ٹمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2026 ، ایک جائزہ۔ - اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی۔


 ٹمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2026 ، ایک جائزہ۔ - 
اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی۔

ریاست ٹمل ناڈو آزاد ہندوستان کی ایک ایسی واحد ریاست ہے جہاں کی سیاست ملک کی دیگر ریاستوں سے ہمیشہ الگ اور منفرد رہی ہے۔ لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تنظیم نو ہو یا علاقائی پارٹی بنا کر ریاستی حکومت پر استحقاق حاصل کرنا ہو ان دونوں میدانوں میں ریاست ٹمل ناڈو کو نہ صرف اولیت حاصل ہے بلکہ آج بھی یہاں لسانی اور علاقائی شناخت پر اصرار کی سیاست ہی سیاسی کامیابی کی ضامن ہے۔ 
سن 2014 کے بعد ملک میں اکثریت پسندی کی جو سیاست تیزی سے اپنا سحر پھیلا رہی ہے جس کے گرفت میں مبتلا ہو کر تقریبا پورا شمالی ہندوستان دھمال ڈال رہا ہے، اس کے اثرات جنوبی ہندوستان میں کم کم اور خاص کر ریاست ٹمل ناڈو میں نہ کے برابر ہیں۔ گزشتہ بارہ سالوں کے مسلسل ہر نہج کےپروپگنڈے، سیاسی نیتاؤں کے لگاتار یلغار اور گودی میڈیا کوریج کے باوجود اکثریت پسندی کے اس جنون کا اثر ریاست ٹمل ناڈو میں خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اکثریت پسندی کے اس طوفان بلا خیز میں اپنی کشتی کو مخالف سمت میں کھینے کا داعیہ ریاست ٹمل ناڈو کو اس کی لسانی شناخت کے حوالے سے تہذیبی اور علاقائی شناخت کے اصرار سے ملتا ہے، جس پر سمجھوتہ کرنے کے لئے وہ کسی بھی حال میں رائی برابر بھی تیار نہیں ہوتی۔
اس پس منظر میں ٹمل ناڈو ریاستی اسمبلی 2026 کے انتخابات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں توصاف لگتا ہے کہ ملک بھر میں وبا کی طرح پھیلی اکثریت پسند سیاست کا یہاں حاشیے میں بھی کہیں ذکر نہیں مل رہا ہے۔ یہ انتخابات ریاستی مدعوں پر کہیں ریاستی حکومت بنام مرکزی حکومت ہے تو کہیں ریاستی حکومت بنام ریاستی حزب اختلاف ہے۔ حکومت میں براجمان ڈی ایم کے اور اس کے اتحادی گزشتہ پانچ سالوں میں کئے گئے اپنی حکومت کی کامیاب فلاحی اسکیموں اور آئندہ کے لئے نئے فلاحی وعدوں کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہیں تو حزب اختلاف کی تمام پارٹیاں عوامی مسائل کو حل کرنے میں موجودہ حکومت کی ناکامی اور آیندہ کے لئے نئے فلاحی اسکیمیں شروع کرنے کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہیں۔ انتخابی جلسوں میں اکثریت پسندی اور مذہبی تفخر کے بیانات کہیں بھولے سے بھی سننے کو نہیں مل رہے ہیں۔ 
انتخابات کے اس دنگل میں ایک جانب ڈی ایم کے اور اس کے اتحادی کانگرس، وی سی کے، ایم ڈی ایم کے، ڈی ایم ڈی کے، دونوں کمیو نسٹ پارٹیاں، مسلم لیگ، ایم ایم کے وغیرہ پارٹیوں کا سیکولر پروگرسیوں الائنس کے نام سے گٹھ بندھن ہے تو دوسری جانب اے ڈی ایم کے کی سربراہی میں این ڈی اے الائنس جس میں بی جے پی، ٹی ایم سی، پی ایم کے، اے ایم ایم کے وغیرہ پارٹیاں شامل ہیں، مقابلے میں ہے۔ ان دو گٹھ بندھنوں کے علاوہ ٹمل سنیما کے ایک بڑے اسٹار وجے اپنی نئی پارٹی ٹی وی کے، کے ساتھ اور این ٹی کے پارٹی کے سیمان ریاست کے تمام اسمبلی حلقوں پر اپنے اپنے امیدواروں کے ساتھ ریاستی حکومت پر براجمان ڈی ایم کے اتحاد اور ریاست کے حزب اختلاف اے ڈی ایم کے اتحاد کو ٹکر دے رہے ہیں۔ 
یہ لڑائی کہیں دو رخی،تو کہیں سہ رخی، تو کہیں چار رخی ہو گئی ہے۔ ٹی وی کے کے لیڈر وجے کے بارے میں شروعات سے ہی یہ بات عام ہوگئی تھی کہ وہ بباطن بی جے پی کے نامزد کردہ ہیں اور ڈی ایم کے کو ہرانے کے لئے ٹمل ناڈو میں ایک منصوبے کے ساتھ پلانٹ کئے گئے ہیں۔ اس بیانئے میں کتنی سچائی ہے اس سے پرے حالیہ کچھ عرصہ قبل ایک کیس کے سلسلے میں وجے کا دہلی جانا ہوا تو یہ پروپگنڈہ زور و شور کیساتھ سامنے آیا کہ ان کے اور بی جے پی کے درمیان انتخابات کو لے کر ایک سمجھوتہ تقریبا طے ہوچکا ہے، جس میں انہیں معقول سیٹوں کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ یا قائد حزب اختلاف کا وعدہ کیا گیا ہے۔ مگر انتخابات کے اعلان کے ساتھ آخری لمحوں میں وجے اور ان کی پارٹی کی جانب سے اس پروپگنڈے کو مکمل رد کر دیا گیا اور بی جے پی کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے نظریاتی بنیادوں پر ہمیشہ کے لئےانکار کہہ کر اپنی سیکولر شبیہ کر مضبوط کرنے کی کمال کوشش کی گئی۔ اس پورے ڈرامے کا اثر ریاست کے عوام پر کیا پڑا اور انہوں نے اس سیاسی اسکرپٹ کو کس زاوئے سے پڑھا یہ تو انتخابات کے بعد ہی پتہ چلے گا مگرظاہری طور سے لگتا ہے کہ اس بیانئے کا کچھ نہ کچھ فائدہ وجے اور ان کی پارٹی کو ضرور ملے گا۔ 
انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ریاست بھر کے ماہرین انتخابات نے نتائج کو لے کر الگ الگ پیش گوئیاں کی ہیں، اگر انہیں اکھٹا کر کے دیکھا جائے تو ڈی ایم کے اتحاد اور اے ڈی ایم کے اتحاد کےد رمیان کانٹے کی ٹکر نظر آرہی ہے، ان دونوں کے علاوہ وجے کی پارٹی کو بھی چند سیٹوں پر کامیابی ملتی نظر آتی ہے۔ فیصد کے حساب سے وجے کی پارٹی ٹی وی کے کو بارہ سے چودہ فیصد ووٹ شئیر ملنے کا اندازہ بھی پیش کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ڈراوڑی پارٹیوں کو مشترکہ نقصان کا اندیشہ ہے۔
ریاستی انتخابات کی اس گھما گھمی میں اچانک مرکزی حکومت نے اپریل سولہ تاریخ کو ایک خصوصی پارلیمنٹ سیشن بلا کر اس میں خواتین ریزرویشن بل اور حد بندی بل کو ایک ساتھ جوڑ کر پیش کیا۔ چونکہ یہ بل آٸینی ترمیم کے تحت آتا ہے اس لئے اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرنے کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ حد بندی کو لے کر پہلے ہی سے ٹمل ناڈو کی ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت میں بہت سخت ٹکراؤ ہے۔ ایسے میں انتخابات کے درمیان مرکزی حکومت نے اس بل کو کیوں پیش کیا یہ ایک الگ ہی بحث اور سوال ہے، لیکن اس کی وجہ سے ریاستی انتخابات میں ڈی ایم کے اتحاد کا پلڑا بھاری ہوتا صاف دکھائی دے رہا ہے۔ جیسے ہی مرکزی حکومت نے بل لانے کا اعلان کیا وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالین نے فورا ایک ویڈیو جاری کیا جس میں انہوں نے اس موضوع پر مرکزی حکومت کی سخت مذمت کرتے ہوئے اُسے ڈی ایم کے کی اس جارحانہ رُخ کی یاد دلائی جس کا مظاہرہ اس نے اپنے شروعاتی دور میں لسانی مسئلے کو لے کرپیش کیا تھا اور سخت لہجے میں کہا کہ اگر مرکزی حکومت نے بل پاس کرایا تو اسے ڈی ایم کے، کے اُسی رخ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ویڈیو جاری کر کے رکے بغیر جس دن پارلیمنٹ میں بل پیش کیا گیا اسی دن اس کے خلاف ڈی ایم کے پارٹی کے تمام ارکین پارلیمنٹ و اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں نے کالے کپڑے پہن کر اجتماعی مظاہرہ کیا اور وزیراعلی ایم کے اسٹالین نے بل کی کاپی کو نذر آتش کرکے سخت مخالفت کا کھل کر اظہار کیا۔ یہی نہیں انہوں نے اس بل کوجنوبی ہندوستان کے خلاف سازش قرار دے کر اس ناانصافی کے خلاف جنوبی ہند کی ریاستوں کو مل کر یہ لڑائی لڑنے کی دعوت دے دی۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ ان کا یہ جارحانہ رُخ انتخابات میں ان کے اتحاد کو بڑا فائدہ پہنچا سکتا ہے اور جو دو بڑے گٹھ بندھنوں میں کانٹے کی ٹکر نظر آرہی تھی اب وہ ڈی ایم کے اتحاد کی جانب یکطرفہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔  
بات جو بھی ہو ٹمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2026، ریاست کی سیاست میں جہاں کچھ نئے چہروں کو آنے کی راہ ہموار کرے گی اور ڈراوڑ پارٹیوں کی ریاست کی سیاست پر گرفت کو واضح کرے گی وہیں یہ بات بھی طے کرے گی کی 2029 کے پارلیمانی انتخابات میں ریاست کا اکثریتی رجحان کس جانب ہوگا۔   

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔