ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی یوم پیدائش(14 اپریل) کے موقع پر خصوصی مضمون۔ از قلم : ڈوکا محمد عرفان محمد ابراہیم۔


ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی یوم پیدائش(14 اپریل) کے موقع پر خصوصی مضمون۔ 
از قلم ڈوکا محمد عرفان محمد ابراہیم۔

بھارت کے دستور کے معمار، مسعودہ کمیٹی کے صدر، بھارت کے پہلے وزیرِ قانون، بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی پیدائش 14 اپریل 1891ء میں ریاست مدھیہ پردیش کے مہو گاؤں کے ایک دلت خاندان میں ہوئی۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر صوبیدار رام جی مالوجی سکپال کے بیٹے تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم ضلع رتناگیری کے تعلقہ داپولی کے اے جی پاٹل اسکول و ساتارہ کے کیمپ اسکول سے حاصل کی. اسکولی تعلیم کے دوران وہ چھوا چھوت کی لعنت کا شکار رہے۔ 1907ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1912ء میں آپ نے ایلفنسٹن کالج بمبئی سے گریجویشن مکمل کیا۔ 1915 میں قدیم بھارت میں تجارت کے عنوان سے مقالہ لکھ کر ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ برطانوی ہند کی صوبائی مالیات کا تخمینہ (Evaluation of Provincial Finance In British India) اس کتاب کو جب آپ نے کولمبیا یونیورسٹی کے سامنے پیش کرنے پر امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی نے 8 جون 1927ء میں آپ کو سرکاری طور پر PHD کی ڈگری دی۔

1924 میں انگلینڈ سے واپس آنے کے بعد انہوں نے پسماندہ طبقوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ایسوسی ایشن کا آغاز کیا تعلیم کو پھیلانا، معاشی حالات کو بہتر بنانا اور پسماندہ طبقے کو ان کے حقوق دلانا اس ایسوسی ایشن کے مقاصد تھے۔
اونچی ذات کے ہندوؤں نے اچھوتوں کو چودار تالاب سے پانی لینے کے حق سے انکار کیا گیا تھا جبکہ اونچی ذات کے ہندو دلتوں کو ہندو مذہب کا حصہ سمجھتے تھے۔ لیکن انھیں سماجی برابری سے دور رکھا تھا اور ان پر بہت سی مذہبی پابندیاں عائد کی تھی۔ اس لئے 
 20 مارچ 1927 کو بھیم راؤ امبیڈکر کی قیادت میں ریاست مہاراشٹر کے ضلع رائے گڑھ کے مہاڈ‌ تعلقہ میں موجود چودار نامی تالاب میں سے دلتوں کے لئے پانی حاصل کرنے کے حق کے لئے انہوں نے ستیہ گرہ کیا۔
اس ستیہ گرہ میں ہزاروں دلت لوگوں نے حصہ لیا تھا،دلت لوگ مہاڈ کے چودار تالاب پر پہنچے اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے پہلے اس تالاب کا پانی اپنے دونوں ہاتھوں سے لے کر پیا، پھر ہزاروں ستیہ گرہیوں نے بھی ان کے ساتھ ساتھ چودار تالاب کا پانی پی کر چھوت چھات کی مخالفت کی۔
دلتوں کو ہندو مذہب کا حصہ مانا جاتا تھا لیکن انھیں مذہبی امور سے کوسوں دور رکھا گیا تھا اگر اچھوتوں کو ہندو تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر یہ پابندیاں کیوں؟ اس لئے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے 1930ء میں ضلع ناسک کے کالا رام مندر کے باہر ستیہ گرہ کرکے دلتوں کو مندر میں داخلہ دلانے میں کامیابی حاصل کی۔ لندن میں منعقد پہلی، دوسری اور تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے آپ نے دلتوں کی نمائندگی کی۔ جس کتاب کی بنیاد پر دلتوں پر ظلم و ستم کیا جا رہا تھا اس کتاب یعنی منو سمرتی کو چندن کی لکڑیاں جمع کرکے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور ان کے ہزاروں حامیوں نے ملکر منو سمرتی کو نظر آتش کیا۔

13 اکتوبر 1935 کو ناسک ضلع کے ایولہ میں امیت ڈھونڈی بارن کھمبے کی صدارت میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے اعلان کیا میں ایک اچھوت ذات میں پیدا ہوا ہوں اس میں میرا کوئی قصور نہیں لیکن مرتے وقت میں ہندو کی حیثیت سے نہیں مروں گا۔ ان کے ہزاروں پیروکاروں نے ان کے فیصلے کی حمایت کی۔ بالاآخر 14 اکتوبر 1956ء کو اپنے لاکھوں ساتھیوں کے ساتھ اجتماعی طور پر ناگپور میں دھم کی دکشا لی یعنی بودھ مذہب کو قبول کیا۔
1947 میں آزادی کے بعد آپ جواہر لال نہرو کی پہلی کابینہ میں وزیر قانون و انصاف کے طور پر مقرر ہوئے لیکن کچھ ہی عرصے میں انہوں نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔
6 دسمبر 1956 کو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا انتقال ہوا۔
6 دسمبر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں مہاپری نروان دیوس کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر امبیڈکر کی یہ روشن زندگی کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ مطالعہ اور عمل کے آدمی تھے۔ سب سے پہلے، انھوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے معاشیات، سیاست، قانون، فلسفہ اور سماجیات کا صحیح علم حاصل کیا۔ انھیں کئی سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انھوں نے ساری زندگی لکھنے پڑھنے اور لائبریریوں میں ہی گزاری۔ انہوں نے پرکشش تنخواہوں کے ساتھ اعلیٰ عہدوں سے انکار کر دیا تاکہ اچھوت سمجھے جانے والے دلت طبقات کو ان کا وقار و حق دلا سکیں۔انہوں نے اپنی باقی زندگی مساوات، بھائی چارے اور انسانیت کے لیے وقف کر دی۔ تعلیم کی اہمیت پر انھوں نے تعلیم حاصل کرو، متحد رہو اور جدوجھد کرو کا نعرہ دیا۔ ساتھ ہی ساتھ اورنگ آباد شہر میں ملند کالج اور سدھارتھ کالج کی بنیاد رکھی۔ شدر کون تھے، بھارت میں ذاتیں جیسی کتابیں لکھی۔سماجی بیداری کے لئے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے جنتا،سمتا، موک نائیک، بہشکرت بھارت جیسے اخبارات جاری کیئے۔

ڈوکا محمد عرفان محمد ابراہیم۔
(معاون معلم بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول و جونیئر کالج شولاپور)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ