اسرائیل کا سمسن آپشن: مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ۔(جوہری بلیک میلنگ: اسرائیل کی خفیہ عسکری حکمت عملی کا تنقیدی جائزہ)۔ ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔


اسرائیل کا سمسن آپشن: مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ۔
(جوہری بلیک میلنگ: اسرائیل کی خفیہ عسکری حکمت عملی کا تنقیدی جائزہ)
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت اپنی جدید تاریخ کے ایک ایسے انتہائی نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جہاں تنازعات کی آگ محض غزہ کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ لبنان، شام اور ایران تک پھیل کر ایک ہمہ گیر علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت متعدد عالمی مبصرین اور ادارے اس تشویش کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ موجودہ بحران کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو کر عالمی امن کے لیے ایک تباہ کن سانحے کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی پیچیدہ، ہنگامہ خیز اور تیزی سے بگڑتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی پس منظر میں اسرائیلی ریاست کے اس انتہائی اور غیر معمولی تزویراتی نظریے کا تنقیدی جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے جسے عالمی عسکری و سیاسی حلقوں میں ’سمسن آپشن‘ یا ’سمسن ڈاکٹرائن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ محض ایک روایتی دفاعی حکمت عملی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا غیر متناسب تزویراتی دفاعی نظام اور نفسیاتی حربہ ہے جس نے پورے خطے اور بالواسطہ طور پر پوری دنیا کو ایک مستقل خوف اور عدم تحفظ کے سائے تلے یرغمال بنا رکھا ہے۔ جب کوئی ریاست اپنی بقا کے تحفظ کو ایک ایسے انتہائی تصور کے ساتھ جوڑ دے جس میں حتمی ناکامی کی صورت میں اپنے ساتھ ساتھ پورے خطے اور دشمنوں کو بھی نیست و نابود کرنے کا عزم شامل ہو، تو اس کا عسکری رویہ منطقی فیصلوں کے بجائے ایک خطرناک جنونیت کا روپ دھار لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور کے بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سلامتی کے تناظر میں اسرائیل کا یہ تزویراتی نظریہ دنیا کے لیے ایک سمِ قاتل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات حالیہ جنگ میں انتہائی بھیانک شکل میں سامنے آ رہے ہیں۔
تاریخی اور لغوی اعتبار سے سمسن آپشن کی اصطلاح بائبل کے ایک مشہور کردار ’سمسن‘ سے ماخوذ ہے، جس کے متعلق یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ جب اسے اس کے دشمنوں نے قید کر کے ایک معبد میں زنجیروں سے جکڑ دیا اور اس کی تمام تر طاقت سلب کر لی گئی، تو اس نے اپنی آخری اور حتمی طاقت کو مجتمع کر کے اس عمارت کے ستون گرا دیے، جس کے نتیجے میں وہ خود بھی مارا گیا لیکن اس نے اپنے ساتھ اپنے ہزاروں دشمنوں کو بھی موت کی نیند سلا دیا۔ اسرائیلی عسکری نفسیات میں اس واقعے کو ایک حتمی انتقام اور یکطرفہ یقینی تباہی کے استعارے کے طور پر اپنایا گیا ہے۔ اس اصطلاح اور اسرائیل کی اس خفیہ جوہری حکمت عملی کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ شہرت اس وقت ملی جب 1991 میں معروف امریکی صحافی اور پلٹزر انعام یافتہ مصنف سیمور ہرش نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "دی سمسن آپشن" شائع کی۔ اس تحقیقی تصنیف میں انتہائی مستند شواہد اور انٹیلی جنس ذرائع کی بنیاد پر یہ انکشاف کیا گیا کہ اسرائیل نے کس طرح اپنا غیر اعلانیہ جوہری پروگرام تشکیل دیا اور اس کا اصل مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ اگر بین الاقوامی برادری اسرائیل کو بچانے میں ناکام رہی یا اس کے وجود کو کوئی حتمی خطرہ لاحق ہوا، تو وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پورے خطے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دے گا۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان موجود باہمی یقینی تباہی کا نظریہ توازنِ طاقت اور جنگ سے گریز پر مبنی تھا، جبکہ اسرائیل کا یہ نظریہ اس خوفناک فلسفے پر کھڑا ہے کہ اگر ہم نہیں بچیں گے تو ہم کسی کو بچنے نہیں دیں گے۔
اس تباہ کن نظریے کی عملی بنیاد اسرائیل کی وہ ریاستی پالیسی ہے جسے سفارتی اور تزویراتی اصطلاح میں جوہری ابہام کہا جاتا ہے۔ معروف امریکی اسرائیلی محقق اور مورخ ایونر کوہن نے اپنی مایہ ناز تحقیق "اسرائیل اینڈ دی بم" میں ریاستی دستاویزات کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ اسرائیل نے کبھی بھی باقاعدہ طور پر اپنے جوہری ہتھیاروں کا نہ تو تجربہ کیا، نہ ہی ان کا اعلان کیا، اور نہ ہی ان کی تردید کی۔ اس ابہام کی جڑیں 1969 میں اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن اور اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر کے درمیان ہونے والے ایک خفیہ معاہدے میں پیوست ہیں۔ اس خفیہ مفاہمت کے تحت امریکہ نے اسرائیل کے جوہری پروگرام سے چشم پوشی اختیار کرنے اور اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کرنے کے دباؤ سے مستثنیٰ قرار دینے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ اس کے بدلے اسرائیل نے یہ وعدہ کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیار متعارف کرانے والا پہلا ملک ہونے کا باقاعدہ اعلان نہیں کرے گا۔ اس دانستہ چشم پوشی اور اصولی تضاد نے اسرائیل کو ایک ایسی استثنائی حیثیت عطا کر دی جس کے تحت وہ بین الاقوامی قانون اور عالمی احتساب کی حدود سے مکمل طور پر آزاد ہو گیا۔ ایک طرف دنیا کے دیگر ممالک پر جوہری ٹیکنالوجی کے حصول پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، لیکن دوسری جانب اسرائیل کو یہ چھوٹ دی گئی کہ وہ مشرق وسطیٰ جیسی حساس ترین جغرافیائی پٹی میں اپنے جوہری ہتھیاروں کے ڈھیر لگا لے۔ یہی دوہرا معیار دراصل اس سمِ قاتل کی افزائش کا بنیادی سبب بنا ہے جس کا خمیازہ آج پوری دنیا بھگت رہی ہے۔
اس تزویراتی ابہام کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ سمسن آپشن محض اسرائیل کے حتمی دفاع کا آلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک انتہائی جارحانہ سفارتی اور سیاسی ہتھیار میں تبدیل ہو چکا ہے جسے جوہری بلیک میلنگ کے لیے کامیابی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ تزویراتی تجزیہ کار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس ڈاکٹرائن کا بنیادی مقصد دشمنوں پر حملہ کرنے سے زیادہ، اپنے مغربی اتحادیوں بالخصوص امریکہ کو دباؤ میں لانا ہوتا ہے۔ تاریخی شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ 1973 کی جنگِ یوم کپور کے دوران جب اسرائیل کو مصری اور شامی افواج کے ہاتھوں ابتدائی مراحل میں بھاری ہزیمت کا سامنا تھا، تو اسرائیلی قیادت نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو الرٹ کر دیا تھا۔ اس اقدام کا ہدف عرب ریاستیں نہیں، بلکہ امریکی انتظامیہ تھی، جسے یہ واضح اور دو ٹوک پیغام دیا گیا کہ اگر امریکہ نے فوری طور پر روایتی ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر فراہمی شروع نہ کی، تو اسرائیل حتمی جوہری تباہی کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اسی بلیک میلنگ کے نتیجے میں امریکہ نے تاریخ کی سب سے بڑی فضائی سپلائی لائن کے ذریعے اسرائیل کی مدد کی اور جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ آج بھی غزہ، لبنان اور خطے کے دیگر حصوں میں جاری اسرائیلی عسکریت پسندی اور بلا روک ٹوک بمباری کے پیچھے یہی پوشیدہ جوہری چھتری کارفرما ہے، جس کے سائے تلے اسرائیل کو یہ یقین ہے کہ وہ انسانیت سوز جرائم کا بلاتعطل ارتکاب کر سکتا ہے اور کوئی بھی عالمی طاقت اس خوف سے اس کا ہاتھ نہیں روکے گی کہ کہیں یہ ریاست اپنے اعصابی تناؤ میں سمسن کا تباہ کن انتخاب نہ کر لے۔
حالیہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی قیادت کی صفوں سے ابھرنے والے بیانات نے اس نظریے کو محض ایک پوشیدہ ریاستی راز کی حد سے نکال کر ایک عملی، قابلِ ذکر اور انتہائی تشویشناک امکان کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ نومبر 2023 میں اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ ورثہ عمیحائی الیاہو نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کھلے عام یہ بیان دیا کہ غزہ پر ایٹم بم گرانا حکومت کے زیر غور اقدامات میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں جنوری 2024 میں انہوں نے اپنے اس مؤقف کا دوبارہ دفاع کیا اور غزہ کی محصور شہری آبادی کے خلاف غیر روایتی ہتھیاروں کے استعمال کے مطالبات کو ہوا دی۔ اگرچہ عالمی سطح پر اور خطے کے ممالک، بشمول بھارت کی جانب سے اس بیان کی شدید مذمت کی گئی اور اسرائیلی وزیر اعظم نے انہیں علامتی طور پر کابینہ کے اجلاسوں سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم اس واقعے نے بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور قانون دانوں کے سامنے اسرائیل کے تزویراتی کلچر کی وہ بھیانک تصویر پیش کر دی جس میں ایک پوری شہری آبادی کو جوہری راکھ میں تبدیل کرنے کا خیال اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں پنپ رہا ہے۔ جب ایک ریاست کا وزیر کھلے عام ایسی دھمکی دے اور اسے محض ایک ذاتی رائے قرار دے کر ٹال دیا جائے، تو یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ مسادا نفسیاتی گرہ اور سمسن آپشن کی جنونیت اس ریاست کی ادارہ جاتی سوچ اور عسکری نفسیات میں کس قدر گہرائی تک سرایت کر چکی ہے۔
بین الاقوامی قانون اور عالمی اداروں کی کارکردگی کے تناظر میں، سمسن ڈاکٹرائن کا وجود بذات خود عالمی ضابطوں کی کھلی اور صریح خلاف ورزی ہے۔ 1996 میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے اپنے ایک تاریخی مشاورتی فیصلے میں یہ صراحت کے ساتھ واضح کر دیا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال تو درکنار، ان کے استعمال کی دھمکی دینا بھی بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشنز کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے، کیونکہ یہ ہتھیار عسکری اور غیر عسکری اہداف کے درمیان تفریق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر ایٹمی حملے کے اشارے محض اشتعال انگیز بیانات نہیں ہیں، بلکہ قانونی اصطلاح میں یہ ریاستی دہشت گردی اور نسل کشی کے کھلے اعلانات کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کے باوجود، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر عالمی ادارے اسرائیل کے اس ایٹمی رویے پر مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو عالمی نظامِ انصاف کے کھوکھلے پن کو عیاں کرتا ہے۔ سمسن آپشن کا یہ نظریہ موجودہ دنیا کے لیے اس لیے بھی ایک سمِ قاتل ہے کہ یہ طاقت کے توازن کو مکمل طور پر غیر مستحکم کر رہا ہے۔ جب مشرق وسطیٰ جیسی خطے کی ایک واحد ریاست کو یہ اختیار حاصل ہو جائے کہ وہ اپنے جوہری خنجر کی نوک پر پوری دنیا کو سفارتی اور اخلاقی طور پر یرغمال بنا لے، تو اس کے نتیجے میں خطے کی دیگر ریاستیں بھی اپنے عدم تحفظ کو دور کرنے کے لیے لازماً روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ آج خطے میں موجود بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ اسی عدم تحفظ کا براہ راست نتیجہ ہے جس کی بنیاد اسرائیل کی جوہری استثنائی حیثیت نے رکھی ہے۔
اس تمام بحث کا منطقی، معروضی اور تنقیدی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب تک اسرائیل کا سمسن آپشن موجود ہے، مشرق وسطیٰ اور وسیع تر دنیا میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ موجودہ جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کا تصور تنہائی، جارحیت اور دوسروں کی مکمل تباہی کے فلسفے پر کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسی بیمار تزویراتی ذہنیت ہے جو اپنے دفاع کے نام پر بین الاقوامی قوانین کو پامال کرنے، ہسپتالوں اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے، اور حتمی طور پر پوری دنیا کو ایٹمی جنگ کی بھٹی میں جھونکنے سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ عالمی برادری بالخصوص مغربی طاقتیں، جو انسانی حقوق اور جوہری عدم پھیلاؤ کی سب سے بڑی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل کو دی گئی یہ کھلی اور غیر مشروط چھوٹ دراصل ان کی اپنی بقا کے لیے بھی ایک عظیم خطرہ بن چکی ہے۔ جدید دنیا کو اگر ایک ہمہ گیر ایٹمی تباہی، تابکاری کے اثرات اور عالمی معیشت کی حتمی بربادی سے بچانا ہے، تو اقوام متحدہ کو محض قراردادوں اور مشاورتی آراء سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس کا واحد اور ناگزیر حل یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کو فوری طور پر اور سختی کے ساتھ ایک جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ قرار دیا جائے، اسرائیل کی جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے کڑے معائنوں کا پابند بنایا جائے، اور اس کے خفیہ ایٹمی ذخیرے کو غیر مسلح کرنے کے لیے ٹھوس سفارتی و معاشی پابندیاں عائد کی جائیں۔ بصورت دیگر، اگر عالمی ضمیر یونہی مفلوج رہا اور اسرائیل کو اس کی جوہری ابہام اور سمسن ڈاکٹرائن کی بلیک میلنگ جاری رکھنے کی اجازت دی گئی، تو وہ دن دور نہیں جب صیہونی جنونیت کے ہاتھوں گرائے جانے والے ان استعاراتی ستونوں کے ملبے تلے صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں، بلکہ عالمی امن، بین الاقوامی قانون اور انسانیت کا پورا وجود ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ