عیدقربان اور اردو زبان کاشعری سرمایہ - محمدیوسف رحیم بیدری۔


عیدقربان اور اردو زبان کاشعری سرمایہ  - 
محمدیوسف رحیم بیدری۔

ہر قوم میں عید کاقوی تصور ہے۔ اسی طرح اسلام بھی عیدکی بات کرتاہے۔ عید کے لغوی معنی خوشی اور جشن کے گوگل بابابتاتے ہیں۔ فرہنگ آصفیہ میں عید کے معنی نہایت خوشی کے بتائے گئے ہیں۔ ایک معنی یہ بھی کہاگیاہے کہ وہ تہوار جو عود کر آئے۔ مسلمانوں کے جشن کاروز۔ خوشی کاتہوار۔ پھریہ بھی کہ عید کے لغوی معنی واپس آنے والی چیز کے ہیں (جلد سوم، صفحہ 296)
جانے کس کے ساتھ ہے صدیوں سے وعدے کی طرح 
آنے کاتھا وعدہ لے کر آگئی ہے عید پھر 
میرؔبیدری 
عیدکے عمومی معنی جشن منانے کے بھی لئے جاتے ہیں۔عید قربان یا عید الالضحیٰ کے بارے میں فرہنگ آصفیہ میں درج ہے کہ ”عید قرباں۔ بقرعید۔ مسلمانوں کاوہ تہوار جس میں قربانیاں اور حج کرتے ہیں۔اَضحی لفظ اضحات کی جمع ہے۔ اور اضحات اصل میں اضیحہ تھا۔ کیوں کہ اس کے معنی اس قربانی کے ہیں جو چاشت کے وقت کی جائے۔ یہ رسم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے وقت سے جب کہ انھوں نے اپنے بیٹے اسمٰعیل ؑ کی قربانی بحکم خدا کی اور وہاں بیٹے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے حضرت جبرئیل ؑ نے دنبہ رکھ دیا، جاری ہوئی“ (جلد سوم۔ صفحہ 296) 
ہر قوم جس طرح عید مناتی ہے اسی طرح قربانی بھی کرتی ہے۔ جانوروں کی قربانی کاتصور تمام مذاہب میں ہمیں مل جاتاہے۔ اسی طرح اسلام میں بھی جانور کو ذبح کرنے کااصول حضر ت محمد  ْﷺ نے تفصیلی طورپر قرآن کے حوالے سے بتایاہے اور خود بھی اس پر عمل کرکے دکھادِیا اوریہ پیغام دیاکہ ”اللہ کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون، ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے“(سورۃ الحج۔ آیت 37، ترجمہ کنزالایمان) گویا عید قربان دراصل پرہیزگاری کا حصول ہے۔ ناکہ گوشت کھاکر جشن منانا۔ یعنی جشن کے موقع پر پرہیزگاری کاحصول اہم اور کلیدی نکتہ ہے  جس کو پلو سے باندھ لینا چاہیے۔  
عید ِ قربان:۔ 
آئیے، آج ہم عیدقربان کے حوالے سے اردو شعروادب کامطالعہ کرتے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کن کن شعراء نے قربانی کے تصور کو کس طرح سے لیاہے۔ جعفر ساہنی کاشعر ہے    ؎
عید کادن توہے مگر جعفر 
میں اکیلے تو ہنس نہیں سکتا
اس شعر میں مل جل کر عید منانے اور ہنسنے بولنے کااحساس  دلایاگیاہے۔ لیکن ہم عیدقربان کی بات کررہے ہیں۔ جناب انشا اللہ خاں انشاء کا درج ذیل شعر فرہنگ آصفیہ میں بھی درج کیاگیاہے    ؎
یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں 
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا
شاد لکھنوی کہتے ہیں    ؎
عشق مژگاں میں ہزاروں نے گلے کٹوائے
عید قرباں میں جو وہ لے کے چھری بیٹھ گیا
ولی عزلت نے قصاب کے حوالے سے مخاطبت کی ہے، اس  مخاطبت میں ان کا فن پوشیدہ ہے    ؎
 سن لے اے قصاب ٹک ہم بسملوں کا شورِ حلق
عیدِ قرباں کی سناتے ہیں مبارکباد ہم
نظم ”مقتل کی عیدِ قرباں“ میں خورشید اکبر کہہ رہے ہیں   ؎
 عیدِ قرباں سے مقدس نہیں کوئی تقریب
 اس طرح بھولا سبق یاد دلایا گیا ہے
نظم (صبحِ عید)میں ماسٹر باسط بسوانی کہہ رہے ہیں   ؎
 حاصل ہوا ہے آج مجھے انبساطِ روح
 سو جان سے ہے دل مرا قربانِ صبحِ عید
راہ ِ عشق میں قربانی:۔ راہ ِ عشق (مجازی و حقیقی دونوں) کی طرف شاعر کا جانا عمومی بات ہے۔ ادب کے طئے شدہ راستوں میں ایک راہ ِ عشق ہے۔ جو کوئی اس راستے پر چلاوہ اپنے محبوب (حقیقی ومجازی) سے ملا۔شاہ نصیر کہتے ہیں    ؎
سب پہ روشن ہے کہ راہ عشق میں مانند شمع
پاؤں پر سے ہم نے قرباں رفتہ رفتہ سر کیا
راہ ِ عشق میں تراب کاکوروی کی قربانی دیکھ لیجئے   ؎
ہدف جس کا فقط دل ہو میں ایسے تیر کے قرباں 
بدن جس سے نہ گھائل ہو میں اس شمشیر کے قرباں 
ساحر دہلوی سیدھے سیدھے پری رو چہرے کے دیوانے ہوگئے ہیں اور کہہ رہے ہیں    ؎
اے پری رو ترے دیوانے کا ایماں کیا ہے
اک نگاہ غلط انداز پہ قرباں ہونا
امداد علی بحر کوشکویٰ ہے   ؎
 ہوا عید کے دن میں قربان تجھ پر
بلا کر گلے سے لگایا تو ہوتا
استاد قمر جلالوی چاند سی صورت پر قربان نہ ہو، یہ استاد کے مسلک ومشرب کے خلاف ہوگا۔ کہتے ہیں   ؎
تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول
صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار
بیخود دہلوی کا رومانس خالص غزل اور انسانی رومانس ہے    ؎
منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے
اس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے
اوج لکھنوی شرم اور لحاظ سے ہٹ کر آواز اور آنکھ پر صدقے اور قربان جانے کی بات کرتے ہیں   ؎
اس پہ قربان کہ جس نے تری آواز سنی
صدقے اس آنکھ کے جس نے ترا جلوہ دیکھا
قربان ہونے کی بات ہو اور میر تقی میرؔکاذکر نہ ہو، ایسی غلطی کبھی نہیں ہوسکتی۔ حضرت میرؔکہتے ہیں    ؎
گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہے
یعنی ہزار جی سے قربان ہو رہا ہے
سراج اورنگ آبادی کہتے ہیں    ؎
کہتے ہیں تری زلف کوں دیکھ اہل شریعت
قربان ہے اس کفر پر ایمان ہمارا
شیخ ظہور الدین حاتمؔ کو بھی سن لیجئے    ؎
قربان سو طرح سے کیا تجھ پر آپ کو
تو بھی کبھو تو جان نہ آیا بجائے عید
سجاد باقر رضوی بھی بکنے اور قربان ہونے پر تلے بیٹھے ہیں    ؎
من دھن سب قربان کیا اب سر کا سودا باقی ہے
ہم تو بکے تھے اونے پونے پیار کی قیمت کم نہ ہوئی
چلئے مضطر خیرآبادی کو بھی پڑھ لیں    ؎
کوئی لے لے تو دل دینے کو میں تیار بیٹھا ہوں 
کوئی مانگے تو اپنی جان تک قربان کرتا ہوں 
نظم”ہنڈولا“ میں فراق گورکھپوری نل دمن کے عشق کی داستان سناتے ہوئے کہہ رہے ہیں   ؎
وہ نل دمن کی گتھا سرگزشت ساوتری
شکنتلا کی کہانی، بھرت کی قربانی
مزید اشعار درج ذیل ہیں۔ پڑھ سکتے ہیں   ؎
میں جان و دل سے تصور حسن دوست کی مستیوں کے قرباں 
جو اک نظر میں کسی کے بے کیف آنسوؤں کو شراب کر دے
اختر شیرانی
اے شوق تیرے صدقے پہنچا دیا کہاں تک
اے عشق تیرے قرباں جینا ہے اب نہ مرنا
جگر مراد آبادی
جان و دل ہم نے کر دیے قرباں 
وہ نہ مانے تو کیا کرے کوئی
درشن سنگھ
وطن پر قربانی:۔ وطن عزیز سے محبت انسانی تاریخ کاوہ حصہ ہے جو پرجوش بھی ہے اور مظلوم بھی ہے۔ انسان نے اپنے جیسے انسانوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیاہے۔ اور یہ عمل ہر اچھے فرد، ویژن رکھنے والے افراد اور پیغمبروں کے ساتھ ہواہے۔ وطن سے ہجرت پر بدقماش انسانوں نے انھیں مجبورکیا۔اکیسویں صدی میں بھی اہل فلسطین، اور میانمار کے مسلمان ہجرت پر مجبور ہورہے ہیں، دیگر وطنوں میں بھی یہی روش جاری ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے مسلمانوں کو اپنے وطن واپس بلایاجارہاہے۔ ایک نامعلوم شاعر کاشعروطن سے متعلق ہے    ؎
ہے محبت اس وطن سے اپنی مٹی سے ہمیں 
اس لیے اپنا کریں گے جان و تن قربان ہم
تلوک چند محروم نے نظم ”چھبیس جنوری“ میں ہندوستان کی بابت کہاہے   ؎
قرباں ہوئے جو اس پر روحیں ہیں شاد ان کی
ہم جس سے بہرہ ور ہیں وہ ہے مراد ان کی
نظم”التجا“ میں عامر عثمانی نے غالباً قوم ووطن کے قدموں پر قربانی دینے کی بات کی ہے ۔ شعر کچھ یوں ہے   ؎
دنیا کو ضرورت ہے ان کی، جو تلواروں کو سپر کر لیں 
جو قوم و وطن کے قدموں پر قربانی دیں ایثار کریں 
 ندا فاضلی کو جنگ سے شکویٰ ہے اور وہ چرواہوں کی جاگیروں سے بھیڑوں کی قربانی کو بچانا چاہتے ہیں، ان کی غزل کا یہ شعر ہے   ؎
ہر جنگ کی ایک کہانی وہی بھیٹ وہی قربانی
گونگی بہری ساری بھیڑ یں، چرواہوں کی جاگیر یں ہیں 
نظم”وطن“ میں جوش ملیح آبادی ہر طرح کی قربانی کی بات کررہے ہیں۔ گویا وطن کے لئے انھوں نے ہرطرح کی قربانی کو جائزسمجھ لیاہے اور وطن کی کشتی کی نگہبانی میں محوہیں    ؎
دل سے مصروف ہیں ہر طرح کی قربانی میں 
محو ہیں جو تری کشتی کی نگہبانی میں 
زندگی کے لئے قربانی:۔ 
فگار اناوی کاکہناہے     ؎
ان پہ قربان ہر خوشی کر دی
زندگی نذر زندگی کر دی
شرف الدین الہام ؔ کاشعری تخیل کہہ رہاہے   ؎
اری بے کسی تیرے قربان جاؤں 
برے وقت میں ایک تو رہ گئی ہے
عذرا نقوی نے حال کو دفنانے اور کل کے لئے قربانی دینے کی بات کی ہے   ؎
آنے والے کل کی خاطر ہر ہر پل قربان کیا
حال کو دفنا دیتے ہیں ہم جینے کی تیاری میں 
مجید امجد کا یہ شعر بھی معنی کی کئی تہیں رکھتاہے۔ ملاحظہ کیجئے   ؎
اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباں 
مجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بے رخی کا
اپنی قسمت پر قربان ہونا بھی زندگی ہے۔ بہزاد لکھنوی کہتے ہیں    ؎
زہے نصیب میں قربان اپنی قسمت کے
ترے لیے مری دنیا تمام ہوتی ہے
نظم”خوشامد“ میں نظیر اکبرآبادی کہتے ہیں    ؎
جس نے یہ بات نکالی ہے میں اس کے قرباں 
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
ایک نظم میں زاہد امروز کاکہناہے    ؎
 میرا غصہ کہاں ہے؟
کیا ہے میرا وجود؟
 یومِ عیدِ قربان ہوتی بھیڑوں کا صبر
اسماعیل میرٹھی کی رباعی ہے اس کا پہلا حصہ ملاحظہ فرمائیں   ؎
 عیدِ قرباں ہے آج اے اہل ِہمہم
 ایسی عیدیں ہزار دیکھو پیہم
آمین کہنے کو جی کرتاہے کیوں کہ محمد یاسر مصطفوی کو بھی شکویٰ ہے   ؎
 ہم سے بچھڑے ہیں کئی لوگ ہمارے اپنے
 ہم نے ہر عید پہ قربان کیا ہے کچھ کچھ
جون ایلیاکو سننے اور پڑھنے والے جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی کس طور گزاری تھی۔ ان کاقربان ہونے کا یہ طور بھی دیکھیں۔ خود کو بچاکر رکھنے کاہنر بھی قربانی کہلاتاہے   ؎
نام پہ ہم قربان تھے اس کے لیکن پھر یہ طور ہوا
اس کو دیکھ کے رک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی
 جون ایلیا یہ بھی پوچھ رہے ہیں   ؎ 
وفا اخلاص قربانی محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
کربلامیں پیش  کی گئی قربانی:۔ کربلا ایک دکھ بھی ہے اور اسلام کیلئے جان دینے کاسبق بھی۔ اس کربلا میں حضرت امام حسین ؓ اور بہتر شہیدوں نے اپنی جان کی جو قربانی دی، اور جس کسمپرسی میں شہید ہوئے اس کوپڑھ کرہر انسانی آنکھ ہر دور میں روتی رہی ہے۔اسی کربلا کے حوالے سے برقی اعظمی کہتے ہیں    ؎
ہوا کربلا میں جو قربان برقیؔ
حسین ابن حیدر کا وہ خانداں تھا
میرؔبیدری کا کہناہے    ؎
کربلا میں ہے قربان سارا گھرانہ 
جوبہت سوچ کر تھا بنایا نشانہ 
بے راہ روی ناقابل برداشت:۔ نام لیو ا ہردور میں رہے ہیں، اور ان نام لیواؤں نے اچھے خاصے نام کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی اور اپنے عیش کی قربانی دینے کے بجائے اس نام پر بٹہ لگادیاہے۔ اسی جذبہ کے ساتھ جلیل حیدر لاشاری کہتے ہیں   ؎ 
کیسا عاشق ہے ترے نام پہ قرباں ہے مگر
تیری ہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے
 ولاس پنڈت مسافر کس راہ میں قربانی دے کر جیتے ہیں، سخن فہم ہی جانیں   ؎
روح کو اس کی راہ کا پتھر بننا ہی منظور نہ تھا
بازی ہم نے ہی جیتی ہے اپنی اس قربانی میں 
 قربان آتش کا یہ شعر بھی پڑھ لیں کیوں کہ شخص ِ سیاسی کہنے والا شاعر دردِ دل کو سمجھتاہوگا   ؎
 عہدِ نو کے صفحہء قرطاس پر قربان اب
 اگ گئی ہر سمت اک شخصِ سیاسی کی لکیر
عاشقوں کی عید قرباں:۔اہل تصوف کے لئے یہ عید اہم ہوتی ہے۔ اور شاید یہی مقصود ہے کہ وہ خوشی خوشی اپنے محبوب پر قربان ہوجائیں، امیرمینائی کہتے ہیں     ؎
ہو کے خوش کٹواتے ہیں اپنے گلے
عاشقوں کی عید قرباں اور ہے
حفیظ ہوشیارپوری کاکہناہے    ؎
عہد وفا ہے اور بھی محکم تیری جدائی کے میں قرباں 
تیری جدائی کے میں قرباں عہد وفا ہے اور بھی محکم
 میر کلو عرش واعظ کی بے راہ روی یا اس کے نفاق سے ناراض لگتے ہیں، اسی لئے صاف کہہ رہے ہیں کہ   ؎
 بدلے دنبے کے کریں رند اسی کو قربان
 عیدِ قرباں میں جو سن پائیں بیانِ واعظ
عبد الحمید عدم ؔ بھی کسی پر مرمٹے ہیں اور اسی سرپھری الفت میں کی گئی نامقبول قربانی کاذکر کررہے ہیں   ؎
ایک نامقبول قربانی ہوں میں 
سر پھری الفت میں لاثانی ہوں میں 
قربانی کے اور بھی پہلو ہیں۔ جو پھر کبھی پیش کئے جاسکتے ہیں۔
جتنا کچھ یہاں پیش کیاگیاہے اس کو اردو زبان کاشعری سرمایہ تصور کیجئے گا۔ عیدالاضحی کی پرخلوص مبارک باد کے ساتھ آئندہ ملاقات کیلئے رخصتی عمل میں آتی ہے۔ یادرکھئیے گاکہ فرماں بردار اور اطاعت شعار زندگی قربانی چاہتی ہے اور ہمیں اس کے لئے تیار رہنا ہوگا۔  
٭٭٭

Comments