روف صادق کی ,کتاب "پایان:حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات "کا جائزہ۔ازقلم : واجد اختر صدیقی گلبرگہ کرناٹک ۔
روف صادق کی ,کتاب "پایان:حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات "کا جائزہ۔
ازقلم : واجد اختر صدیقی گلبرگہ کرناٹک ۔
سیل :9739501549
اردو ادب میں بعض کتابیں محض تخلیقات کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ ایک تخلیق کار کے فکری و فنی جہان کو ایک علامتی اور جمالیاتی وحدت میں سمیٹ دیتی ہیں۔ روف صادق کی مرتبہ کتاب “پایان-حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات " اسی نوعیت کی ایک اہم اور بامعنی ادبی کاوش ہے، جس میں پروفیسر حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات کو نہایت سلیقے اور شعوری ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
روف صادق کا تعلق ممبئی سے ہے۔ان کی اب تک پانچ کتابیں منظر عام پر آئی ہیں۔وہ بیک وقت شاعر ادیب ،نقاد ،افسانہ نگار افسانچہ نگار اور ممتاز ادیب ہیں ۔نوک قلم پر لہوغزلیں اور نظمیں 2011 ،نقش معنی مضامین تبصرے تجزیے 2016،سہ نوک ثلاثیاں 2019،ہم اپنے تماشائی افسانچے 2025،اور اب پایان -حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات 2025 انکی کتابیں شائع ہوکر مقبول ہو چکی ہیں۔
اس کتاب کی ایک نمایاں اور معنی خیز خصوصیت “۱۳” کا عدد ہے، جس کے تحت ۱۳ افسانے، ۱۳ افسانچے، ۱۳ نظمیں اور ۱۳ شخصی نظمیں شامل کی گئی ہیں۔ یہ عدد محض گنتی نہیں بلکہ ایک فنی ترتیب اور علامتی ہم آہنگی کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
کتاب میں شامل افسانوں میں گمان، احساسِ زیاں، اداسی کی آغوش میں، ناکارہ کاغذ، نامعلوم کی تلاش، مجھے مت چھوو، راستوں سے پرے، سچ کو انت نہیں، بند کمرے سے فرار، گزرے ہوئے دن، تھکان، اجنبی دوست اور نشان شامل ہیں، جو انسانی باطن، وجودی کرب اور سماجی رویّوں کی گہری عکاسی کرتے ہیں۔
افسانچے:
وہ کوئی ہے، خواب اور آنکھ، میں کہ ایک لفظ ہوں، وہ اکیلا کس طرف جائے، کفن چور، چند دن پہلے، اطلاع، آدرش، چہار سو، اپنے چاروں اور، بن باس، خاموشی کے بول، کرچیں
نظمیں:
وہ کوئی ہے، خواب اور آنکھ، میں کہ ایک لفظ ہوں، وہ اکیلا کس طرف جائے، کفن چور، چند دن پہلے، اطلاع، آدرش، چہار سو، اپنے چاروں اور، بن باس، خاموشی کے بول، کرچیں
شخصی نظمیں:
جوگندر پال، قاضی سلیم، عصمت جاوید، وہاب عندلیب، عتیق اللہ، صادق، خلیل مامون، احسن یوسف زئی، شاہ حسین نہری، محمد یوسف عثمانی، حامد اکمل، معین الدین جینا بڑے، سید اختر کریم
روف صادق نے پیش لفظ میں “حمید سہروردی: متنوع اسالیب کا تخلیق کار” کے عنوان سے سہروردی کے فن کا نہایت عمیق جائزہ لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“حمید سہروردی کا اسلوب انفرادیت رکھتا ہے۔ ان کے یہاں تصوف، دیومالائی حوالہ جات، داخلی کرب اور آفاقی شعور ایک ایسی جمالیاتی فضا تیار کرتے ہیں جو جدید اردو افسانے کو نئی وسعت اور تازگی عطا کرتی ہے۔”
یہ رائے نہ صرف سہروردی کے افسانوی مزاج کی درست عکاسی کرتی ہے بلکہ ان کے فن کی اس جہت کو بھی واضح کرتی ہے جو انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز بناتی ہے۔
مزید برآں، افسانچوں کے حوالے سے روف صادق لکھتے ہیں کہ:
“حمید سہروردی کے افسانچوں میں ایک شعریت اور نغمگی کی کیفیت پائی جاتی ہے جو نثر کو نثر سے زیادہ ایک وجدانی تجربہ بنا دیتی ہے۔”
یہ بات بجا ہے کہ سہروردی کے افسانچے اختصار کے باوجود اپنے اندر معنی کی وسعت اور تاثیر کی گہرائی رکھتے ہیں، جو قاری کو دیر تک اپنے حصار میں لیے رکھتے ہیں۔
نظم نگاری کے تعلق سے روف صادق رقم طراز ہیں:
“اردو کی جدید نظم اپنے اندر علامتی اور استعاراتی امکانات کی ایسی وسعت رکھتی ہے جس نے شاعر کو نئی جہات اور نئے اسالیب سے روشناس کرایا۔ اس ضمن میں حمید سہروردی کا نام نمایاں ہے… انہوں نے داخلی تجربات کو علامت، رمز اور تجرید کے ذریعے عالمی معنویت سے ہم آہنگ کیا۔”
واقعی، سہروردی کی نظمیں محض اظہارِ ذات نہیں بلکہ ایک وسیع تر انسانی اور فکری تناظر کی حامل ہیں، جن میں قاری کو اپنی ذات کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔
شخصی نظموں کے حوالے سے روف صادق کی یہ رائے بھی نہایت اہم ہے کہ:
“حمید سہروردی کی شخصی نظمیں ان کے تخلیقی شعور اور انسانی رشتوں سے گہری وابستگی کا آئینہ ہیں… یہی وابستگی ان کی نظموں میں اخلاص، احترام اور محبت کے رنگوں میں ڈھل کر جلوہ گر ہوتی ہے۔”
یہ نظمیں سہروردی کے ادبی رشتوں اور ان کے باطنی خلوص کی سچی ترجمان ہیں۔
بجا طوربپر میں یہ کہ سکتا ہوں کہ حمید سہروردی کا فن کثیرالجہتی ہونے کے باوجود ایک داخلی وحدت کا حامل ہے۔ ان کے یہاں کہانی، افسانچہ اور نظم تینوں اصناف ایک ہی تخلیقی چشمے سے پھوٹتی محسوس ہوتی ہیں، جہاں احساس، فکر اور جمالیات ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ ان کا اسلوب نہ تو محض علامتی ہے اور نہ ہی محض بیانیہ، بلکہ یہ دونوں کے درمیان ایک متوازن اور بامعنی پُل کی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری طرف سہروردی کی تخلیقات میں جو روحانی اور وجودی کرب جھلکتا ہے، وہ انہیں محض ایک فن کار نہیں بلکہ ایک حساس عہد کا ترجمان بنا دیتا ہے۔ ان کے یہاں دیومالائی اور مذہبی عناصر بھی کسی سطحی تاثر کے لیے نہیں بلکہ ایک گہری معنویت کے ساتھ وارد ہوتے ہیں، جو قاری کو فکر کی نئی جہات سے روشناس کراتے ہیں۔
روف صادق نے اس کتاب کو مرتب کرکے دراصل ایک اہم ادبی خدمت انجام دی ہے۔ بکھری ہوئی تخلیقات کو “۱۳” کی علامتی ترتیب میں پیش کرنا ان کی فنی بصیرت کا ثبوت ہے۔ مزید برآں، کتاب میں شامل خود ان کے اسکیچز اس کے جمالیاتی حسن کو دوبالا کرتے ہیں اور مطالعے کو ایک بصری لطف بھی عطا کرتے ہیں۔
بہر کیف، “پایان” نہ صرف حمید سہروردی کے تخلیقی سفر کا ایک جامع آئینہ ہے بلکہ اردو ادب میں ایک بامعنی اضافہ بھی ہے۔ یہ کتاب سنجیدہ قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے یکساں طور پر اہمیت کی حامل ہے اور یقیناً دیرپا ادبی اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
Comments
Post a Comment