اس لیے تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ کسی دشمن کی زبان سے نہیں بلکہ امریکہ کے اپنے نائب صدر کے دفتر کے قریبی حلقوں سے آ رہی ہے اور کسی رہنما کی مذمت اس وقت سب سے کاری ہوتی ہے جب وہ اس کے دشمنوں کے نعروں سے نہیں بلکہ اس کے قریبی ترین حلیفوں کے اعترافات سے کی جائے۔
ترکی کے اس کردار میں اردوان کے اپنے تزویراتی مفادات بھی شامل ہیں یہ سچ ہے۔ اردوان کا اپنا حکومتی ریکارڈ صحافیوں کی گرفتاریوں اور کرد آبادی کے ساتھ سلوک کے حوالے سے تنقید سے مبرا نہیں۔ لیکن بین الاقوامی قانون کی یہ خوبصورتی ہے کہ اس میں سچ کہنے والے کی اپنی تاریخ اس سچ کو غلط نہیں بناتی۔ نیورمبرگ کے مقدمات بھی ان استعماری طاقتوں نے چلائے تھے جن کے اپنے دامن بے داغ نہیں تھے مگر وہ مقدمات انصاف کی تاریخ کا سنہری باب بن گئے کیونکہ ان میں جرائم حقیقی تھے اور شواہد ناقابلِ تردید۔

نتن یاہو کے گرد جو بین الاقوامی تنہائی تشکیل پا رہی ہے وہ کسی ایک ملک کی سازش نہیں اور نہ ہی کسی ایک نظریے کی پیداوار ہے بلکہ وہ ان 18 ہزار سے زائد بچوں کی خاموش چیخ کا اجتماعی ردِّعمل ہے جو غزہ کی مٹی میں دفن ہو گئے، ان 40 ہزار یتیموں کے آنسوؤں کا حساب ہے جو کسی کی گود میں نہیں رو سکتے، ان 344 امدادی کارکنوں کے لہو کا قرض ہے جو روٹی لے کر گئے تھے اور لاش بن کر واپس آئے۔ عالمی فوجداری عدالت کا وارنٹ، عالمی عدالت انصاف کے احکامات، ترکی کے قانونی وارنٹ اور واشنگٹن کے گلیاروں سے اٹھنے والے سوالات یہ سب مل کر تاریخ کا وہ فیصلہ لکھ رہے ہیں جسے کوئی ویٹو نہیں مٹا سکتا۔ نیورمبرگ نے دنیا کو سکھایا تھا کہ اقتدار کی مسند جرم کو جائز نہیں بناتی اور طاقت کا تاج گناہ کو معاف نہیں کرتا۔ ہیگ کی عدالتیں آج پھر وہی سبق دہرا رہی ہیں اور اس بار ملزم کے پاس نہ صرف ایک عالمی فوجداری عدالت کا وارنٹ ہے، بلکہ اس کا قریب ترین حلیف بھی اس پر شک کرتا ہے۔ تاریخ کبھی اندھی نہیں ہوتی وہ سب کچھ دیکھتی ہے، سب کچھ لکھتی ہے، اور آخرکار سب کا حساب لیتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ