مشرقِ وسطیٰ کا بحران: تاریخی اسباب اور حل کی تلاش۔۔ (خلیجی ریاستیں اور امریکی سرپرستی: تحفظ یا خطرہ؟)ازقلم : اسماء جبین فلک۔


مشرقِ وسطیٰ کا بحران: تاریخی اسباب اور حل کی تلاش۔۔ 
(خلیجی ریاستیں اور امریکی سرپرستی: تحفظ یا خطرہ؟)
ازقلم : اسماء جبین فلک۔ 

بین الاقوامی تعلقات کا یہ بنیادی اصول ہر دور میں صادق آیا ہے کہ کوئی بھی علاقائی بحران کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی جڑیں دہائیوں پر محیط سیاسی فیصلوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ اپریل 2026ء میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ ایک وسیع تر عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے، شہری آبادیاں نشانہ بن رہی ہیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے۔ اس خطرناک صورتِ حال کی تاریخی جڑوں کا معروضی اور دستاویزی جائزہ لینا وقت کا اہم ترین علمی تقاضا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے پہلی عالمی جنگ کے بعد کے منظرنامے سے آغاز لازمی ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق پہلی عالمی جنگ کے خاتمے پر برطانیہ اور فرانس نے عثمانی خلافت کے عرب علاقوں کو آپس میں تقسیم کیا اور مینڈیٹ نظام کے تحت اپنا نوآبادیاتی اقتدار قائم کیا۔ اسی بیرونی مداخلت کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ آج کی خلیجی ریاستوں کی سرحدیں اور سیاسی ڈھانچے مقامی ارادے کی پیداوار نہیں بلکہ استعماری ضرورتوں کی تشکیل ہیں۔ جو درخت ٹیڑھی بنیاد پر کھڑا کیا جائے، اس کی شاخوں سے درست پھل کی توقع رکھنا علمی بھول ہے۔
امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ تقریباً 80 برسوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ روزنامہ صحارا کے مطابق اس تعلق کی بنیاد ایک غیر تحریری مگر مضبوط سودے پر قائم ہے کہ سعودی عرب تیل کی بلا روک فراہمی یقینی بنائے اور امریکہ حکومت کو تحفظ فراہم کرے۔ یہ سودا 1973ء تک بظاہر یک طرفہ امریکی برتری کا عکاس رہا مگر اس سال شاہ فیصل نے مغربی دنیا کو تیل کی فراہمی بند کر کے یہ ثابت کیا کہ عرب دنیا کے پاس خودمختار طاقت موجود ہے بشرطیکہ اسے استعمال کرنے کا حوصلہ ہو۔ افسوس کہ شاہ فیصل کے بعد آنے والے حکمرانوں میں یہ حوصلہ بتدریج ماند پڑتا گیا۔
1979ء کے ایرانی انقلاب نے خلیجی حکمرانوں کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا۔ ایک تجزیے کے مطابق انقلاب کے بعد ایران کی قیادت نے مخصوص مسلک کی سربراہی تک اپنے آپ کو محدود کرنے، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور مسلح گروہوں کی پشتیبانی کی پالیسی اپنائی جس نے خطے کے عرب ممالک کو ایران سے دور اور امریکہ کے قریب دھکیل دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے ایرانی پالیسی کے تناظر میں معروضی طور پر تسلیم کرنا ضروری ہے کیونکہ خلیجی ریاستوں کا امریکی قربت کا رجحان محض ان کی اپنی غلطی نہیں بلکہ اس میں ایرانی پالیسی کے ردِّعمل کا عنصر بھی موجود ہے۔
1990ء میں جب صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تو امریکہ نے ایک وسیع عرب مغربی اتحاد تشکیل دے کر کویت کو آزاد کرایا مگر اس آزادی کی قیمت یہ تھی کہ عرب سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی مستقل موجودگی کو قبولیت مل گئی۔ آج بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑہ، قطر میں العدید فضائی مستقر اور خلیج کی متعدد ریاستوں میں فوجی تنصیبات اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔ ایک پاکستانی اخبار کے مطابق ایران کا یہ موقف سامنے آ چکا ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں کے خلاف براہِ راست کارروائی نہیں کرنا چاہتا، تاہم ان میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اپنی سرزمین پر امریکی موجودگی کے باعث ممکنہ جنگی خطرے میں ہیں۔
اس پورے بحران میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں معاشی اعتبار سے خطے کی توانائی کا مرکزی محور ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق کسی بھی جنگی کشیدگی کا براہِ راست اثر تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں پر پڑے گا۔ یہ حقیقت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خلیجی ریاستیں اپنی معاشی طاقت کو سیاسی دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کریں، جیسا کہ 1973ء میں کیا گیا تھا، نہ کہ اسے محض فوجی سرپرستی کے حصول کا ذریعہ بنائے رکھیں۔
اس تناظر میں قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم کی تجویز قابلِ توجہ ہے جنھوں نے خلیجی ممالک کو دفاعی تنظیم طرز کا مشترکہ فوجی و سیاسی اتحاد قائم کرنے کی اپیل کی۔ یہ تجویز اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اگر خلیجی ریاستیں انفرادی طور پر بیرونی سرپرستی پر انحصار کرتی رہیں تو ان کی خودمختاری ہمیشہ کسی نہ کسی بیرونی طاقت کی یرغمال رہے گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ امریکی اڈوں اور دفاعی معاہدوں کے باوجود خلیجی ریاستیں علاقائی خطرات کے سامنے اپنا دفاع خود کیوں نہیں کر پاتیں۔ یہ سوال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بیرونی دفاعی انحصار نے خلیجی ریاستوں کی اپنی عسکری صلاحیت کو مضبوط کرنے کی رغبت کم کر دی ہے۔
مارچ 2023ء میں چین کی ثالثی سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور عدم جارحیت کے معاہدے نے ایک لمحے کے لیے یہ امکان روشن کیا کہ خطے کے ممالک خود اپنے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ اس معاہدے کی کامیابی کے لیے چین کا کردار اس بات کی دلیل تھی کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں غیر جانبدار ثالث کی ضرورت ہے اور امریکہ کبھی غیر جانبدار ثالث نہیں رہا۔ تاہم اس معاہدے کے بعد کے واقعات نے یہ بھی ظاہر کیا کہ علاقائی استحکام کے لیے سفارتی معاہدے کافی نہیں جب تک ان کے پیچھے سیاسی ارادے کی مضبوط بنیاد نہ ہو۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک تحقیقی مضمون میں یہ سوال اٹھایا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت بار بار مہنگی کیوں پڑتی ہے۔ اس کا جواب تاریخ میں موجود ہے کہ 1953ء میں ایران میں مصدق کی حکومت ختم کی گئی، 2003ء میں عراق تباہ کیا گیا اور لیبیا کو انتشار کا شکار کیا گیا مگر ہر بار خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کا وہ نتیجہ نہیں نکلا جس کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود خلیجی حکمرانوں نے اس تاریخی سبق سے کوئی نتیجہ نہیں نکالا، یہی ان کی سب سے بڑی سیاسی کمزوری ہے۔
آج اگر خلیجی ریاستیں تاریخ کے اس نازک موڑ پر کوئی آزادانہ اور خودمختار کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو ان کے پاس ابھی بھی وسائل موجود ہیں جن میں تیل کی طاقت، علاقائی جغرافیائی اہمیت اور اسلامی دنیا کی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی سفارتی سکت شامل ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ طاقت موجود ہے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اسے استعمال کرنے کا ارادہ موجود ہے یا نہیں۔ اور اسی ارادے کی کمی یا موجودگی تاریخ کے کٹہرے میں ان حکمرانوں کے مقدمے کا فیصلہ کرے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ