غزل۔۔۔۔ ازقلم : مسکین رائچوری
غزل۔۔۔
ازقلم : مسکین رائچوری۔
دست نازک نے پالئے خنجر
آپ ہی اب سنھبالئے خنجر
کچھ پتہ ہے بنانے والے کو
جانیں کتنوں کی کھا لئے خنجر
عیب ان کے چھپا لیا تو وہ بھی
احتراماً چھپا لئے خنجر
ہم تھے نازک مزاج کیا کرتے
بس قلم کو بنا لئے خنجر
بارہا اس نے نظروں سے پھینکے
بارہا ہم نے کھا لئے خنجر
کر رہا ہوں میں پیار کی باتیں
آپ بھی اب نکالئے خنجر
ان سے کہہ دو کہ مطمئن ہو جائیں
ہم نے سارے پگھا لئے خنجر
کون سا ہوگا دیس خوشیوں کا
نہ ابھی تک بنا لئے خنجر
مسکین رائچوری
رائچور
Comments
Post a Comment