عالمی”یومِ کتاب“(23/اپریل2026)ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔
عالمی”یومِ کتاب“(23/اپریل2026)
ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔
موبائل:9845628595
بچہ کی پیدائش کے ساتھ ہی ماں کے دودھ کے ذریعہ اس کی بھوک کوختم کرنے کااہتما م ہوتاہے۔ اسی طرح بچہ جب کھلونوں سے کھیلنے لگتاہے تب اپنی والدہ، والد، یابھائی بہنوں کی کتابیں اس کے مشاہدے میں آتی ہیں جنہیں وہ منہ میں لے کر، پھاڑکریا دیگر طریقوں سے وہ ’کتاب‘سے اپنا رابطہ پہلی دفعہ رکھتاہے۔ اسکول میں داخلے کے ساتھ ہی ’کتاب‘ سے باقاعدہ تعلق پیدا ہوجاتاہے۔ جو عمر بھر جاری وساری رہتاہے۔ یہاں تک کہ جب وہ مرجاتاہے، چاہے وہ جلادیاجائے یازمین کے حوالے کردیاجائے، کوئی نہ کوئی وہاں کتاب کھول کر کچھ نہ کچھ پڑھ کراس کی مغفرت، یا اس کی روح کے سکون کاسامان کرتا
نظر آتاہے۔
آج 23/اپریل کو اسی کتاب کادن ہے۔ ساری دنیامیں ”عالمی یوم ِ کتاب“ منایاجارہاہے۔ ہم اردووالے بھی عجیب قوم ہیں، شایدہی کسی دِ ن کومنانے کااعلان کیاہوسوائے ”یوم ِ اردو“ کے اور وہ بھی کہیں علامہ اقبال کے یوم ِ پیدائش 9/نومبرکومنایاجاتاہے تو کہیں ماہ فروری میں منایاجاتاہے۔ یعنی پوری دنیا ایک دن پر متفق بھلے ہوجائے، ہم نااتفاقی پر اتفاق کرتے ہوئے کئی ”یوم ِ اردو“ منائیں گے۔بہر حال دکھ کی باتوں سے ہٹ کر کتاب کی طرف چلتے ہیں۔ اردو ادب خود ”کتاب“ کی بات کرتاہے اور ہر سال شائع ہونے والی کتابوں کے ذریعہ سے اردو ادب پھلتا پھولتاہے۔کسی کا قول ہے ”آپ کو اس بات کا شعور و ادراک ہونا ضروری ہے کہ جب سے یہ دنیا معرض وجود میں آئی ہے، وحشی نسلوں کو چھوڑ کر، دنیا پر کتابوں نے ہی حکمرانی کی ہے“لہٰذا آئیے دوتین کہاوتیں پڑھتے ہیں۔ کتاب جیب میں رکھا ہوا ایک گلستان ہے۔(عربی کہاوت) جب آدمی 10 کتابیں پڑھتا ہے تووہ 10 ہزار میل کا سفر طے کر لیتا ہے۔(چینی کہاوت) کتاب کامطالعہ زندگی کو مزید زندگی عطا کرتا ہے۔(گمنام حکایت) جو شخص جوانی میں کتاب کے مطالعے کا شوقین ہو اُس کا مستقبل آفتابِ صبح کی مانند روشن ہوتا ہے۔ (چینی کہاوت)
کتاب کی اہمیت وافادیت سے متعلق اب ہم کچھ دانشوروں کے اقوال ملاحظہ کریں گے۔ عرب مورخ ابنُ الجوزی کہتے ہیں ”تمہارے گھر میں ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں تم تنہائی میں اپنی کتابوں کی سطور سے گفتگو کر سکو اور اپنے تخیلات کی پگڈنڈیوں پہ بھاگ سکو“جرمن مصنف اور فلاسفر گٹھولڈ لیسنگ کہتاہے۔ ”دنیا اکیلے کسی کو مکمل انسان نہیں بنا سکتی، اگر مکمل انسان بننا ہے تو پھر اچھے مصنفین کی تصانیف پڑھنا ہوں گی“جرمن مصنف گورچ فوک مانتے ہیں کہ ”اچھی کتابیں وہ نہیں جو ہماری بھوک کو ختم کردیں بلکہ اچھی کتابیں وہ ہیں جو ہماری بھوک بڑھائیں۔ زندگی کو جاننے کی بھوک“قدیم رومی فلسفی اور نقاد سائیسیرو کہتاہے ”ایک کمرہ بغیر کتاب کے ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم بغیر روح کے“اؤلس گیلیوس کے نزدیک ”کتابیں خاموش استاد ہیں“ پاکستانی سفرنامہ نگار اور کالم نویس مستنصر حسین تارڑکہتے ہیں۔ خریدی ہوئی کتاب آپ کی جائیداد میں شامل ہو جاتی ہے۔سید علی عباس جلالپوری کو میں نہیں جانتا لیکن جو بات انھوں نے کہی ہے بالکل درست کہی ہے۔وہ کہتے ہیں مطالعہ کرنے سے بھی آپ کی نفرت اور تعصب میں کمی نہیں آ رہی تو آپ غلط کتابیں پڑھ رہے ہیں“روسی انقلابی شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی میکسم گورکی کہتاہے ”اس دُنیا میں کوئی دو اشخاص ایک کتاب کو ایک ہی طرح نہیں پڑھتے“ آئرلینڈ کا نوبل انعام یافتہ ڈراما نویس، نقاد، ناول نگار، افسانہ نگار اور سیاستدان جارج برنارڈ شا کہتاہے ”خیالات کی جنگ میں کتابیں ہتھیار ہیں“ اس دُنیا میں کوئی دو اشخاص ایک کتاب کو ایک ہی طرح نہیں پڑھتے۔ روسی انقلابی شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی میکسم گورکی (Maxim Gorky)جین پاؤل کے نزدیک ”کتابیں ایک طویل ترین خط ہے جو ایک دوست کے نام لکھا گیا ہو“تھومس فون کیمپن کہتاہے ”جب میں عبادت کرتا ہوں تو میں خدا سے باتیں کرتا ہوں، لیکن جب میں کوئی (مذہبی)کتاب پڑھتا ہوں تو خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے“مولانا محمود عالم ؒ کہاکرتے تھے ”کتاب کی اشاعت پر صاحب ِ کتاب کومبارک باد دینی چاہیے کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں تک علم پہنچ رہاہے“ حضرت شیخ سعدی ؒکہتے ہیں ”علم کے بغیر انسان خدا کو بھی نہیں پہچان سکتا“اور یہ علم اساتذہ کے علاوہ کتاب کے ذریعہ حاصل ہوتاہے۔ یہ اقوال کتاب کی اہمیت کو دنیوی اور اخروی طریقے سے بتاتے ہیں۔ہاروکی مُراکامی (Haruki Murakami) کی کتاب ”نارویجن ووڈ“ (Norwegian Wood)میں ایک اچھی بات لکھی ہے ” اگر آپ بس وہی کتابیں پڑھتے ہیں جو دوسرے پڑھ رہے ہیں تو آپ بس وہی سوچ سکتے ہیں جو سب سوچتے ہیں“ اس قول کی روشنی میں سوچ لیں کہ ہم کوکن میدان کی کتابیں پڑھتی چاہیے۔ ہر ایک فرد کاانتخاب ہوتاہے، ہونابھی چاہیے کہ اللہ نے مختلف مزاجوں کے ساتھ اپنے بندوں کوپید اکیاہے۔
بہرحال اب ہم اشعار کی جانب چلتے ہیں۔ دیکھیں کہ شعرائے کرام نے کتاب کی اہمیت کو کس طرح منظوم کیاہے۔ یاکتاب کی بابت جو کچھ وارداتِ قلبی ہوتی رہی ہے، انھوں نے کس اندازمیں پیش کیاہے۔ ہم آج کتاب پر مختلف شعراء کے اشعار کو پڑھ کر اس سال کا”عالمی یومِ کتاب“ منائیں گے اِن شاء اللہ۔
حضرت میرؔکہتے ہیں ؎
آگے زبانِ یار کے خط کھینچے سب نے میر
پہلی جو بات اس کی کہیں تو کتاب ہو
اسلامی شاعر ابوالمجاہد زاہدؔ کاکہناہے ؎
مصروف ِ مطالعہ ہیں نظر یں
وہ چہرہ کتاب ہوگیاہے
میرؔبیدری ”کہانی کتاب“سنارہے ہیں، ملاحظہ کیجئے ؎
راجا بھی چل بسااور رانی بھی آب میں
پھر آگئی ہے دیکھو کہانی کتاب میں
جناب ظفراللہ خان لکھتے ہیں ؎
میں کتابوں میں رہا، کتب رہیں تجھ میں
لگتے ہو کتب حیات کے تم متن یوسف
ڈاکٹر رفیق سوداگر کا تعلق کرناٹک سے ہے۔ آج کل دوہاکی طرف رغبت ہے۔ ایک دوہے میں کتاب کی بابت ان کاعصری اظہا رخیال اس طرح ہے ؎
انٹرنیٹ میں کھوئے ہیں بچے سبھی جناب
اس گوگل کے دور میں کون پڑھے کتاب
آفتاب عالم شاہ نوری کے پاس کتاب پر کئی ایک شعر ملتے ہیں۔ پڑھتے ہوئے لطف آتاہے ؎
کہانی پہ اک اور کہانی لکھوں گا
ترے نام ساری جوانی لکھوں گا
کتابِ محبت کے تازہ ورق پر
وفا کی وہ باتیں پرانی لکھوں گا
جی چاہتا ہے پھر پڑھوں الفت کی کتابیں
اے دوستو وہ مصحفِ رخسار کہاں ہے
خود کو کتابِ درد میں ناکام لکھ دیا
تم سے ملے فریب کو انعام لکھ دیا
جناب اعجاز پاشاہ اعجازؔ بگدلی کا کہناہے ؎
تیرا چہرہ ہے خیال و خواب میں
گھل گئی خوشبو کتاب و باب میں
کتاب زیست کے اوراق الٹ کے دیکھ لیا
تمہارے غم کے سوا اور کوئی باب نہ تھا
اب ہم جان نثار اختر کی جانب آتے ہیں، ان کامعرو ف شعر ہے ؎
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
ادب کا شاید ہی کوئی غافل شائق ہوگاجو علامہ اقبال کے اس شعر کونہ جانتاہوگا یااس سے متاثر نہ ہواہوگا ؎
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
جگر مراد آبادی کاذکرکرتے ہوئے باادب ہونا پڑتاہے، دیکھئے کلاسیکل شعر ؎
کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ
میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا
سماجی انقلاب کا مصور شاعر نظیر اکبرآبادی کہتاہے ؎
بھلا دیں ہم نے کتابیں کہ اس پری رو کے
کتابی چہرے کے آگے کتاب ہے کیا چیز
اسعد بدایونی بھی نظیراکبرآبادی کے قبیلہ سے لگتے ہیں ؎
جسے پڑھتے تو یاد آتا تھا تیرا پھول سا چہرہ
ہماری سب کتابوں میں اک ایسا باب رہتا تھا
حیدرآباد دکن کے معروف شاعر شاذ ؔتمکنت کا کہناہے ؎
کتاب حسن ہے تو مل کھلی کتاب کی طرح
یہی کتاب تو مر مر کے میں نے ازبر کی
بشیر بدرکے اس شعر کو پڑھتے ہوئے کوئی نہ کوئی ”کتاب کیڑا چہرہ“ نظر میں ضرور ابھرتا ہے ؎
کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے
دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا
درج ذیل شعر کے خالق کو میں نہیں جانتاتھا، آج پتہ چلاکہ درج ذیل شعرکے خالق اعجاز توکل ہیں۔ تو میں بھی اس اطلاع پر توکل کرلیتاہوں ؎
قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مرے ہیں
محمد علوی کی اس کیفیت کو بھی دیکھیں ؎
کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں
کبھی گم ہے کتاب آنکھوں میں
غلام محمد قاصرکا یہ شعر بھی بہت کچھ کہتاہے۔ ”اکیسواں خواب“ ہر صدی پر ایک خواب، بہت خوب ؎
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
عرفان شاہ نوری کو میں نے نہیں پڑھا، ان کاشعر دیکھئے اور سوچئے کہ عرفان شاہ نوری نے کس نور کو کتاب زندگی سے کشید کیاہوگا ؎
سرخیوں میں عیب سارے حاشیے میں نیکیاں
کیا کتاب زندگی ہے زندگی کی آڑ میں
کتابوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن روٹی تو پیٹ کی آگ بجھاتی ہے، اس کی بابت کیاہو، یہ سوال نظیرباقری کا ہے ؎
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو
فاروق انجینئر کا تجربہ کہتاہے ؎
کچھ تو محفوظ رکھیے سینے میں
زندگانی کھلی کتاب نہ ہو
پریم بھنڈاری کتاب پڑھ رہے ہیں لیکن غزل کی اور تلقین کررہے ہیں کہ ؎
چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں
ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ
کچھ اوراشعار دیکھ لیجئے ؎
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
محسن نقوی
فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے
درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی
نصیر احمد ناصر
ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلا
کتاب کا نہ کوئی درس معتبر نکلا
فضا ابن فیضی
کچھ اور اشعار شعراء کے نام کے بغیر ملاحظہ کیجئے گا ؎
دیکھ میں ہوگیا ہوں بدنام کتابوں کی طرح
میری تشہیر نہ کر اب تو جلادے مجھکو
وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخہ عشق کا
کہ کتابِ عقل طاق پر جوں دھری تھی، تیوں دھری رہی
کہاں کہ مکتب وملا، کہا ں کے درس و نصاب
بس اک کتاب ِمحبت رہی ہے بستے میں
لفظوں کے سینے شق ہیں، معنی عرق عرق ہیں
مَیں نے کتاب، ہستی کھولی جہاں جہاں سے
کھلی کتاب کے صفحے اُلٹتے رہتے ہیں
ہوا چلے نہ چلے، دن پلٹتے رہتے ہیں
بس ایک چہرہ کتابی نظر میں ہے ناصرؔ
کسی کتاب سے میں استفادہ کیا کرتا
اس شہر میں کتنے چہرے تھے،کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
اک شخص کتابوں جیسا تھا،وہ شخص زبانی یاد ہوا
جب کتابوں سے میری بات نہیں ہوتی ہے
تب میری رات میری رات نہیں ہوتی ہے
کتابوں سے دلیلیں دوں، یا خود کو سامنے رکھ دوں
وہ مجھ سے پوچھ بیٹھے ہیں، محبّت کس کو کہتے ہیں
کچھ احباب سے پوچھناتھاکہ آ پ نے کون سی کتاب لکھی ہے؟ کس سن عیسوی میں وہ کتاب(یاکتابیں) شائع ہوئی(ہوئیں)؟ اس کتاب(کتابوں) کے ساتھ سیلفی لے کر سوشیل میڈیاپر اپلوڈ کرتے ہوئے ”یوم کتاب“ منایاجاسکتاہے۔ اگر کتا ب نہیں بھی لکھی ہے تو اپنی پسندیدہ کتاب کے ساتھ سیلفی لے کرسوشیل میڈیاپر پوسٹ کیجئے گاتاکہ کتابوں سے محبت، تعلق، اوردانشوری کاسا ماحول بنارہے، ہماری نئی نسل کتابیں پڑھے، انہیں علم ملتارہے۔وہ بھی کتابیں تخلیق کرتی رہے۔ میرؔبیدری کے ا س خوبصورت شعر پر بات ختم کی جاتی ہے ؎
ہم محبت کی بات کرتے ہیں
صورتِ کائنات کرتے ہیں
Comments
Post a Comment