کالم - قلم کی صدائیں - از قلم : رہبر تماپوری۔


کالم - قلم کی صدائیں -  
از قلم : رہبر تماپوری۔

قلم محض لکڑی، دھات یا پلاسٹک کا بے جان ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ شعور کی وہ توانا زبان ہے جو سناٹے میں بھی چیختی ہے۔ جب الفاظ کاغذ کی وسعتوں پر بکھرتے ہیں، تو وہ صرف سیاہی کے نقوش نہیں ہوتے، بلکہ معاشرے کے برہنہ سچ ہوتے ہیں جنہیں اکثر زبانیں ادا کرنے سے کتراتی ہیں۔ "قلم کی صدا" دراصل ضمیر کی دستک ہے، جو خوابیدہ معاشرے کو بیدار کرنے اور اسے اس کے اصل مقام سے روشناس کرانے کی ہمت رکھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی تلواریں تھک گئیں اور تخت و تاج مٹی میں مل گئے، تب بھی قلم کی ایک جنبش نے صدیوں کا رخ موڑ دیا۔ قلم وہ ہتھیار ہے جو خون بہائے بغیر انقلاب لاتا ہے اور مصلحتوں کے حصار توڑ کر حق کا علم بلند کرتا ہے۔
ہمارا سفر تب شروع ہوا جب ہم نے بچپن میں تختہ سیاہ پر سفید چاک سے پہلے حروف لکھے۔ شاید ہمیں یہ احساس تک نہ تھا کہ انگلیوں کے درمیان دبے یہ چھوٹے قلم کی نوک ہماری سب سے طاقتور صدا بنے گی۔ یہ قلم ہی ہے جو ہماری حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے، ہمیں حیوانیت کی دلدل سے نکال کر انسانیت کی معراج کی طرف راغب کرتا ہے۔ ہر طالب علم ایک سفید کاغذ کی مانند ہوتا ہے، اور قلم کی نوک ہی اسے سوچنے، سمجھنے اور صحیح و غلط کی واضح لکیر کھینچنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ جب ایک ننھا ہاتھ قلم تھامتا ہے تو وہ دراصل اپنی تقدیر لکھنے کا پہلا قدم اٹھاتا ہے۔ یہ قلم ہی ہے جو اسے یہ شعور دیتا ہے کہ لفظوں میں تاثیر ہے جو پتھروں کو پگھلا سکتی ہے اور بنجر ذہنوں میں علم کی فصل اگا سکتی ہے۔
قلم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بڑے سے بڑے جابر کو حق کے سامنے جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ تاریخ کے صفحات پلٹیں تو معلوم ہوگا کہ بڑے بڑے آمروں کے تخت اس وقت ڈولنے لگے جب کسی درویش صفت ادیب یا صحافی نے اپنے لہو میں قلم ڈبو کر سچ لکھ دیا۔ یہ بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھاتی ہے، بھولے ہوئے کو سبق یاد دلاتی ہے اور معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کرتی ہے۔ قلم یہ نہیں سکھاتی کہ نفرت، عصبیت یا تفرقہ پھیلاؤ، بلکہ قلم تو جمہوریت، انسانیت، محبت اور شفقت کا درس دیتی ہے۔ ایک سچا قلم کار کبھی تعصب کا شکار نہیں ہوتا، بلکہ وہ حق و انصاف کا علمبردار ہوتا ہے۔ وہ نہ کسی مفاد کا غلام بنتا ہے اور نہ ہی وقتی شہرت کے جال میں پھنستا ہے، بلکہ اس کی تحریر کا مقصد صرف سچ کی ترجمانی اور اصلاحِ معاشرہ ہوتا ہے۔
آج کے اس دور میں جہاں سوشل میڈیا نے ہر شخص کو قلم کار بنا دیا ہے، وہاں قلم کی حرمت مزید بڑھ گئی ہے۔ اب ہر لفظ، ہر جملہ اور ہر خیال لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم قلم کو محض اظہار کا ذریعہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے ایک امانت جانیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ جو کچھ ہم لکھ رہے ہیں، آیا وہ معاشرے میں روشنی پھیلا رہا ہے یا اندھیرا؟ کیا ہمارے الفاظ کسی کی رہنمائی کر رہے ہیں یا اسے گمراہی کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ یہی وہ سوالات ہیں جو ایک سچے قلم کار کو ہر لمحہ اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتے ہیں۔
قلم کی اصل طاقت اس کی سچائی میں پوشیدہ ہے۔ جب الفاظ نہیں...

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔