خراج عقیدت۔ - 27 اپریل یوم وفات کے موقع پر پچاسوں دیوانوں کے دیوانے شاعر - حضرت مقیم اثر بیاولی؛ جدید اسلوب کا روایتی شاعر۔تحریر : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔


خراج عقیدت۔ - 
27 اپریل یوم وفات کے موقع پر پچاسوں دیوانوں کے دیوانے شاعر -  
حضرت مقیم اثر بیاولی؛ جدید اسلوب کا روایتی شاعر۔
تحریر : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
 
اردو شاعری کی تاریخ ایسے شعرا سے بھری پڑی ہے جنہوں نے روایت کی پاسداری کرتے ہوئے جدید حسّیات کو اپنے کلام میں اس طرح سمویا کہ ان کا لہجہ نہ صرف اپنے عہد کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا بھی محسوس ہوتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک معتبر کڑی حضرت مقیم اثر بیاولی ہیں، جو بیک وقت جدید اسلوب کے امین اور روایتی شعری اقدار کے پاسبان روحانیت عقیدت جزبات کے علمبردار دکھائی دیتے ہیں۔
حضرت مقیم اثر بیاولی کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ روایت سے انحراف نہیں کرتے، بلکہ اس کے دامن میں رہتے ہوئے نئے زمانے کے فکری اور تہذیبی تقاضوں کو شعری پیکر عطا کرتے ہیں۔ ان کے ہاں غزل کی کلاسیکی ہیئت، بحور کی پابندی، ردیف و قافیہ کی لطافت، نظم کی روانی اور زبان کی شائستگی پوری طرح برقرار رہتی ہے، لیکن مضامین میں عصری شعور کی تازگی اور فکر کی وسعت نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔
ان کے کلام میں ایک طرف میرؔ و غالبؔ کی روایت کی بازگشت اور علامہ اقبال کے فلسفے سنائی دیتے ہیں تو دوسری طرف جدید دور کے انسان کی داخلی کرب، سماجی الجھنیں اور تہذیبی تغیرات بھی پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی امتزاج انہیں محض ایک روایتی شاعر نہیں رہنے دیتا بلکہ انہیں ایک ایسے جدید مابعد جدید شاعر کے طور پر سامنے لاتا ہے جو ماضی اور حال کے درمیان ایک مضبوط پل قائم کرتا ہے۔
 حضرت مقیم اثر کی شاعری میں زبان کا استعمال نہایت پُراثر ہے۔ جگہ جگہ موضوع کے اعتبار سے عربی فارسی تراکیب کا استعمال بھی نظر آتا ہے وہ ثقیل الفاظ یا غیر ضروری پیچیدگی سے گریز بھی کرتے ہیں اور سہل ممتنع کی خوبی کو اپنے ہاں فروغ دیتے ہیں۔ مگر زبان کا اسلوب و چاشنی قاری کو باندھے رکھتا ہے ۔ان کے اشعار بظاہر سادہ معلوم ہوتے ہیں لیکن اپنے اندر گہرے معنی اور تہہ دار مفاہیم رکھتے ہیں۔ یہی خوبی قاری کو بار بار ان کے کلام کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
موضوعاتی اعتبار سے ان کی شاعری میں محبت، ہجر و وصال، انسانی رشتوں کی نزاکت، سماجی ناہمواری، اخلاقی زوال اور روحانی جستجو وحدانیت فرمان خدا و رسول ﷺ ۔مثبت پہلو جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ تاہم وہ ان موضوعات کو محض روایتی انداز میں نہیں برتتے بلکہ ان میں جدید انسان کے مسائل اور احساسات کو شامل کر کے ایک نئی معنویت پیدا کرتے ہیں۔ ان کے ہاں احتجاج بھی ہے مگر مہذب انداز میں، اور درد بھی ہے مگر شائستہ پیرائے میں۔
ان کی شاعری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ تہذیبی اقدار اور مشرقی روایت کے علمبردار نظر آتے ہیں۔ وہ جدیدیت کے نام پر روایت سے بغاوت کے قائل نہیں بلکہ اسے ایک تسلسل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں ایک توازن اور اعتدال پایا جاتا ہے، جو قاری کو فکری طور پر متاثر کرتا ہے۔
فنی محاسن کے اعتبار سے بھی حضرت مقیم اثر ایک پختہ کار شاعر ہیں۔ ان کے ہاں تشبیہات و استعارات کا برمحل استعمال، علامتوں کی معنویت اور مصرعوں کی برجستگی قابلِ توجہ ہے۔ وہ اپنے اشعار میں کم الفاظ میں زیادہ بات کہنے کا ہنر رکھتے ہیں، جو کسی بھی بڑے مفکر کی پہچان ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ حضرت مقیم اثر بیاولی اردو شاعری میں ایک ایسے شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں جو روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑے ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف ادبی ذوق کی تسکین کا باعث بنتا ہے بلکہ قاری کو فکری طور پر بھی مہمیز دیتا ہے۔ وہ اپنے اسلوب اور فکر کے اعتبار سے معاصر شعری منظرنامے میں ایک منفرد مقام کے حامل ہیں۔
ان کی شاعری اس بات کی روشن مثال ہے کہ اگر فنکار کے اندر تخلیقی دیانت اور فکری بصیرت موجود ہو تو وہ روایت کے سائے میں رہتے ہوئے بھی جدیدیت کی نئی راہیں تلاش کر سکتا ہے۔ مقیم اثر بیاولی یقیناً ایسے ہی شاعروں میں شمار کیے جانے کے مستحق ہیں۔ جن کا سب کچھ شاعری ہی تھا یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ اشعار کہنے کا اعزاز انہیں حاصل ہے۔ ان کی شاعری سے متعلق ناقدین کی آراء : بقولِ نظام صدیقی :
’’ پچاسوں دیوانوں کا دیوانہ شاعر … مقیم اثرؔ کا ما بعد جدید تخلیقی شعری کردار اکیسویں صدی کو محیط وہ برق رَو معانی آفریں، جہت نما، روشن سفر ہے، جو بھٹکی ہوئی غزل اور نظم کا قبلہ درست کر دے گا۔ ‘‘
مقیم اثرؔ کی شاعری کے موضوعات متنوع اور گوناگوں، ہمہ گیر و ہمہ جہت ہیں۔ آپکی شعر کائنات کے موضوعات کا دائرہ آدمی، زندگی، زمانہ، کائنات، خالقِ کائنات، فطرت کے گہرے حقائق، جبر و اختیار، مقامِ آدمیت، منصبِ رسالت، عقیدے سے گہری وابستگی، قضا و قدر، جذباتی بے رشتگی سے پیدا شدہ تنہائی، سماجی بے گانگی، لایعنیت، احساسِ زیاں، احساسِ نا تکمیلیت، لا حاصلی، یاسیت، لا حاصلی، درد و غم، شعلہ فگنی، احتجاج، انحراف، جلال، جمال، عاشقی، رندی، سرمستی، آلامِ روزگار، دعائے بزرگاں، جفائے دوستاں، آزارِ دشمناں، اعترافِ حقیقت، پابندیِ وقت، غمِ ذات، غمِ کائنات، اقدار کی پامالی، مادیت کے فروغ سے بڑھتے جرائم وغیرہ کو اپنی وسعتوں میں محیط کرتا ہے۔
مقیم اثرؔ بیاولی، 27 اپریل 2017* کو انتقال کر گئے۔
(بشکریہ...ڈاکٹر مشاہد حسین رضوی)
مقیم اثر بیاولی صاحب کے یوم وفات کے موقع پر موصوف کے منتخب و منفرد کلام احباب کی خدمت میں پیش ہیں.....

انتخاب و پیشکش.....طارق اسلم

عریانیت نے چھین لیا جسم سے لباس
ملتے ہیں اب غزل میں بھی شہوانیت کے بت

غیروں کے تبصرے کا بھروسہ نہیں مجھے
 تنہایوں میں آ ! مری اچھائیوں سے مل

سورج ، چاند ، ستارے ، جگنو ، آنسو ، دیپ 
تجھ بِن سب کے گھر میں اندھیرا لگتا ہے 

غزل اپنے عصری تقاضوں کے باعث
کبھی گل کبھی خار میں ڈھل رہی ہے

تشنگی ساحلِ تشنہ کی بجھادے تو کہوں
اپنے کوزے میں اگر رکھتا ہے پانی ، دریا

جسم کے اندر اندھیرا دور تک پھیلا ہوا
پھر بھی خوش ہم صورتوں کو اپنی چمکاتے ہوئے

اک نئی گمنامی پھر ڈھونڈے گی تمھیں
آج اگر شہرت کے افق تک پہنچے ہو

اصلیت چہرہ بدلنے سے کہیں چھپتی ہے
خود کو میں خود سے چھپاؤں یہ ضروری تو نہیں

چند لفظوں کے علاوہ اور کیا دادِ ہنر
کب اثر فن کار کو اس کا صلہ دیتے ہیں لوگ

برف میں دیکھ کر شرار اثر
کوہساروں کا حوصلہ چُپ ہے

شب کے کاغذ پہ نہ کیوں نور کی تحریر لکھوں 
دشتِ بے سمت میں اندازۂ شب ہے مجھ کو 

خواب کی تتلیوں پہ مرتا ہوں
یہ بھی جینے کا اک بہانہ ہے 

دھوپ ہی دھوپ ہر اک سمت نظر آتی ہے 
شاخِ بے برگ پہ طائر کا بسیرا بے بس 

مشرق و مغرب کے پیمانوں میں ہے جھوٹی شراب
جس کو پی کرسب بنے پھرتے ہیں حق کے پاسباں

اثر وجودِ بشر ظلمتوں سے خائف ہے 
خدادراز کرے سلسلہ چراغوں کا

ہرایک عہد کی تصویر جلوہ گر اس میں
اثر اسی سے ہوئی اور باوقار غزل 

"خاموشی" کو "منبر کی روشنی" سمجھتا ہے
"بے خودی" کو دیوانہ "آگہی" سمجھتا ہے
 
وقت سے آگے چلنے کی کوشش کی تھی
پچھلی صف میں آج کھڑا ہوں دنیا کی

 تم تو خیر اپنے تھے تم سے کیا گلہ کوئی
ہم نے دشمنوں کو بھی بارہا دعا دی ہے

میر، غالب اور مومن کے طرف داروں میں ہم
پھر بھی ہم کو اے غزل رنگِ جدا درکار ہے 

خون اگرزندہ ہے رگوں میں رستے میں گل زار بہت
مرنا سیکھو پیدا ہوں گے جینے کے آثار بہت

شہرِ حاتم میں تھے جو چاہتے مل سکتا تھا
مانگتے کیسے، تھے خوددار سمندر ہم لوگ 

یہ بھی اعزاز ملے گا تمہیں اپنے فن کا
دل میں احساس جنم لے گا اکیلے پن کا

اس دور کے انسان کی ہر فکر پہ لعنت 
تعمیر کا مقصد اگر انسان کُشی ہے

"آنسوؤں کی بارش" کا زور کس طرح چلتا
"یاد کی منڈیروں" پر ہم نے "دل جلایا" تھا

نئے الفاظ بھی سوزِ غزل کی روح تک پہنچے
اثر یہ فیضِ بے پایاں ہے غالب کے دبستاں کا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ