عورتوں کے حقوق قرآن حدیث کی روشنی میں ۔۔ ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
عورتوں کے حقوق قرآن حدیث کی روشنی میں ۔
ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
ہم آج دیکھیں گے کہ اس سماج میں کس طرح مردوں نے عورتوں کو پھر پس پشت ڈال دیا اور ایام جاہیلہ کی زنجیروں میں پھر سے مقید کر دیا گیا، جبکہ 1450 سال پہلے اللہ نے ان بندشوں سے عورتوں کو آزاد کر نے کے لئے اپنے آخری نبی کو ایک روشن کتاب ھدایت دے کر بھیجا ۔ جس سماج نے عورتوں کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھا تھا ، حضور نے اس جکڑ سے آزاد کرایا ۔ مگر افسوس صد افسوس مردوں نے اسلام کے نام پر اپنا قبضہ جما لیا ۔
مردوں نے اس بات کو اسطرح توڑ موڑ کر پیش کیا اور عورتوں کو یہ باور کرایا کہ ان کی جگہ گھر کی چار دیواری میں ہے۔ نا انھیں مسجد میں جانا ضروری ہے اور نا ہی اونچی آواز میں بولنے کی اجازت ہے ۔ غیر محرموں سے بات کرنے اوران کی آواز غیر محرم اگر سن لیں تو گناہ عظیم ہو جائے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کو یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ ، مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ہے۔ میرا ایک مضمون ،"مردوں کو چار شادیوں کی اجازت یا متعدد شادیوں پر پابندی" وقت اور موضوع سے ہٹنا نہیں چاہتا ورنہ ایک طویل مضمون ہو جائے گا ۔
عورتوں کی آواز پر پابندی ایک عجیب داستان ہے، جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے ۔ میں تقریباً ہر روز پانچ سے چھ آیات کا انگریزی اور اردو میں ترجمہ کرکے پوسٹ کرتا ہوں ۔ کچھ مولوی حضرات نے اپنا اعتراض ظاہر کیا کہ آپ اس میں عورت کی آواز ڈال کر غلط کام کررہے ہیں ۔
میں نے ان سے کہا حضرت پہلے تو یہ آوازیں مشینی ہیں یہ کسی انسان کی نقل شدہ آوازیں ہیں۔ اس سے پہلے وہ مزید مین میخ نکاتے میں نے ایک سوال کیا ۔
حضرت کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ سے مروی کتنے حدیثیں ہیں ؟ اور حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی کتنے حدیثیں ہیں ؟ میرا سوال سن کر حضرت بغلے جھانکنے لگے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتے ، میں نے سوات کی بوچھاڑ کر دی ۔
میں ںے کہا حدیث کے ذخیرے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا کردار بہت اہم ہے، اور ان میں ابو ہریرہ اور حضرت عائشہ صدیقہ کا مقام نمایاں ہے۔
ابو هریرة ان سے مروی احادیث کی تعداد تقریباً 5374 ہے۔ وہ سب سے زیادہ حدیث روایت کرنے والے صحابی ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، ان سے مروی احادیث کی تعداد تقریباً 2210 ہے۔اور ان کا نمبر دوسرا ہے ۔
میں نے مزید ایک سوال جڑ دیا ۔ کیا حضرت عائشہ نے یہ سارے حدیث صرف عورتوں سے بیان فرمائے ؟
وہ کچھ سٹ پٹائے اور آپنی معلومات کو ناقص بتاتے ہوئے چیں به جبیں ہوئے۔ بات اگر عورتوں کی آواز کی ہوتی تو اس پرپوری طرح روک لگا دی گئی ہوتی، مگر یہ نہیں بلکہ اندازِ گفتگو کی ہے۔ اگر عورت کی آواز بذاتِ خود ممنوع ہوتی تو مکمل خاموشی کا حکم دیا جاتا، نہ کہ لہجے کی اصلاح کی ہدایت۔ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ غیر مردوں سے جب بھی بات کرو، اپنے لہجہ میں کوئی لچک نہ رکھو۔ آپ کے لہجے میں پُراعتمادی اور الفاظ واضح رکھیں ۔
اب ہم صحابہؓ کی سیرت کی طرف آتے ہیں۔ عائشہ صدیقہ نہ صرف ام المؤمنین تھیں بلکہ ایک عظیم محدثہ، فقیہہ اور معلمہ بھی تھیں۔ ان سے تقریباً 2210 احادیث مروی ہیں، جو دین کے ایک بڑے علمی ذخیرے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان احادیث کو صرف خواتین ہی نہیں بلکہ بڑی تعداد میں مرد صحابہؓ نے بھی روایت کیا اور آگے پہنچایا۔
خاص طور پر ابو ہریرہ، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر جیسے جلیل القدر صحابہؓ کا حضرت عائشہؓ سے کوئی قریبی محرم رشتہ نہیں تھا، اس کے باوجود وہ ان سے علمی مسائل میں رجوع کرتے، سوالات کرتے اور ان کے جوابات سنتے تھے۔ یہ سب پردے کے اہتمام کے ساتھ ہوتا تھا، مگر آواز کے ذریعے علم کی منتقلی ایک مسلم حقیقت ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سامنے آتا ہے: اگر عورت کی آواز مطلقاً ستر ہوتی، تو نہ تو صحابہؓ ان سے علم حاصل کر سکتے تھے، اور نہ ہی امت تک یہ عظیم علمی سرمایه پہنچ پاتا۔ گویا حضرت عائشہؓ کی پوری علمی زندگی اس بات کی عملی تفسیر ہے کہ اسلام نے عورت کی آواز کو نہیں روکا، بلکہ اس کے استعمال کے آداب مقرر کیے ہیں۔
مردوں میں بڑی تعداد میں روایت کرنے والوں میں مسروق بن اجدع کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جن کا حضرت عائشہؓ سے کوئی خاندانی تعلق نہیں تھا۔ ان سے مروی حدیث تقریباً ایک ہزار کے قریب ہے ۔
تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ﴿١﴾ سورۃ الفرقان
نہایت متبرک ہے وہ ذات جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے ایک وارننگ یعنی نذیر ہو۔
اس قرآن میں جہاں جہاں فرض اداء کرنے کا حکم آیا ہے، وہاں وہاں ، بغیر تفریق ایسا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ، جو مرد اور عورت دونوں کے لیے لاگو ہوتا ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے مولوی صاحبان نے قرآن سمجھ کر پڑھنے پر پابندی کیوں لگائی ۔ ان کے نظریات یہ رہے کہ جب عام انسان ہمارے چنگل سے آزاد ہو جائے گا تو ہماری اہمیت ختم ہو جائے گی ۔
بغیرمرد اور عورت کے تفریق قرآن کی آیات کی مثال کے طور یہ آیت پیش کررہا ہوں ۔
يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ﴿٣١﴾ سورۃ الاعراف
اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا بہترین لباسِ زیب تن کر لیا کرو، اور کھاؤ، پیو، اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
یہ فرمان مرد اور عورت دونوں کے لئے ہے ۔ ۔ میرا یہ سوال ہے کہ کیا مسجد میں جانا صرف مردوں کے لئے کہا گیا ہے ؟ کیا نماز عورتوں پر فرض نہیں ہے ، نماز جس قدر مردوں پر فرض ہے اسی طرح عورتوں پر بھی فرض ہے ۔
اس فرضیت کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اسلام کے شروعاتی دور سے عورتیں نماز مسجد میں پڑھتے تھے ، حدیث کے مطابق ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کو عشاء اور فجر کی نماز میں شامل ہو نے سے منع مت کرو ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں نماز کے لیے مسجد نبوی میں جاتیں تھیں ، حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں کو مسجد میں آنے پر روک لگائی ۔ حضرت عمر سخت مزاج کے حامل تھے اور لوگ اس حکم کے خلاف ان سے بات کرنے سے ڈرتے تھے ۔ مگر کچھ عورتیں جمع ہوئیں اور آپس میں مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ہم کو عمر سے بات کرنا چاہیے، انھوں نے حضرت عمر سے کہا "عمر" جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع نہیں کیا تو آپ کو کس نے یہ حکم لاگو کرنے کا اختیار دیا ؟ اس بات پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،چپ ہوئے اور اپنا حکم واپس لے لیا ۔ یہ واقع اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں میں حالات سے مقابلہ کرنے کی قوت ہونا ازحد ضروری ہے ۔
بہادری کی مثال ۔
خولہ بنت ازور اسلامی تاریخ کی ایک نهایت بہادر اور غیر معمولی خاتون تھی، جن کا نام خصوصاً جنگ یرموک کے حوالے سے نمایاں ہے۔
جنگ یرموک کے دوران خولہ بنت آزور کے بھائی ضرار بن ازور رومی فوج کے ہاتھوں قید ہو گئے۔ جب خولہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ بے حد غمگین ہوئیں، لیکن ہمت نہ ہاری۔ انہوں نے مردانہ لباس پہنا، چہرہ ڈھانپا، اور گھوڑے پر سوار ہو کر تنِ تنہا دشمن کی صفوں میں گھس گئیں۔ ان کی تلوار کے وار اتنے زبردست تھے کہ دشمن حیران رہ گئے کہ یہ کون بہادر سپاہی ہے۔
وہ مسلسل لڑتی رہیں یہاں تک کہ رومی فوج کے اُس حصے تک پہنچ گئیں جہاں قیدی رکھے گئے تھے۔ اپنی شجاعت اور حکمتِ عملی سے انہوں نے دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور بالآخر اپنے بھائی ضرار بن ازور کو قید سے آزاد کرا لیا۔
جب بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دلیر سپاہی ایک خاتون تھیں، تو مسلمان لشکر میں ان کی بہادری کی بڑی تعریف کی گئی۔
یہ واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایمان، حوصلہ اور عزم ہو تو عورت بھی بڑے سے بڑا کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے بہادری کو سراها بلکہ خوله بنت ازور کوعورتوں کے دستے کا سپہ سالار بنایا ، اور انھوں نے متعدد جنگوں میں حصہ لیا ۔ اگر حضورِ چاہتے تو انھیں روک لیتے۔ مردانہ لباس پہنے پرکچھ تنقید کی ہوتی ، مگر کچھ نہیں ہوا ، اگر ہمارے حالیہ مولوی صاحبان اس دور میں ہوتے تو ، عجیب و غریب سوالات سے حضرت خولہ کا جینا دوبھر کر دیا ہوتا ۔ مردانہ لباس پہنے پر بڑی سرزنش کی ہوتی۔ ہوسکتا ہے میری اس جرات کو دیکھ کر اکثر یہ الزام عاید کریں گے کہ اسکی عقل کھسک گئی ہے۔ مگر میں نے ہر بات دلیل کے ساتھ پیش کی ہے ۔
اسلام میں حقوقِ نسواں — قرآن و حدیث کی روشنی میں۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں مرد و عورت دونوں کو برابر کا انسان سمجھا گیا ہے اور دونوں کے حقوق و فرائض کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات معاشرتی روایات کو دین سمجھ لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عورتوں کے حقوق نظر انداز ہو جاتے ہیں، حالانکہ قرآن و حدیث میں عورت کو عزت، تحفظ اور انصاف فراہم کیا گیا ہے۔ اسلام نے 1450 میں عورتوں کو ووٹ کا حق دیا، پراپرٹی رکھنے کا حق دیا ۔
یورپ اور امریکا میں عورتوں کے حقوق :
عورتوں کو ووٹ دینے کا حق اور جائیداد رکھنے کا حق مختلف ممالک میں مختلف اوقات میں ملا، اس لیے اس کا کوئی ایک سال مقرر نہیں ہے۔ تاہم اہم مثالیں درج ذیل ہیں:
دنیا میں سب سے پہلے خواتین کو ووٹ کا حق New Zealand میں 1893 میں دیا گیا۔
United Kingdom میں خواتین کو جزوی طور پر 1918 میں اور مکمل طور پر 1928 میں ووٹ کا حق ملا۔
United States میں خواتین کو 1920 میں ووٹ کا حق دیا گیا۔
India میں آزادی کے بعد 1950 میں آئین کے تحت خواتین کو مردوں کے برابر ووٹ کا حق ملا۔
جائیداد کا حق (Property Rights) بہت سے مغربی ممالک میں خواتین کو جائیداد رکھنے کا حق 19ویں صدی میں آہستہ آہستہ ملا۔
مثال کے طور پر United Kingdom میں Married Women’s Property Act (1870 اور 1882) کے ذریعے شادی شدہ خواتین کو جائیداد رکھنے کا حق دیا گیا۔
India میں خواتین کو جائیداد کے حقوق وقت کے ساتھ بہتر کیے گئے، خاص طور پر Hindu Succession Act 1956 اور اس میں 2005 کی ترمیم کے بعد بیٹیوں کو برابر کا حق ملا۔
معاشرتی حقوق اور عورت : اسلام نے یہ حقوق ساڑھے چودہ سو سال پہلے عطاء کئے۔
1. انسانی مساوات اور عزت۔
قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں اللہ کے نزدیک برابر ہیں:
"میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کا حصہ ہو" (سورہ آل عمران: 195)
اسی طرح سورہ الحجرات (49:13) میں فرمایا گیا کہ انسان کی فضیلت کا معیار تقویٰ ہے، نہ کہ جنس۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت کو کمتر نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے مکمل عزت دی گئی ہے۔
2. تعلیم کا حق
اسلام نے عورت کو تعلیم حاصل کرنے کا مکمل حق دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے" (سنن ابن ماجہ)
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عورت کو بھی علم حاصل کرنے کا وہی حق ہے جو مرد کو حاصل ہے۔
میں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ہمیشہ یہ حدیث سنی جس میں مرد اور عورت دونوں کا صیغہ استعمال کیا جاتا رہا ، جیسے طلب علم فریضیتن علی کل مسلم و مسلیمات ، جبکہ ہندوستان میں یہ حدیث اسطرح سنی: طلب علم فریضیتن علی کل مسلم ۔ یہ ہمارے سماج کے خیالات کا مظہر ہے ۔ یعنی علماء یا تو سماج کے خوف سے اس قدر پریشان ہیں کہ وہ پبلک میں اصل حدیث کے الفاظ کو بھی توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں ۔علم اگر بے باک نا ہو تو حاصل کچھ بھی نہیں ۔ حق اگر خوف کے غلاف میں پوشیدہ رہے تو اس کا مطلب کچھ بھی نہیں ۔
یہ ہمارا المیہ ہے ۔ صدیوں سے علماء پر یہ پابندی عائد ہے۔ مسلمانوں کا زوال اسے لئے ہوا کہ ہم نے جان کے خوف سے حق چھوڑ دیا ۔
3. معاشی حقوق۔
اسلام نے عورت کو مالی خودمختاری عطا کی ہے: عورت اپنی کمائی کی خود مالک ہے
اسے وراثت میں حصہ دیا گیا (سورہ النساء: 32)
مہر اس کا حق قرار دیا گیا: قرآن میں فرمایا گیا: "مردوں کے لیے اس میں حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں حصہ ہے جو انہوں نے کمایا" (سورہ النساء: 32) یہ آیت عورت کے معاشی حق اور خودمختاری کو واضح کرتی ہے۔
4. وراثت کا حق: اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دیا، جو اس سے پہلے دنیا کے کسی بھی معاشروں میں نہیں تھا: "مردوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے" (سورہ النساء: 7)
یہ عورت کے معاشی تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
5. نکاح میں اختیار : اسلام نے عورت کو نکاح میں رضامندی کا حق دیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "کسی بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہ کیا جائے" (صحیح بخاری)
یہ حدیث عورت کی آزادی اور اس کے حقِ انتخاب کو ظاہر کرتی ہے۔
6. حسنِ سلوک کا حق: نبی کریم ﷺ نے عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی: "تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو" (ترمذی)
اور ایک اور حدیث میں فرمایا: "عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو"(صحیح مسلم)
یہ تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ عورت کے ساتھ عزت، محبت اور نرمی کا سلوک کرنا ضروری ہے۔
حضورِ اکرم ﷺ کے حجۃ الوداع کے آخری خطبہ میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں نہایت واضح اور جامع ہدایات دی گئیں۔ ان الفاظ کا مفہوم اور وضاحت درج ذیل ہے:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر لیا ہے…”
1. اللہ کا خوف اور جوابدہی عورتوں کے بارے میں "اللہ سے ڈرو" کا مطلب یہ ہے کہ مرد اپنی بیویوں اور عورتوں کے ساتھ ہر معاملے میں انصاف، نرمی اور دیانت داری سے پیش آئیں، کیونکہ اس بارے میں اللہ کے حضور جواب دینا ہوگا۔
2. امانت کا تصور عورت کو "اللہ کی امانت" کہنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کوئی کمزور یا حقیر مخلوق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، جس کا خیال رکھنا، اس کی عزت کرنا اور اس کے حقوق ادا کرنا لازم ہے۔
3. نکاح کا مقدس رشتہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے انہیں اللہ کے کلمہ کے ذریعے حلال کیا ہے، یعنی نکاح ایک مقدس معاہدہ ہے، کوئی وقتی یا کھیل نہیں۔ اس میں حقوق و فرائض دونوں طرف لازم ہیں۔
4. حقوق اور ذمہ داریاں
مرد پر لازم ہے کہ وہ عورت کو کھانا، لباس اور رہائش فراہم کرے۔ عورت کی عزت، وقار اور جذبات کا خیال رکھا جائے۔ ظلم، سختی اور زیادتی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
5. باہمی حسنِ سلوک اسلام مرد و عورت کے درمیان محبت، رحمت اور احترام کا تعلق قائم کرنا چاہتا ہے، نہ کہ جبر اور برتری کا۔
خلاصہ : یہ تاکید دراصل اس بات کو واضح کرتی ہے کہ عورت اسلام میں باعزت مقام رکھتی ہے، اور مرد کو اس کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ تعلیمات آج بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی اُس وقت تھیں، بلکہ معاشرتی اصلاح کے لیے ان پر عمل نہایت ضروری ہے۔
7. ماں کا مقام : اسلام نے ماں کے مقام کو بہت بلند کیا ہے۔ ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
"تمہاری ماں" ان صاحبی نے ویہی سوال دوبارا کیا اور کہا اس کے بعد، حضور نے پھر فرمایا "تمہاری ماں" وہ صاحبی نے تیسری بار پوچھا، اور اس کے بعد تو حضور نے فرمایا "تمہارا باپ"۔
یہ حدیث ماں کے عظیم مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
سماجی اور اخلاقی تحفظ : اسلام عورت کی عزت و عصمت کے تحفظ پر بہت زور دیتا ہے: بہتان اور جھوٹے الزام کی سخت سزا مقرر کی گئی (سورہ النور: 4)
سورۃ النور میں بہتان (الزامِ زنا) لگانے والوں کے لیے سخت سزا آیت نمبر 4 میں بیان ہوئی ہے۔
آیت (24:4):
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
ترجمہ:
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں، پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں، تو انہیں اسی (80) کوڑے مارو، اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ فاسق ہیں۔
یہ آیت بہتان کی سنگینی کو واضح کرتی ہے اور معاشرے میں عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے سخت قانون مقرر کرتی ہے۔
عورتوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے سے پہلے الله مردوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچے رکھیں آیت نمبر 30۔ اور آیت نمبر 31 میں عورتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔
یہ تمام احکام معاشرے میں پاکیزگی اور احترام کو فروغ دیتے ہیں۔
اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا ہے جو اس کی فطرت اور عزت کے مطابق ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو عورت نہ صرف ایک باوقار انسان ہے بلکہ اسے زندگی کے ہر شعبے میں حقوق دیے گئے ہیں—چاہے وہ تعلیم ہو، معیشت ہو، نکاح ہو یا معاشرتی عزت۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو صحیح معنی میں سمجھیں اور معاشرتی رسم و رواج کے بجائے قرآن و سنت کو معیار بنائیں، تاکہ عورت کو وہ مقام مل سکے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا ہے۔
ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
Comments
Post a Comment