اعداد و شمار کی طاقت اور اردو کا تحفظ: مردم شماری کے فارم میں اپنی تہذیب و اپنی مادری زبان " اردو " کا دفاع کیجیے۔مردم شماری اور مادری زبان: اردو کی بقا اور ترقی کا واحد راستہ۔تحریر: ڈاکٹر شیخ اصغر۔(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی چھترپتی سمبھاجی نگر' اورنگ باد )


اعداد و شمار کی طاقت اور اردو کا تحفظ: مردم شماری کے فارم میں اپنی تہذیب و اپنی مادری زبان " اردو " کا دفاع کیجیے۔
مردم شماری اور مادری زبان: اردو کی بقا اور ترقی کا واحد راستہ۔
تحریر: ڈاکٹر شیخ اصغر۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی چھترپتی سمبھاجی نگر' اورنگ باد )

بھارت ایک کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی ملک ہے، جہاں ہر دس سال بعد ہونے والی مردم شماری (Census) محض ایک سرکاری اعداد و شمار جمع کرنے کی مشق نہیں ہوتی، بلکہ یہ ملک کے بسنے والوں کے لیے اپنی شناخت، حقوق اور مستقبل کی پالیسی سازی کا ایک اہم موڑ ہوتا ہے۔ جمہوریت میں "سروں کی گنتی" ہی تمام تر مراعات اور حقوق کی بنیاد بنتی ہے۔ جب ہم مردم شماری کے فارم میں اپنی "مادری زبان" کے خانے میں اردو درج کرواتے ہیں، تو یہ صرف ایک لفظ کا اندراج نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک تہذیب، ایک تاریخ اور کروڑوں انسانوں کے تعلیمی و معاشی حقوق کی دستاویز بن جاتی ہے۔ آج کے بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی تناظر میں یہ بات شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ اردو بولنے اور سمجھنے والے طبقے میں بیداری کی کمی کی وجہ سے اردو کے اعداد و شمار میں وہ حقیقت پسندی نظر نہیں آتی جو ہونی چاہیے۔ اس لیے یہ وقت کی اہم پکار ہے کہ "جاگیے، ابھی بھی وقت ہے"۔
*مردم شماری: پالیسی سازی اور وسائل کی تقسیم کا بنیادی ستون*:-
کسی بھی ملک میں ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہاں کس زبان کو بولنے والے، کس مذہب کو ماننے والے اور کس علاقے میں رہنے والے لوگ کتنی تعداد میں موجود ہیں۔ حکومت جب بجٹ مختص کرتی ہے یا نئی تعلیمی پالیسیاں بناتی ہے، تو وہ ان سرکاری اعداد و شمار (Census Data) کو ہی بنیاد بناتی ہے۔ اگر مردم شماری میں اردو بولنے والوں کی صحیح تعداد سامنے نہیں آتی، تو حکومت یہ فرض کر لیتی ہے کہ اس زبان کی ضرورت اب کم ہو گئی ہے۔ اس کا براہ راست نقصان اردو آبادی کو اٹھانا پڑتا ہے۔
اردو بھارت کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل ایک اہم اور تسلیم شدہ زبان ہے۔ یہ کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلی ہوئی زبان ہے۔ جب ہم اپنی مادری زبان اردو لکھواتے ہیں، تو ہم حکومت کو یہ بتاتے ہیں کہ ہم اس زبان کے وارث ہیں اور اس کی ترقی کے لیے وسائل فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر اعداد و شمار میں کمی واقع ہوتی ہے، تو اردو اکادمیوں کے بجٹ میں کٹوتی ہو سکتی ہے، اردو کے فروغ کے لیے چلنے والی اسکیمیں بند کی جا سکتی ہیں اور اردو کو "مردہ زبان" قرار دینے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ لہٰذا، مادری زبان اردو درج کروانا اپنی لسانی شناخت کو محفوظ رکھنے کا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار ہے۔
*تعلیمی ڈھانچہ اور مادری زبان میں تعلیم کا حق*:-
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی کنجی ہے، اور ماہرینِ تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہی ہونی چاہیے۔ بھارت کا آئین دفعہ 350-A کے تحت ہر ریاست کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ لسانی اقلیتوں کے بچوں کو ابتدائی مرحلے پر مادری زبان میں تعلیم کی سہولیات فراہم کرے۔ لیکن یہ سہولت اسی وقت ملتی ہے جب کسی خاص علاقے میں اس زبان کو مادری زبان کے طور پر بولنے والوں کی ایک معقول تعداد موجود ہو۔
اگر مردم شماری میں اردو مادری زبان کے طور پر بڑی تعداد میں درج کی جاتی ہے، تو اس کے براہ راست اثرات تعلیمی شعبے پر مرتب ہوتے ہیں۔ پہلا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں اردو بولنے والوں کی تعداد زیادہ ظاہر ہوگی، وہاں حکومت نئے اردو میڈیم اسکول کھولنے کی پابند ہوگی۔ دوسرا بڑا فائدہ اساتذہ کی بھرتی کا ہے۔ جب اسکولوں میں اردو کے طلبہ کی تعداد بڑھے گی، تو قدرتی طور پر اردو اساتذہ کی اسامیاں (Vacancies) نکلیں گی، جس سے بے روزگار اردو داں طبقے کو ملازمت کے مواقع ملیں گے۔ اس کے علاوہ، حکومت تعلیمی نصاب، درسی کتب اور دیگر تعلیمی مواد کی فراہمی کے لیے بجٹ مختص کرنے پر مجبور ہوگی۔ اگر ہم اپنی مادری زبان اردو نہیں لکھواتے، تو ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنی آنے والی نسلوں کے تعلیمی حقوق کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔
*سرکاری دفاتر اور عوامی خدمات میں اردو کا مقام*:-
اردو کو بہت سی ریاستوں میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن اس کا عملی نفاذ تب ہی ممکن ہے جب عوام کی سطح پر اس کا مطالبہ موجود ہو۔ مردم شماری میں اردو کی بھاری تعداد درج ہونے سے سرکاری دفاتر میں اردو کے استعمال کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، ڈاک خانوں اور دیگر سرکاری مقامات پر بورڈز کا اردو میں ہونا صرف ایک علامتی چیز نہیں بلکہ یہ اس زبان کی جڑوں کی مضبوطی کی علامت ہے۔
جب اعداد و شمار میں اردو زبان کی مانگ زیادہ ظاہر ہوتی ہے، تو حکومت کو ترجمہ نگاروں (Translators) کی ضرورت پڑتی ہے۔ سرکاری گزٹ، نوٹس، فارمز اور عوامی بہبود کی اسکیموں کی معلومات اردو میں فراہم کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف زبان کو فروغ ملتا ہے بلکہ ملازمت کے بے شمار مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اردو جاننے والے نوجوانوں کے لیے مترجم، کاتب اور مواد تخلیق کرنے والوں کی حیثیت سے روزگار کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ریلوے اور دیگر وفاقی اداروں میں اردو بورڈز کی موجودگی اردو بولنے والے مسافروں کے لیے سہولت کا باعث بنتی ہے اور ملک کے ثقافتی تنوع کو برقرار رکھتی ہے۔
ملازمت کے نئے افق اور معاشی فوائد
موجودہ دور میں یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اردو صرف شاعری یا ادب کی زبان ہے اور اس کا روزگار سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ یہ سراسر غلط ہے۔ کسی بھی زبان کی معاشی طاقت اس کے بولنے والوں کی تعداد سے طے ہوتی ہے۔ اگر مردم شماری میں اردو بولنے والوں کا گراف اوپر جاتا ہے، تو میڈیا اور کارپوریٹ سیکٹر کی توجہ اس طرف مبذول ہوتی ہے۔
آج ڈیجیٹل میڈیا، اشتہارات اور تفریحی صنعت (Entertainment Industry) میں اردو کا بول بالا ہے۔ بڑے بڑے برانڈز اپنے اشتہارات کے لیے اردو کے الفاظ اور لہجے کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اردو بولنے اور سمجھنے والی ایک بہت بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ اگر سرکاری اعداد و شمار میں اردو کی تعداد مضبوط ہوگی، تو اخبارات، نیوز چینلز اور ویب پورٹلز کو مزید اشتہارات اور سرکاری تعاون حاصل ہوگا۔ اس کے نتیجے میں صحافت (Journalism) کے شعبے میں اردو جاننے والوں کے لیے ہزاروں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ اس کے علاوہ، تعلیمی اداروں، ریسرچ سینٹرز اور عدالتی نظام میں بھی اردو کی ضرورت برقرار رہے گی۔ ہماری ایک چھوٹی سی بیداری—یعنی "اردو" درج کروانا—ہمارے نوجوانوں کے لیے معاشی خوشحالی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
*ثقافتی شناخت اور تاریخی تسلسل کا تحفظ*:-
زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک مکمل تہذیب، طرزِ زندگی، اقدار اور تاریخ کی امین ہوتی ہے۔ اردو ہندوستان کی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کی سب سے خوبصورت علامت ہے۔ اس زبان نے ہمیں میر، غالب، اقبال اور پریم چند جیسے عظیم فنکار دیے ہیں۔ اس نے جنگِ آزادی میں "انقلاب زندہ باد" جیسا نعرہ دیا جو آج بھی حب الوطنی کی علامت ہے۔اردو کی جڑوں کو مضبوط کرنے کا ہمارے پاس ایک تاریخی موقع ہے۔
مردم شماری میں اپنی مادری زبان اردو لکھوانا دراصل اپنی اس عظیم الشان ثقافتی وراثت سے جڑے رہنے کا عہد ہے۔ جب ہم اردو لکھواتے ہیں، تو ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم اس تہذیب کے وارث ہیں جس نے رواداری، محبت اور اخوت کا سبق پڑھایا ہے۔ اگر ہم نے اپنی مادری زبان کے خانے میں کسی علاقائی بولی یا کسی دوسری زبان کو ترجیح دی، تو آہستہ آہستہ ہم اپنی جڑوں سے کٹ جائیں گے۔ ہماری آنے والی نسلیں اپنی تاریخ اور ادب سے بے بہرہ ہو جائیں گی۔ اپنی شناخت کو مٹنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پوری قوت کے ساتھ اپنی لسانی وابستگی کا اظہار کریں۔
*مردم شماری میں عام غلطیاں اور احتیاطی تدابیر*:-
اکثر دیکھا گیا ہے کہ مردم شماری کے دوران لوگ غیر ارادی طور پر غلطیاں کر بیٹھتے ہیں۔ بعض اوقات عملہ خود ہی مادری زبان کے خانے میں علاقائی زبان یا ہندی درج کر دیتا ہے، اور ہم لاپرواہی میں اسے چیک نہیں کرتے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ ہندی بھی بول لیتے ہیں یا مراٹھی/کناڈا/تیلگو سے واقف ہیں، اس لیے وہ وہی لکھوا دیتے ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "رابطے کی زبان" (Link Language) اور "مادری زبان" (Mother Tongue) میں فرق ہے۔ آپ چاہے کتنی ہی زبانیں جانتے ہوں، لیکن آپ کی مادری زبان وہی ہے جو آپ کے گھر میں بولی جاتی ہے اور جس سے آپ کی جذباتی و ثقافتی وابستگی ہے۔
اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد دکن میں "دکنی"، پنجاب میں "پنجابی" یا یوپی و بہار میں مختلف مقامی بولیوں کا استعمال کرتی ہے، لیکن ان سب کی ادبی اور تحریری زبان اردو ہی ہے۔ اس لیے تمام تر علاقائی بولیوں کے باوجود، ہمیں اپنی مادری زبان کے طور پر صرف اور صرف "اردو" ہی درج کروانی چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مردم شماری کرنے والا اہلکار آپ کے سامنے فارم میں اردو ہی لکھے۔ ڈیجیٹل مردم شماری کی صورت میں خود کوڈز اور آپشنز کی جانچ کریں۔
*ایک پرخلوص التماس اور سماجی ذمہ داری*:-
مردم شماری کا عمل محض ایک سرکاری کارروائی نہیں بلکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور ہر گھر، ہر محلے اور ہر بستی میں اس پیغام کو پہنچائیں کہ "اردو ہماری پہچان ہے اور اسے بچانا ہماری ذمہ داری ہے"۔ مساجد کے ائمہ، سماجی کارکنان، اساتذہ اور دانشوروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عام لوگوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
یاد رکھیے! اگر آج ہم نے اپنی زبان کے حق میں آواز بلند نہیں کی، تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ اردو کی بقا صرف مشاعروں یا سیمیناروں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کا تحفظ ان سرکاری اعداد و شمار سے ہوتا ہے جو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں پالیسیاں بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مردم شماری کے فارم میں مادری زبان کے خانے میں (मात्र भाषा) کے کالم میں اردو لکھوا کر ہم نہ صرف اپنی زبان کی خدمت کریں گے بلکہ اپنی نسلوں کے مستقبل کو بھی محفوظ بنائیں گے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم خود بھی اردو لکھوائیں گے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں گے۔ یہ ایک چھوٹا سا قدم اردو کی بقا اور فروغ کی سمت میں ایک عظیم الشان انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔تو آئیے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم آنے والی مردم شماری 2026 میں مادری زبان کے خانے میں "اردو" لکھ کر اپنی تہذیب اور اپنی زبان کا تحفظ کریںگے اور اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن بنائےگے۔ 
جاگیے! اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اور ہماری شناخت اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں کہیں کھو جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ