ناری شکتی وندن: حقیقت یا سیاسی سراب؟(خواتین کے لیے 33 فیصد تحفظات: وعدے اور رکاوٹیں)۔ ازقلم : اسماء جبین فلک۔


ناری شکتی وندن: حقیقت یا سیاسی سراب؟
(خواتین کے لیے 33 فیصد تحفظات: وعدے اور رکاوٹیں)
ازقلم : اسماء جبین فلک۔ 


بھارتی جمہوریت کے طویل سفر میں خواتین کی سیاسی نمائندگی کا سوال محض اعداد و شمار یا قانونی ترمیموں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک گہرے سماجی، ثقافتی اور سیاسی تناظر کا حامل رہا ہے جہاں ستمبر 2023 میں آئین کی 106ویں ترمیم نے اسے ایک تاریخی سنگ میل پر پہنچا دیا، جب لوک سبھا نے 19 ستمبر اور راجیہ سبھا نے 21 ستمبر کو متفقہ طور پر اس بل کو منظور کیا جو موجودہ 543 لوک سبھا نشستوں میں سے 181 اور ہر ریاستی اسمبلی میں متناسب 33 فیصد حصہ خواتین کے لیے مخصوص کرتا ہے، یہ منظوری نہ صرف پارلیمانی اتفاق رائے کی نایاب مثال تھی بلکہ بھارت کی مردانہ تسلط پر مبنی سیاسی ساخت کو چیلنج کرنے والا ایک عظیم اقدام بھی تھی جس کی جڑیں 1993 کی پنچایتی راج ترمیم میں 33 فیصد مقامی سطح کی کامیابی سے ملتی ہیں مگر اس وفاقی سطح پر پہنچنے میں تین دہائیاں لگ گئیں۔
اس قانون کی سب سے بڑی آزمائشی خصوصیت اس کی نفاذی مشروطیت تھی جو اسے فوری عمل سے روک رہی تھی کیونکہ یہ واضح طور پر پہلی نئی مردم شماری کے اعداد و شمار اور اس کے فوراً بعد ہونے والی انتخابی حلقوں کی حد بندی کے بعد ہی نافذ ہونے کا واضح بندھن رکھتا ہے، کورونا کی عالمی وبا نے 2021 کی مردم شماری کو شدید تاخیر کا شکار کر دیا اور حالیہ اعلانات کے مطابق اس کا اگلا مرحلہ اکتوبر 2026 سے مارچ 2027 تک متوقع ہے جس میں ذات پات پر مبنی تفصیلات بھی شامل ہوں گی، اس تاخیر کا مطلب واضح ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات بالکل خالی ہاتھ رہے اور یہ سہولت 2029 یا اس کے بعد ہی عملی رخ اختیار کر سکے گی، یہ محض تکنیکی تاخیر نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی حساب بھی ہے جو نفاذ کا وقت حکمران بی جے پی کے لیے رائے دہندگان کے ڈھانچے کی مستحکم صورتحال میں موافق بناتا ہے جبکہ حزب اختلاف اسے ایک طویل مدتی انتخابی حکمت عملی قرار دیتی ہے۔
اپریل 2026 نے اس تنازع کو ایک نئی شدت عطا کر دی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے وگیان بھون میں 13 اپریل کو منعقدہ ناری شکتی وندن سمیلن میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خصوصی خط لکھا اور اسے اکیسویں صدی کی سب سے اہم اصلاح قرار دیتے ہوئے 2029 تک مکمل نفاذ کا عہد کیا، اسی سمیلن کے فوراً بعد 16 سے 18 اپریل تک جاری رہنے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں حکومت نے تین انقلابی بل پیش کر دیے جن میں سب سے نمایاں 131ویں آئینی ترمیم بل تھا جو مخصوص نشستوں کے نفاذ کا تفصیلی طریقہ کار طے کرتا ہے، دوسرا حد بندی بل جو لوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی متنازع تجویز رکھتا ہے، اور تیسرا مرکزی زیر انتظام علاقوں جیسے دہلی، جموں و کشمیر اور پڈوچیری کے قوانین میں ترمیم، یہ 850 نشستیں محض عددی اضافہ نہیں بلکہ انتخابی آبادیات کی مکمل دوبارہ تشکیل کا اعلان ہے جس سے خواتین کی مخصوص نشستیں 181 سے بڑھ کر تقریباً 280 ہو جائیں گی مگر اس کے ساتھ ہی موجودہ سیاسی توازن بھی تبدیل ہو جائے گا۔
حزب اختلاف کا ردعمل ایک منصوبہ بند حکمت عملی کی طرح منظم ہوا جہاں کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے بنیادی سوال اٹھایا کہ ستمبر 2023 میں متفقہ طور پر منظور شدہ قانون میں اب اچانک ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی اور نئی مردم شماری کا واضح ذکر نہ ہونے سے اس کی منشا پر کیوں شبہات پیدا ہو رہے ہیں، جنوبی ریاستوں تمل ناڈو، کرناٹک، آندھرا پردیش اور کیرالہ کی جماعتیں اس بات پر سخت خدشات ظاہر کر رہی ہیں کہ 1971 سے 2011 تک ان کی آبادی میں شمالی ریاستوں بمقابلہ 15 سے 20 فیصد کم اضافہ ہونے کی وجہ سے نئی حد بندی ان کی موجودہ 131 لوک سبھا نشستوں کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے جبکہ اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے صاف لفظوں میں اسے سیاسی فریب قرار دے دیا، اس کے برعکس بی جے پی کا مؤقف منطقی بنیادوں پر استوار ہے کہ 2023 کی متفقہ منظوری میں ہی 2029 کی حتمی تاریخ طے ہو چکی تھی، حد بندی کمیشن مکمل طور پر خود مختار ہوگا جس کی رپورٹ پارلیمنٹ اور صدر مملکت کی منظوری کے بغیر نافذ العمل نہ ہوگی، اور جنوبی ریاستوں کے مفادات کا خصوصی تحفظ یقینی بنایا جائے گا مگر 850 نشستیں بڑھانے کی منطق ابھی تک مکمل واضح نہیں ہوئی کہ کیا یہ آبادی کے تناسب کا ناگزیر تقاضا ہے، انتظامی صلاحیت کی توسیع ہے، یا حکمران جماعت کا شمالی حامی رائے دہندگان کو طویل مدتی طور پر مضبوط کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ تصادم حقائق اور تشریحات کا ایک پُراثر امتزاج ہے جہاں مستند حقائق بالکل واضح ہیں کہ 106ویں ترمیم ستمبر 2023 میں منظور ہوئی، 33 فیصد مخصوص نشستوں کا قانون نئی مردم شماری اور حد بندی کے بعد نافذ ہوگا، اپریل 2026 میں نئے بل پیش ہوئے، اور 850 نشستیں تجویز شدہ حیثیت رکھتی ہیں، جبکہ تشریحاتی سطح پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خواتین کی حقیقی سیاسی بااختیاری کا ذریعہ بنے گا یا انتخابی حلقہ بندیوں میں ہیرا پھیری کا ایک خفیہ آلہ، جنوبی ریاستوں کا خدشہ اعداد و شمار کی روشنی میں جائز معلوم ہوتا ہے کیونکہ ان کی کامیاب خاندانی منصوبہ بندی نے انہیں آبادی پر قابو پانے میں شمال سے نمایاں برتری دی ہے مگر نئی حد بندی ان کی پارلیمانی طاقت کو متناسب طور پر کم کر سکتی ہے، عالمی تناظر میں برطانیہ جو 34 فیصد، فرانس 39 فیصد، اور جرمنی 31 فیصد خواتین نمائندگی رکھتا ہے انہوں نے ایسی پیچیدہ مشروطیت کے بغیر یہ سنگ میل عبور کیا جبکہ بھارت کا بل اگرچہ عظیم الشان صلاحیت رکھتا ہے مگر نفاذ کی ان تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے اس کی ساکھ مشکوک بن جاتی ہے۔
یہ حقائق اور رائے کا تصادم بھارتی جمہوریت کے ایک نازک موڑ پر کھڑا بنیادی سوال بن جاتا ہے کہ کیا حکمران بی جے پی خواتین کو سیاسی عمل کا مرکزی ستون بنانا چاہتی ہے یا انتخابی نظام کو اپنے طویل مدتی سیاسی مفادات کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے، اور اس سوال کا حل تین بنیادی اقدامات کے نفاذ پر منحصر ہے جن میں سب سے پہلے 2026 تک مردم شماری کا فوری و شفاف عمل مکمل کرنا جو تمام خدشات و شکوک کا بنیادی سرچشمہ ہے، دوسرا حد بندی کمیشن کو مکمل خودمختاری دینا اور اس کی تفصیلی رپورٹ عوامی سطح پر پیش کرنا، تیسرا 850 نشستیں بڑھانے کی منطق کو پارلیمنٹ میں اعداد و شمار، تاریخی پس منظر اور مستقبل کی توقعات کے ساتھ تفصیل سے بیان کرنا تاکہ ناری شکتی وندن محض ایک کاغذی وعدہ یا سیاسی نعرہ نہ رہے بلکہ بھارتی خواتین کے لیے ایک عظیم سماجی و سیاسی انقلاب کی صورت اختیار کر لے جو انہیں شطرنج کے تختے پر بادشاہ کی مرکزی حیثیت عطا کرے نہ کہ محض ایک مہرے کے طور پر استعمال ہونے کا موقع دے، بالآخر بھارتی جمہوریت کا یہ نازک لمحہ فیصلہ کن ہے کہ کیا یہ تاریخی وعدہ ایک روشن مستقبل کی بنیاد بنے گا یا نئے سیاسی شکوک و شبہات کی دلدل میں دفن ہو کر رہ جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔