ہرمز اور خالد بن ولیدؓ — معرکۂ کاظمہ کی تاریخی جھلک - از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں)


ہرمز اور خالد بن ولیدؓ — معرکۂ کاظمہ کی تاریخی جھلک
از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں)

اسلامی فتوحات کے ابتدائی دور میں عراق کی سرزمین پر ایک اہم معرکہ پیش آیا جسے تاریخ میں Battle of the Chains یا جنگِ کاظمہ (ذات السلاسل) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ایک طرف اسلامی لشکر کے عظیم سپہ سالار خالد بن ولید تھے اور دوسری طرف ساسانی سلطنت کے مشہور جرنیل ہرمز اپنی فوج کے ساتھ موجود تھے۔
یہ واقعہ خلافتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کے زمانے میں پیش آیا، جب اسلامی لشکر عراق کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔ فارس کی سلطنت اس وقت خطے کی ایک بڑی طاقت تھی اور اس کے جرنیل ہرمز کو ایک تجربہ کار اور سخت گیر سپہ سالار سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے مسلمانوں کے مقابلے کے لیے بھیجا گیا۔
ہرمز کا چیلنج : 
تاریخی روایات کے مطابق جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے تو فارسی جرنیل ہرمز نے اسلامی لشکر کے کمانڈر خالد بن ولیدؓ کو مبارزہ یعنی تنہا مقابلے کی دعوت دی۔ عرب جنگی روایت کے مطابق یہ ایک عام طریقہ تھا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے دونوں فوجوں کے بڑے سپہ سالار آمنے سامنے مقابلہ کرتے تھے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہٗ جنہیں اسلام لانے کے بعد میں “سیف اللہ” یعنی اللہ کی تلوار کا لقب ملا، نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔ دونوں سپہ سالار میدان میں اترے اور سخت مقابلہ شروع ہوا۔
مقابلہ اور ہرمز کی موت :
بعض تاریخی روایات کے مطابق ہرمز نے اپنے سپاہیوں کو خفیہ اشارہ کیا کہ وہ موقع ملتے ہی خالد بن ولیدؓ پر پیچھے سے حملہ کریں۔ تاہم حضرت خالد رضي اللہ عنہٗ کے ساتھی اس چال کو سمجھ گئے اور فوراً مداخلت کی۔ شدید لڑائی کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہٗ نے ہرمز کو قتل کر دیا۔
ہرمز کے مارے جانے کے بعد فارسی فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو اس معرکے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی اور عراق میں اسلامی فتوحات کا راستہ مزید کھل گیا۔
اسلامی فتوحات میں اس جنگ کی اہمیت : 
جنگِ کاظمہ اسلامی فتوحاتِ عراق کی ابتدائی اور اہم کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف مسلمانوں کا حوصلہ بلند کیا بلکہ ساسانی سلطنت کی فوجی طاقت کو بھی پہلا بڑا دھچکا پہنچایا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت اور بہادری نے اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
تاریخی ماخذ : 
اس واقعے کا ذکر کئی معروف اسلامی تاریخی کتابوں میں ملتا ہے، جن میں شامل ہیں:
تاریخ الطبری 
البدایہ والنہایہ 
 الکامل فی التحریک 
 فتوح البلدان
نتیجہ
ہرمز اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا یہ مقابلہ اسلامی تاریخ کے یادگار واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس معرکے نے یہ ثابت کیا کہ مضبوط ایمان، اعلیٰ قیادت اور حکمتِ عملی کے ذریعے ایک نسبتاً چھوٹا لشکر بھی بڑی طاقتوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہٗ کی بہادری اور جنگی مہارت نے اسلامی فتوحات کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آج کے دور میں جب کہ تمام دنیا میں بے امنی کا ماحول ہے اور خصوصی طور پر مسلمانوں کیلئے ایک انتہائی اہم ترین امتحان کا وقت ہے ایسے دور میں ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ان اعلیٰ ترین اسلاف کی سیرت و واقعات اور اُنکی دین اسلام کے متعلق محبت و عقیدت کو اپنے معاشرے میں عام کرے اپنے احباب بالخصوص اپنے بچوں کو ان اعلیٰ ترین اسلاف کی سیرت و کردار کی طرف توجہ دلائیں تاکہ ہماری نسلیں ان یہود و نصاریٰ کی پیروی نہ کرے بلکہ اپنے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کر سکے اللہ کریم ہم سبکو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہٗ کا صدقہ عطا فرمائے اور ہمیں دین و دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائے اور ہمارے ایمان کی حفاظت~ فرمائے آمین یارب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ