حضرت خواجہ سید تاج الدین شیر سوار رحمة اللہ علیہ بسواکلیان کے 648 واں عرس شریف کامیاب انصرام : فرض نمازوں کے ساتھ تہجد کا اہتمام بھی کریں۔ضیاء الحسن جاگیردار سجادہ نشین کا پر اثر خطاب۔


بیدر : 13/ اپریل(نامہ نگارمحمدعبدالصمد) خواجہ محمد مصباح الحسن جاگیردار جانشین سجادہ نشین بارگاہِ عالیہ حضرت شیر سوار ؒ بسواکلیان ، ضلع بیدر کی پریس نوٹ کے بموجب شوال المکرم کی 21,22,23 مطابق 10٬11٬12 اپریل2026ء قطب کلیانی ؒ کا 648 واں عرس شریف بصد عقیدت واحترام منایا منایا گیا ۔ جلوس ِصندل مبارک 10 اپریل بروز جمعہ بعد نماز مغرب بارگاہِ حسین میں تقدس مآب پیر طریقت رہبرِ شریعت حضرت شاہ محمد ضیاءالحسن جاگیر دار قبلہ سجادہ نشین ومتولی بارگاہ شیر سوار ؒ وجانشین سجادہ نشین حضرت مصباح الحسن جاگیر دار قبلہ اور تمام خلفاءومریدین ومعتقدین کے ہمراہ محفل درودوسلام فاتحہ خوانی کا اہتمام رہا ۔ نماز عشاءادا کی گئی اس کے بعد جلوس صندل مبارک ہزاروں عقیدتمندان کے ساتھ بارگاہ حسین سے روانہ ہوکر شہر کی مختلف شاہ راہوں سے گزرتا ہوا رات دیر گئے بارگاہ عالیہ حضرت شیرسوار ؒ پہنچا ۔نماز فجر سے پہلے صندل مالی انجام دی گئی ۔بعد نماز فجر اجتماعی ذکر جہری کی محفل منعقد ہوئی ۔11اپریل بروز ہفتہ بعدنمازعصر سجادہ نشین نے اپنے چھ منتخب مریدین کو خلافت سے نوازا ۔اس موقع پر حضرت نے خلافت عنوان پر خطاب کرتے ہوے کہا کہ یہ لمحہ یقیناً خوشی اور سعادت کا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز بھی ہے٬ایسی زندگی جو پہلے سے زیادہ ذمہ داریوں، آزمائشوں اور احتساب سے بھری ہوتی ہے۔
خلافت ملنے کے بعد مرید کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اب وہ صرف ایک طالب نہیں رہتا بلکہ رہنما بن جاتا ہے۔ اس کے قول و عمل دوسروں کے لیے نمونہ بن جاتے ہیں۔ اسے اپنے نفس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی رہنمائی کا فریضہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔
خلافت کے بعد سب سے اہم چیز استقامت ہے۔ جو سیکھا ہے، اس پر ثابت قدم رہنا، عاجزی کو اختیار کرنا، اور اپنے مرشد کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنا۔یہی اصل کامیابی ہے۔ اس مقام پر غرور یا غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، بلکہ جتنا مقام بلند ہوتا ہے، اتنی ہی عاجزی ضروری ہو جاتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خلافت کے بعد آزمائشیں بڑھ جاتی ہیں۔ لوگوں کی توقعات، معاشرے کی نظر اور شیطان کے وسوسے٬ سب انسان کو پرکھتے ہیں۔ ایسے میں صبر، دعا اور اللہ پر کامل بھروسہ ہی سہارا بنتا ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ خلافت کو اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کی زندگی کو دین کی خدمت کا بہترین ذریعہ بنائے ۔بعدنماز مغرب چراغاں روشن کئے گئے اور بعد نماز عشاءجلوس جھیلہ بارگاہ حسین سے نکل کر بارگاہ شیر سوار ؒ پہنچا رات 10بجے احاطہ درگاہ شریف میں جلسہ عظمت اولیاءاللہ کا انعقاد عمل میں آیا ۔اس جلسہ کی سرپرستی ونگرانی تقدس مآب پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ ضیاءالحسن جاگیر دار صاحب قبلہ چشتی نظامی منوری شیر سواری سجادہ نشین ومتولی بارگاہ حضرت شیر سوار ؒ بسواکلیان نے فرمائی ۔پیشروسجادہ نشین افضل البیان شئخ المشائخ پیر طریقت الحاج حضرت مولانا علامہ خواجہ ابوالحسن جاگیردار صاحب قبلہ شاہ افضل پیر چشتی نظامی منوری شیر سوار رحمتہ اللہ علیہ کے فیض روحانی سے اور تقدس مآب حضرت مولانا خواجہ ضیاء الحسن جاگیردار صاحب قبلہ شیر سوری و موروثی سجادہ نشین و متولی بارگاہ عالیہ کی صدارت میں جلسہ فیضان اولیاء منعقد ہوا۔اس جلسہ میں مہمانان خصوصی کے طور پر تقدس مآب حضرت سید شاہ خلیل اللہ حسینی برادر سجادہ نشین گلسرم موظف صدرمدرس کے علاوہ کئی ایک مشائخین عظام و علمائے کرام شیہ نشین پر جلوہ افروز رہے۔خصوصی واعظین میں حضرت مولانا مفتی سیدشاہ حسینی پیراں کامل جامعہ نظامیہ و ریسرچ اسکالر مولانا آزادنشینل اردو یونیورسٹی گلبرگہ اور مہمان مقررعالم جلیل خطیب ذیشان حضرت مولانا علامہ مفتی محمد حنیف قادری حیدراباد نے خطاب فرمایا۔صدر جلسہ و سجادہ نشین بارگاہ عالیہ تقدس مآب حضرت خواجہ ضیاء الحسن جاگیردار نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کوئی ولی ولایت کے درجہ پر آس وقت تک نہیں پہونچ سکتا جب تک کہ وہ ارکان اسلام اور پانچ وقتوں کی نمازوں کے علاوہ تہجد کی نماز پابندی سے ادا نہ کرتے ہوں۔اہنوں نے زور دیکر کہا کہ ہم اج دور حاضر میں دنیوی مصروفیات میں اتنے مشغول ہوچکے ہیں کہ ہمیں نمازوں کی کوئی فکر نہیں ہوتی ۔سجادہ نشین نے کہا کہ دنیا واخرت میں کامیابی و کامرانی چاہتے ہو تو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العبادپربھی کاربند رہیں۔ ابتدا میں قراءت کلام پاک کے بعد الحاج انجینئرمحمد معین الدین سہروردی گلبرگہ اور میر رحمت علی بندہ نوازی حیدراباد نے نعت رسول سنانے کی سعادت حاصل کی۔مولوی محمد خواجہ گیسو داز موظف اردو اسکول نوڈل آفسر ضلع گلبر گہ نے نظامت کے فرائض بحسںن وخوبی سے انجام دئے۔جبکہ الحاج انجینئر محمد معین الدین سہر وردی نے سلام بحضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و سلم اجتماعی طور پڑھا۔ کل 12اپریل بعد عصر محفل قران خوانی ٬شجرہ خوانی ٬فاتحہ اور دورد وسلام و تبروکات کی تقسم عمل میں ائی ۔بعدنماز عشاء محفل سماع گرم ہوئی۔گجرات کے ممتاز قوالوں نے ساز پر تازہ ترین کلام پیش کیا ۔صدر جلسہ تقدس مآب حضرت مولانا خواجہ ضیاء الحسن شیر سواری نے فاتحہ پڑھی اور دعائے خیر فرمائی۔بعد شکریہ دعائے سلامتی کے بعد یہ روحانی تقریب تکمیل پذیر ہوئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ