تعلیم شعور کی روشنی ہےاسی سے قوموں کی تقدیر سنورتی ہے۔ڈاکٹراین بی نالتواڑ۔ - ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی 135ویں یومِ پیدائش کے موقع پر انجمن ڈگری کالج دھارواڑ میں مساوات، تعلیم اور سماجی انصاف کا پیغام گونج اٹھا -


تعلیم شعور کی روشنی ہےاسی سے قوموں کی تقدیر سنورتی ہے۔ڈاکٹراین بی نالتواڑ۔ - 
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی 135ویں یومِ پیدائش کے موقع پر 
انجمن ڈگری کالج دھارواڑ میں مساوات، تعلیم اور سماجی انصاف کا پیغام گونج اٹھا -

 
دھارواڑ، 14 اپریل: (راست) انجمن آرٹس، سائنس، کامرس کالج اینڈ پی جی اسٹڈیز، دھارواڑ میں ڈاکٹر بی ۔آر۔امبیڈکرکی 135ویں یومِ پیدائش نہایت احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس پروگرام کا انعقاد شعبۂ سیاسیات، این ایس ایس یونٹس I و II اور آئی کیو اے سی کے اشتراک کیا گیا۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سوبھاگیا کے۔ جادھو،صدر شعبہ تعلیم نے اپنے سادہ مگر پُراثر خطاب میں ڈاکٹربی آر امبیڈکرکی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے اپنی پوری زندگی سماجی ناانصافی کے خلاف جدوجہد میں گزاری اور تعلیم کو ترقی کا سب سے بڑا ہتھیار بتایا۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ محنت کریں، تعلیم حاصل کریں اور سماج میں برابری اور بھائی چارہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا پہلے تھا اور ہمیں ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔ کلیدی خطاب میں پروفیسر ناگراج کنکانے نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کا سب سے بڑا پیغام تعلیم، برابری اور انصاف ہےجسے اپنانا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔آئی کیو اے سی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سید تاج النساء نےڈاکٹربی آر امبیڈکر کو ایک عظیم رہنما قرار دیا اور کہا کہ ان کی تعلیمات ہمیں انصاف، مساوات اور خود اعتمادی کا درس دیتی ہیں۔اسٹاف سیکریٹری ڈاکٹر بی۔ بی۔ عائشہ چکولی نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر امبیڈکر کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بی آرامبیڈکر نے نہ صرف آئینِ ہند کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا بلکہ پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے بھی بے مثال کام کیا۔ ان کی زندگی ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
 تقریب کی صدارت پرنسپل ڈاکٹر این۔ بی۔ نالتواڈ نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے نہایت پُراثر اور فکرانگیز انداز میں طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے افکار محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہیں جو ہر دور کے انسان کو راہِ عمل دکھاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم ایک مہذب، منصف اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ڈاکٹر امبیڈکر کے بتائے ہوئے اصولوں خصوصاًمساوات، انصاف اور تعلیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم صرف حصولِ روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور کی بیداری کا چراغ ہےاور یہی وہ روشنی ہے جس سے انسان اپنی اور سماج کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے نصیحت کی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں اعلیٰ اخلاق کو اپنائیں اور ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان اگر سچائی، دیانت اور محنت کو اپنا شعار بنا لے تو یقیناً وہ ایک بہتر ہندوستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اور یہی باباصاحب امبیڈکرکے خوابوں کی حقیقی تعبیر ہوگی۔پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا احمد رضا پٹھان نے خوش الحانی سے پیش کیا۔پروفیسر شروتی یوگل مٹھ نے شلوک پیش کئے،شعبۂ سیاسیات کے سربراہ پروفیسر ناگراج کنکی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ان کی خدمت میں گل پیش کیے۔ پروفیسر سریش بسریکٹی نے شکریہ ادا کیا۔پروگرام کی نظامت پروفیسر نورجہاں گلگلی نے بخوبی انجام دی۔ اساتذہ، این ایس ایس رضاکاروں اور طلبہ کی بھرپور شرکت نے اس تقریب کو یادگار بنا دیا۔جہاں ڈاکٹربی آر امبیڈکرکے پیغام کو عام کرنے کا عزم دہرایا گیا۔(رپورٹ :ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،صدرشعبہ اردو،انجمن ڈگری کالج ،دھارواڑ)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ