لاونیا نے اردو زبان میں 125میں سے 125نشانات حاصل کئےدیہی علاقہ بھاتمرہ سے ڈسٹنگشن میں کامیاب۔

 
بیدر۔ 24/اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری) اردو زبان کی خوبصورتی دراصل اس کی آفاقیت میں ہے۔ آفاقیت یہ ہے کہ اس زبان کوسبھی طبقہ اور ملک کے لوگ سیکھیں۔ زبانیں جب افراد، اقوام اور ممالک سے مخصوص ہوجاتی ہیں تو دیرسویر سہی ان کازوال شروع ہوجاتاہے۔یہ بات اہل اردو بھی اچھی طرح جانتے ہیں تاہم تجاہل عارفانہ سے کام لینے میں اردو والوں سے بڑھ کر شایدہی کوئی ملے۔ آج ہم ایک ایسی طالبہ کا ذکر کرنے جارہے ہیں جس نے ایس ایس ایل سی (دہم جماعت) کے بورڈ امتحانات میں صدفیصد نشانات حاصل کرکے ایک ریکارڈ قائم کیاہے۔ طالبہ کانام لاونیا بنت گنڈپا ہے۔ جس نے سرکاری ہائی اسکول بھاتمبرہ تعلقہ بھالکی ضلع بیدر سے 625میں سے 561نشانات (90%) لے کر اسکول میں جہاں ٹاپ کیاہے وہیں اُردو پرچہ میں 125میں سے 125نشانات لے کر کامیابی کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔ لاونیا ایس سی ہیں، ان کے والد کنڈکٹر ہیں۔ لاونیا نے سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی۔اور لاونیا نے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی اور لاونیا نے دیہی علاقے سے تعلیم حاصل کی۔ اس طرح پانچ زائد خوبیاں لاونیا میں ہیں۔ اردو کے حوالے سے کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ اردو تو ہر اس شخص کی زبان ہے جو انسانوں سے محبت کرنا جانتاہو۔ ہمار اخیال ہے کہ اردو تنظیمیں ایسی طالبات /طلبہ کو اعزاز سے نوازنا چاہیے۔ گلبرگہ،اور بیدر اردو کے علاقے ہیں۔اہل بنگلوروبھی لاونیا کی کامیابی کو ستائش کی نظر سے دیکھنا پسند کریں گے۔ اسی طرح حیدرآباد کے اردو ادارے بھی اس طرف توجہ دیں گے تو اردو جیسی گنگاجمنی تہذیب مزید ترقی کرسکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔