رحمتِ حق جلوہ فرما ہے بنام اولیاء۔ خصوصی مضمون - حضرت سید تاج الدین خواجہ شیرسوارؒ ،المعروف راجہ باگ سواررحمة اللہ علیہ ،بسواکلیان - بضمن 648واںعرس سراپا قدس(21شوال المکر م ) از قلم : خواجہ ضیاءالحسن جاگیردار چشتی نظامی خواجہ شیر سواری، سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ سید تاج الدین خواجہ شیر سوار، المعروف راجہ باگ سوارؒ بسواکلیان۔
رحمتِ حق جلوہ فرما ہے بنام اولیاء۔
خصوصی مضمون -
حضرت سید تاج الدین خواجہ شیرسوارؒ ،المعروف راجہ باگ سواررحمة اللہ علیہ ،بسواکلیان -
بضمن 648واںعرس سراپا قدس(21شوال المکر م )
از قلم : خواجہ ضیاءالحسن جاگیردار چشتی نظامی خواجہ شیر سواری، سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ سید تاج الدین خواجہ شیر سوار، المعروف راجہ باگ سوارؒ بسواکلیان۔
بہت سارے اولیاءکاملین کے ذریعے دکن میں دین اسلام پہنچا ، جن کی فہرست طویل ہے انہی اہل نظر میں ،سراج السالکین ، آل رسول ، برہان الاتقیاء، سلطان الاصفیاء،تاج العارفین ،صاحب راز، اعلیٰ حضرت ،سیدنا حضرت خواجہ سید تاج الدین خواجہ شیر سوار، المعروف بہ راجہ باگ سوار رحمة اللہ علیہ بھی ہیں جن کے قدم مبارک سے دکن میں اوربالخصوص علاقہ بسواکلیان میں اسلام کے تبلیغ ہوئی اور بندگانِ خدا کو ہدایت ملی ۔21شوال المکرم 1447ہجری سالانہ عرس شریف کے موقع پر حضرت شیر سوار رحمة اللہ علیہ کے حیات مقدسہ کے کچھ پہلوﺅں کے ساتھ آپ ؒ کے معمولات کو پیش کیا جارہاہے ۔
پیدائش ونسب :
حضرت خواجہ شیر سوار ؒ کی پیدائش 699ھ میں،سمنان مضافات خُراسان میں ہوئی ۔ آپ کے والد گرامی حضرت سید احمد سمنانی رحمة اللہ علیہ ہیں ۔ حضرت سیدنا سید تاج الدین خواجہ شیر سوار ؒ کا نسب مبارک 21واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسن ِ مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سے ہوتا ہوا حضرت امیرالمومنین سیدنا علی ابی طالب کرم اللہ وجہہ ورضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
وجہ تسمیہ شیر سوار:آپ رحمة اللہ علیہ شیر پر سواری فرماتے تھے اسی لیئے آپ شیرسوار سے مشہور ہوئے اور ہندی میں آپ کو راجہ باگ سوار کہا جاتا ہے ۔
والدین:
آپ کے والد بزرگوار حضرت سید احمد سمنانی رحمة اللہ علیہ اور والدہ کانام سیدہ بی بی فاطمہ رحمة اللہ علیہا تھا۔ دادی صاحبہ کا نام بی بی حفیظ تھا ، آپ ؒ کی زوجہ محترمہ کا نام بی بی سکینہ تھا آپ کے دوبرادر تھے ایک کا نام سید حُسام الدین بنارسی اور دوسرے سید شاہ ارزاں دیوان، جھانسی میں رہنے لگے تھے ۔
حضرت خواجہ شیر سوار ؒ کی ابتدائی تعلیم :
حضرت ؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم اور اپنے خاندان کے بزرگوں سے حاصل فرمائی،تفسیر، حدیث اور فقہ کی تعلیم استادان وقت سے حاصل کی علم وتعلیم کے شوق نے سیاحت پر آمادہ کیا جہاں جہاں باکمال علماءکی شہرت سنتے پہنچ جاتے ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد روحانی علوم تصوف ومعرفت کے جذبے سے ہندوستان کا سفر اختیار فرمایا جس وقت آپ وارد ہندوستان ہوئے دہلی میں سلطان المشائخ حضرت نظام الدین محبوب الہی رحمة اللہ علیہ کے عرس کا موقع تھا ۔چشتی نظامی سلسلے کے بے شمار مریدین اور خلفاءتبلیغ تصوف میں مصروف تھے ۔ محبوب الہی کی خانقاہ میں ہزاروں آدمی روحانی ومادی رزق سے مستفید ہورہے تھے ۔ آپ بھی عرس مبارک کی مجلس میں شریک ہوئے تمام خلفائے محبوب الہی کو ذکر حق میں مشغول پایا ۔دہلی جو ظاہر ی دنیاوی حکومت کا مرکز تھا اسی طرح روحانیت کا بھی مرکز تھا آپ نے اتنے روحانی مراکز اور خانقاہوں کو دیکھ کر استخارہ فرمایا ،چلہ کشی کی اوربارگاہِ خداوندی میں گڑ گڑا کردعائیں مانگیں کہ اب مجھے اپنی روحانی پیاس بجھانے کیلئے کس وجود کی طرف رجوع فرمادیجئے،حضرت خواجہ شیر سوار رحمة اللہ علیہ کو چلہ کشی سے باطنی اشارہ ہواکہ اس وقت حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الہی رحمة اللہ علیہ کے خلیفہ اجل حضرت قطب الدین منور ہانسوی ؒسے بیعت ہو، اُدھر حضرت قطب الدین منور ہانسوی ؒ کو بھی کشف ہوا وہ بھی حضرت خواجہ شیر سوار ؒ کے منتظر تھے ۔حضرت قطب الدین منور ہانسوی ؒ خلوت نشین بزرگ تھے بہت کم لوگوں کو ملاقات کا موقع دیتے تھے سوائے نماز جمعہ اور بزرگوں کے درگاہ کی زیارت کے کبھی باہر نہ آتے تھے ۔ حضرت قطب الدین منور ہانسوی ؒ کے فرزند ارجمند حضرت خواجہ نور الدین ؒ ،حضرت خواجہ شیر سوار ؒ کے استقبال کے لئے منتظر تھے، جیسے ہی دونوں کا سامنا ہوا دونوں نے اپنے اپنے کشفِ باطنی سے ایک دوسرے کو پہچان لیا سلام ومصافحہ کے بعد حضرت نور الدین ؒ نے پوچھا آپ ہی سید تاج الدین ہیں اور دہلی سے آرہے ہیں؟ حضرت خواجہ شیر سوار ؒ نے کہا بندے کو تاج الدین کہتے ہیں اور دہلی سے ہی آرہاہوں ۔حضرت خواجہ نور الدین نے فرمایا چلئے والدی ومرشدی حضرت خواجہ قطب الدین منورؒ آپ کے منتظر ہیں ۔ حضرت کو حیرت ہوئی اپنی قسمت پر ناز فرماتے ہوئے حضرت کی طرف بڑھے ،پیر کے چہرے پر نظر پڑی تو معلوم ہوا کہ جس نورانی چہرے حلیہ کو بشارت میں دیکھا وہی ہستی جلوہ فرماہے ۔مرید کو جیسے پیر کی تلاش تھی ویسے ہی ملے اور پیر کو جیسے مرید کی ضرورت تھی وہی ملے حضرت شیخ نے آپ کو سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت سے سرفراز فرمایا اور فرمایا کہ ہم نے تمہیں دین کی تاجداری بخشی ۔ ایک مدت اپنی تربیت میں رکھ کر ذکر اذکار ،ریاضت ومجاہدات کی منزلوں سے گزار کر شریعت ، طریقت ،معرفت حقیقت کے غامض نکات سے سرفراز فرمایا۔ جب پیر نے آپ کو تصوف وعرفان میں کمال کو پہنچایا یعنی ناسکو ت، ملکوت، جبروت لاہوت کی سیر مکمل ہوئی (سیر الی اللہ ، سیر فی اللہ) کے مرحلے مکاشفہ ،معائینہ ومشاہدہ سے سرفراز ہوئے تو شیخ نے آپ کو خلافت سے سرفراز فرمایا ۔
حضرت خواجہ شیر سوار کی دکن میں آمد :
حضرت خواجہ شیر سوار ؒ اپنے پیر ومرشد کے وصال فرمانے کے بعد چند سال نارنول (اسٹیٹ ہریانہ )میں قیام فرمایا پھر وہاں سے اپنے پیر کے ارشاد کی تعمیل میں ہندوستان کے مختلف شہروں میں دورہ فرماتے رہے شمالی ہندوستان کے بعد آپ نے جنوبی ہندوستان کا رخ فرمایا ۔ خاندیس ، گجرات ، آج کا مہاراشٹر ،کرناٹک اور آندھرا میں دورہ فرماتے ہوئے دکن تشریف لائے اس وقت بہمنی حکومت قائم تھی جس کا پایہ تخت گلبرگہ تھا ۔
حضرت شیر سوار کے قدم مبارک سے کلیانی شریف کی تقدیر سنور گئی :
سرزمین بسواکلیان میں اسلام کے فروغ وتبلیغ میں اہم اور بنیادی کردار حضرت خواجہ سید تاج الدین شیر سوار حمة اللہ علیہ کا ہے ۔آپ کلیانی شریف پہنچے اور اس سرزمین کو بہشت ارضی بنادیا بے شمار اللہ کے بندوں کو آپ نے راہ حق دکھائی ،گنہگار نیکوکار بن گئے ،بے دین ،دین دار ہوگئے، ہر طرف کلمہ توحید کے نعرے بلند ہوتے رہے ،ذکر جہری وذکر خفی کے مجالس سے رحمتوں کا سماں بندھ گیا ۔جس مقصد کے تحت آپ یہاں تشریف لائے اس کی تکمیل کے بعد اس سرزمین میں علالت کے باعث آپ وصال فرماگئے یہیں پر تدفین عمل میں آئی، آج بھی آپ کے آستانے سے فیض جاری وساری ہے ۔
تمہاری سواری کے لئے شیر خود آئے گا :
جب حضرت راجہ باگ سوارنے اپنے پیر ومرشد کے گاﺅں ہانسی شریف جانے کا ارادہ کیاتو نارنول سے باہر دور تک پیدل سفر فرمایا ایک جگہ تھک کر بیٹھ گئے جنگل کا شیر آپ کے سامنے آیا قدموں پر سررکھ کر اس انداز سے کھڑا ہوگیا کہ آپ نے دیکھا کہ شیر سر ہلا کر آپ کی سواری بننا چاہتا ہے اس وقت آپ کو اپنے پیر کا یہ فرمان یاد آیا کہ” ایک وقت آئیگا کہ تمہاری سواری کیلئے شیر خود آئے گا اوروہ وقت تب آئے گاجب تم نے اپنے نفس کو(اللہ کا) مطیع وفرمانبردار کیا ہوگا “چنانچہ آپ شیر پر سوار ہوکر ہانسی کا سفر اختیار فرمایا اور عالم بے خود ی میں شیرکو باہر چھوڑے بغیر مرشدکی خدمت میں شیر پر سوار رہے کر پہنچ گئے حضرت پیر شیخ قطب الدین منور ہانسوی رحمة اللہ علیہ نے دیکھا اور فرمایا ائے تاج الدین ، شیر پر سوار ہوکر تو آئے ہو ،لیکن شیر تو ایک جاندار ہے اللہ والے اگر ایسے بے جان چبوترے (کٹہ) جو مٹی پتھر سے بنا یا گیا ہے اس کوچلنے کا حکم دیں وہ بھی چلنے لگے ۔اتنا کہنا ہی تھا کہ وہ چبوترا جس پر حضرت قطب الدین منور ؒ بیٹھے تھے اپنی جگہ سے چلنے لگا حضرت قطب الدین منور ہانسوی ؒ نے فرمایا اے چبوترے رک جا میں نے مثال کہی فورا چبوترا رک گیا ۔
معمولات حضرت خواجہ شیر سوار رحمة اللہ علیہ :
حضرت خواجہ شیر سوار ؒ کا نسبی تعلق خاندان قادریہ سے ہے لیکن آپ سلسلہ چشتیہ نظامیہ منوریہ میں بیعت وخلافت سے سرفراز ہوئے آپ اسی سلسلے میں لوگوں کو بیعت فرماتے تھے ۔سلسلہ چشتیہ کے معمولات پر عمل پیرا رہے مختصراً آپ کے شب وروز کے مشاغل کا خاکہ پیش ہے۔
حضرت خواجہ شیر سوار ؒ دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں( نو) نمازیں پڑھتے پانچ فرض نمازوں کے علاوہ رات میں تہجد اوربعدنماز فجر مسبعات عشرکاورد فرماتے(مسبعات عشر مخصوص وردہے)اس کے بعد سورج طلوع ہونے پر نماز اشراق اد ا فرماتے اور پھر کھانا کھانے سے پہلے نماز چاشت ادا فرماتے اور نماز مغرب کے بعد صلوة اوابین ادا فرماتے کبھی صلوةالتسبیح اور صلوة کن فیکون پڑھتے پانچوں فرض نمازیں جماعت سے پڑھتے جس کی امامت آپ خود فرماتے تھے۔ عمر کے آخری دور میں اپنے خلیفہ وجانشین حضرت نور الدین کبریٰ کو امامت کا اعزاز بخشا اور خود کبھی قیام یعنی کھڑے ہوکر کبھی بیٹھ کر اقتدا فرماتے ۔چاشت کی نماز پڑھ کر حاضرین ومتعلقین کے ساتھ تناول طعام سے فارغ ہو کر عوام کو ملاقات کا شرف عطا فرماتے ، قیلولہ فرماتے ،بعد نماز ظہر چہل اسمائے باری تعالیٰ کا وظیفہ فرمانے کے بعد تلاوت قرآن میں مشغول ہوتے جو بھی مرید ہوتا اس کو دوگانہ شکر انہ اور سلامتی ایمان کیلئے دوگانہ ادا کرنے کے لئے فرماتے ہمیشہ باوضو رہنے کی تاکید فرماتے کیونکہ اللہ والوں کے نزدیک ”الوضو سِرّ من اسرار اللّٰہ “ یعنی وضو اللہ کے رازوں میں ایک راز ہے ۔ نماز عصر اور مغرب کے درمیان کھانے پینے سے باز رہتے جو صوفیاءکرام کا دستور ہے ۔ نماز مغرب کے بعد تناول فرماکر عشا ءکی نماز سے فارغ ہوکر تھوڑی دیر تعلیم وتلقین کا مشغلہ ہوتا سب کو رخصت فرما کر ذکر ومراقبے میں مشغول رہتے آدھی رات کے بعد جب نماز تہجد کیلئے بیدار ہوتے تو حضرت نور الدین کبریٰ ؒ وضو کرانے کی خدمت انجام دیتے ،نماز تہجد کے بعد فجر کی ادائی تک مراقبہ فرماتے ۔
وصال مبارک وجانشین :
حضرت خواجہ شیر سوار ؒ نے ایام علالت میں اپنے وصال مبارک سے پہلے حضرت نور الدین کبریٰ رحمة اللہ علیہ کو اپنا جانشین وخلیفہ منتخب فرمایا اور تما م مریدین ومعتقدین اور متعلقین کو تقویٰ وطہارت ِ ظاہری وباطنی اور صدق ووصفا کی وصیت فرما کر 21شوال المکر م 799ھ قبل از فجر جو نزول انوار کا وقت ہے آپ کی روح پاک اعلیٰ علیین کی طرف پروارز کرگئی ۔ حضرت نور الدین کبریٰ ؒ حضرت خواجہ شیر سوار ؒ کے ساتھ ہی دکن تشریف لائے تھے آپ کے خلیفہ خاص رہے آپ ہی حضرت خواجہ شیر سوار کے مسند رشد وہدایت پر فائز ہوئے ۔آج تک آپ کی اولاد میں حضرت خواجہ شیر سوار ؒ کے سجادگی وتولیت جاری ہے اور حضرت نور الدین کبریٰ کے کے علاوہ پانچ مزارات احاطہ درگاہ شریف حضرت خواجہ شیر سوار میں انہی کی اولاد میں مدفون ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔
عرس شریف :
دکن کے علاقے بسواکلیان ،ضلع بیدر ، کرناٹک میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے ۔ہر سال شوال المکرم کی 21,22,23تاریخوں میں حضرت خواجہ شیر سوار ؒ کا صندل ،چراغاں اور زیارت بصد عقیدت واحترام منعقد ہوتے ہیں ۔ عرس شریف میں ہندو ،مسلم کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ جوق درجوق حاضر ہوکر فیض پاتے ہیں ۔جیسے حضرت خواجہ شیر سوار رحمة اللہ علیہ کا وجود مبارک مخلوق خدا کے لئے باعث راحت ورحمت بنا تھا ایسے ہی آپ کا آستانہ باعث رحمت ہے اورآپ کے آستانے سے فیض جاری وساری ہے ۔ فقیر خواجہ ضیاءالحسن جاگیر دار موروثی سجادہ نشین ومتولی در گاہ حضرت خواجہ سید تاج الدین شیر سوار کے والد حضرت افضل پیر ؒ نے 61سال درگاہ شریف میں مراسم صندل مالی انجام دیئے ،علاوہ ازیں درگاہ شریف کے تمام ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ان کے وصال کے بعد خاکسار یہ ذمہ داری نعمت سمجھتے ہوئے انجام دے رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ بسواکلیان کے وابستگان کو حضرت خواجہ سید تاج الدین شیر سوار ؒ کا خصوصی فیض نصیب فرمائے اور تمام امت مسلمہ کو امن وسلامتی نصیب فرمائے اور ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں امن وامان قائم ہو پیار ومحبت کا بول بالا ہو، آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔
Comments
Post a Comment