شیگاؤں کے لوہارا گاؤں میں مکتب نوجوانان لوہارہ سے 17 بچوں نے حفظِ قرآن مکمل کیا — خود انحصاری کی نورانی پر وقار کامیابی۔
جلگاؤں (سعید پٹیل) مہاراشٹر کے شیگاؤں تعلقہ کے قصبہ لوہارا میں قائم مکتب نوجوانان لوہارہ نے ایک قابلِ ستائش کارنامہ انجام دیتے ہوئے 17 بچوں کو حفظِ قرآن کی دولت سے سرفراز کیا ہے۔ یہ کامیابی علاقے میں خوشی اور اطمینان کا باعث بن گئی ہے، جبکہ دینی حلقوں میں اس ادارے کی سنجیدہ کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
اس مکتب کی نگرانی معروف دینی شخصیت حافظ عبدالحنان صاحب کر رہے ہیں، جو اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر نہایت خاموشی اور اخلاص کے ساتھ تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ ادارہ روایتی چندہ یا زکوٰۃ کے بغیر ایک منظم فیس سسٹم کے تحت چلایا جا رہا ہے، جو موجودہ حالات میں ایک مثالی اور قابلِ غور نمونہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حافظ عبدالرحیم جلگاؤں اور مکتب کے ذمہ داران
کے مطابق مکتب میں بچوں کو نہ صرف قرآنِ کریم حفظ کروایا جاتا ہے بلکہ ان کی دینی تربیت ، اخلاقی اصلاح اور عملی زندگی کی رہنمائی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قلیل عرصہ میں یہاں سے بڑی تعداد میں طلبہ نے کامیابی حاصل کی ہے۔
مکتب کی اہمیت پر زور
ماہرینِ تعلیم اور دینی شخصیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں مکتب کی حیثیت بنیاد کی ہوتی ہے۔ اگر ابتدائی سطح پر بچوں کی صحیح تربیت اور قرآن سے وابستگی مضبوط ہو جائے تو آئندہ نسلوں کا رخ خود بخود درست ہو جاتا ہے۔
اس موقع پر اہلِ فکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر مسجد کے ساتھ ایک فعال اور مضبوط مکتب کا نظام قائم کیا جائے تاکہ بچوں کی دینی تعلیم کا سلسلہ منظم انداز میں جاری رہے۔
اصلاحی پہلو کی طرف توجہ
ادارے کی اس کامیابی کے پس منظر میں ایک اہم پیغام بھی سامنے آ رہا ہے کہ دینی خدمات میں نظم، شفافیت اور معیار کو ترجیح دی جائے۔ بعض حلقوں میں اس بات کی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ غیر منظم انداز میں مدارس کے قیام اور چندہ و زکوٰۃ کے بے ترتیب استعمال سے نہ صرف اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ دینی تعلیم کا معیار بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔
اہلِ علم کا کہنا ہے کہ:
ضرورت اور صلاحیت کو سامنے رکھ کر ادارے قائم کیے جائیں
زکواۃ وغیرہ کے چندہ کے نظام کو شفاف اور جوابدہ بنایا جائے
موجودہ مکاتب کو مضبوط اور فعال بنانے پر توجہ دی جائے
قابلِ تقلید مثال
مکتب نوجوانان لوہارہ کی یہ کامیابی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر خلوصِ نیت ، محنت اور منظم حکمتِ عملی کے ساتھ کام کیا جائے تو محدود وسائل میں بھی بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
علاقہ کے عوام اور دینی حلقوں نے حافظ عبدالحنان صاحب اور ان کی ٹیم کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ ادارہ آئندہ بھی اسی طرح دینی خدمات انجام دیتا رہے گا اور دیگر مقامات کے لیے ایک رہنما مثال بنے گا۔
Comments
Post a Comment