اکیس 21 اپریل یوم وفات علامہ اقبال۔ - ازقلم : رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان سولاپور۔
اکیس 21 اپریل یوم وفات علامہ اقبال۔ -
ازقلم : رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان سولاپور۔
شاعرِ مشرق،حکیم الامت
علامہ اقبال نے 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں وفات پا گئے اور ان کا مزار بادشاہی مسجد لاہور کے قریب واقع ہے، علامہ اقبال ایک منفرد عالمی شخصیت تھے
علامہ اقبال نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے قران و احادیث کی روشنی میں اہم پیغام دیا ہے، دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں وہاں اقبال کی فکر نظر ائے گی۔۔
ترکی کے لوگ علامہ اقبال کو مرشد رومی کا دوسرا درجہ دیا کرتے ہیں۔مصر روم ایران یہاں پر بھی آپ کو علامہ اقبال کے عاشق نظر آئیں گے علامہ اقبال نے اپنی کلام میں جگہ جگہ اس حقیقت کی توجہ دلائی ہے کہ قران پورے عالم انسانیت کی اصلاح کے لیے نازل ہوا ہے ۔۔
علامہ اقبال نے مسلمانوں کو اپنی صلاحیت پر بھروسہ کرنے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کا درس دیا۔اقبال کا ماننا تھا کہ مسلمان اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم سے آراستہ ہو کر ہی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔علامہ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین بننے، راحت طلبی چھوڑنے اور محنت کرنے کی تلقین کی، اتحادِ ملت، مسلمانوں کو فرقہ بندی اور انتشار سے بچ کر ایک امت بننے کی نصیحت کی
حکیم الامت علامہ اقبال کا یہ شعر پر ایک لمحہ فکر کریں
یا مری آہ میں کوئی شررِ زندہ نہیں
یا ذرا نم ابھی تیرے خس و خاشاک میں ہے
یہ شعر علامہ اقبال کی مشہورِ زمانہ نظم "جوابِ شکوہ" (بانگِ درا) کا حصہ ہے
مسلمان میری پر سوز شاعری کے باوجود اسی طرح مردوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کا ایک سبب تو یہ ہو سکتا ہے کہ میری شاعری ہی میں سوز موجود نہیں اس لیے میرے دل کی حرارت ان تک نہیں پہنچتی یا یہ وجہ ہے کہ ابھی ان میں اسے قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے یعنی ابھی ان کے دل جذبے سے تہی (خالی) اور ٹھنڈے ہیں۔
یہ شعر امتِ مسلمہ کی بے حسی اور دوبارہ بیداری کی امید کے امتزاج کو ظاہر کرتا ہے
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی شاعری اور فلسفے کے ذریعے مسلمانوں کو بیدار کیا۔ انہیں 1922ء میں 'سر' کا خطاب دیا گیا
Comments
Post a Comment