نسیم عارفی ’اردو میڈیا ایوارڈز‘ – 2025دوسرے ایڈیشن کے لیے نامزدگیاں طلب۔
نسیم عارفی ’اردو میڈیا ایوارڈز‘ – 2025
دوسرے ایڈیشن کے لیے نامزدگیاں طلب۔
حیدراباد 15 مارچ( پریس نوٹ) ’اردو میڈیا ایوارڈز‘ مرحوم نسیم عارفی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں، جناب نسیم عارفی مرحوم نے 50 سال سے زائد عرصے تک اردو صحافت کی خدمت کی اور اس کے فروغ و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ عارفی صاحب نے 1960 کی دہائی میں اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز حیدرآباد کے ممتاز اردو اخبار ’’روزنامہ سیاست‘‘ سے کیا۔ ان کے عزم اور بصیرت نے ’’روزنامہ منصف‘‘ کی دوبارہ اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد انہوں نے حیدرآباد سے ’’روزنامہ اعتماد‘‘ کے اجرا کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے اردو صحافت کو مزید تقویت بخشی۔ مرحوم نسیم عارفی اردو صحافت پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں یہ ایوارڈز ان کے نام سے منسوب کیے گئے ہیں، جو حیدرآباد کی رضاکارانہ تنظیم سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کی جانب سے پیش کیے جاتے ہیں۔ ملک بھر سے تعلق رکھنے والے نوجوان اردو صحافیوں کو 5 ایوارڈز دیے جائیں گے۔ ان میں سے 2 ایوارڈز تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لیے، 2 ایوارڈز ملک کے دیگر حصوں کے صحافیوں کے لیے مختص ہیں، جبکہ ایک خصوصی ایوارڈ کسی ایسے سینئر صحافی یا ممتاز میڈیا شخصیت کو دیا جائے گا جس نے اپنی زندگی اردو صحافت کے لیے وقف کی ہو اور اس میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ ہر ایوارڈ کے ساتھ 15 ہزار روپے کا نقد انعام اور ایک سند دی جائے گی۔ منتخب امیدواروں کو حیدرآباد آنے اور واپس جانے کا ہوائی سفر کا کرایہ اور قیام کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
ان ایوارڈز کا مقصد اردو صحافیوں کی نئی نسل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جو سچائی، دیانتداری اور تنوع کے اصولوں پر کاربند ہو۔ ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے یہ ایوارڈز ایک ایسے میڈیا ماحول کو فروغ دیتے ہیں جو جامع صحافت کی حمایت کرتا ہو اور معاشرے کے متنوع رنگوں کی حقیقی عکاسی کرے۔
اگر آپ نے ذوق و شوق سے اردو صحافت کے لیے کام کیا ہے تو ہم آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی درخواست بھیجیں!
اہلیت کا معیار:
• وہ میڈیا سے وابستہ افراد جو اردو صحافت کے ذریعے رائے عامہ پر اثر ڈالتے ہیں اور پالیسی سازی کے عمل میں تعمیری کردار ادا کرتے ہیں۔
• سوشل میڈیا پر سرگرم وہ افراد جو شعور بیدار کرنے، جعلی خبروں کی نشاندہی اور ان کے پھیلاؤ کو روکنے میں کردار ادا کرتے ہیں، خواہ انفرادی طور پر یا کسی ادارے کے ساتھ مل کر۔
• وہ صحافی جو تحقیقاتی صحافت، ڈیٹا پر مبنی رپورٹنگ، فیچر نگاری، ٹی وی دستاویزی پروگراموں اور آڈیو/بصری ذرائع کے ذریعے زمینی حقائق پیش کرتے ہیں۔
• وہ صحافی جو اپنی ویب سائٹس یا یوٹیوب چینلز کے ذریعے نظرانداز شدہ مسائل پر باقاعدگی سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔
• وہ بلاگرز یا محققین جو مرکزی میڈیا سے باہر رہتے ہوئے اردو صحافت میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں اور اردو بولنے والی برادریوں کے مسائل اور بیانیے کو اجاگر کرتے ہیں۔
• درخواست دہندہ ہندوستانی شہری ہو۔
درخواست کے اجزاء
ذاتی بیان:
500 سے 800 الفاظ پر مشتمل ایک مضمون، جس میں میڈیا میں تنوع کے حوالے سے درخواست دہندہ کی سوچ اور وژن بیان کیا گیا ہو۔
ریزومے:
تعلیمی پس منظر، متعلقہ تجربہ اور اردو میڈیا میں نمایاں کامیابیوں پر مشتمل تازہ ریزومے۔
کام کے نمونے:
درخواست دہندگان (یا جنہیں ان کی تنظیم نامزد کرے) 2025 میں شائع ہونے والے کم از کم 3 کاموں کے نمونے (خبریں، ویڈیوز وغیرہ) کے روابط (لنک) فراہم کریں۔
لنک 1 __________________
لنک 2 __________________
لنک 3 __________________
نوٹ: یہ روابط ذاتی بیان اور سی وی کے ساتھ ای میل میں شامل کریں۔
درخواست کی تفصیلات:
درخواست دہندگان اپنی نامزدگیاں درج ذیل ای میل پتوں پر بھیج سکتے ہیں:
admin@cetigroup.org
cetifoundations@gmail.com
مزید معلومات کے لیے 9948008817 پر رابطہ کریں۔
درخواست جمع کرنے کی آخری تاریخ: 25 اپریل 2026
سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کے بارے میں:
سی ای ٹی آئی (مسابقتی امتحانات کی تربیت کا ادارہ) کی بنیاد 1980 میں اس وژن کے ساتھ رکھی گئی کہ تعلیم کے ذریعے طلبہ کو بااختیار بنایا جائے۔ جناب بشیرالدین بابو خان، جناب ایس۔ اے۔ ولی قادری اور سید بشارت علی کے تصور سے قائم ہونے والے اس ادارے کو ممتاز شخصیات، ماہرینِ تعلیم اور ایک فعال سابق طلبہ نیٹ ورک کی رہنمائی حاصل رہی ہے، جو اس یقین پر قائم ہے کہ حقیقی بااختیاری تعلیم ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
اس ادارے کا مقصد طلبہ کو بااثر پیشوں، سرکاری اداروں اور پالیسی سازی کے میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ وقت کے ساتھ اس نے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا ہے جہاں صلاحیت ہی اصل معیار ہے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مالی رکاوٹیں کسی کی صلاحیت کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئیں، اسی لیے اس کے تمام تربیتی پروگرام مکمل طور پر کفالت شدہ ہوتے ہیں، کیونکہ ایک طالب علم پر کی گئی سرمایہ کاری دراصل ایک پوری برادری کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
Comments
Post a Comment