سِدّرامَیاہ–ڈی. کے کی کرسی کی جنگ میں کیا ملکارجن کھرگے بازی مار جایں گے؟ - ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔
سِدّرامَیاہ–ڈی. کے کی کرسی کی جنگ میں کیا ملکارجن کھرگے بازی مار جائینگے؟
از : جمیل احمد ملنسار۔
کرناٹک کی سیاست میں سِدّرامَیاہ اور ڈی. کے شِواکُمار کے درمیان جو “کرسی کا جھگڑا” چل رہا ہے، وہ صرف اقتدار کی لڑائی نہیں، بلکہ ایک سیاسی ڈراما ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ شاید کسی تیسرے شخص کو پہنچ رہا ہے – کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کو۔ دونوں رہنما آپس میں گھسیٹ رہے ہیں، اور اُدھر بیٹھا مرکزی لیڈر ملکارجن کھرگے، اعلیٰ کمانڈ کی حیثیت سے اس جھگڑے کو سنبھالنے کا موقع پا رہا ہے۔
سِدّرامَیاہ اور ڈی. کے دونوں کے لیے یہ سوال محض عہدے کا نہیں، بلکہ عزت، اثرور سیاسی جغرافیہ اور جماعتی وقار کا بھی ہے۔ ایک طرف سِدّرامَیاہ کے پاس پرانا وزیراعظم کا تجربہ اور ایک مضبوط سیاسی نیٹ ورک ہے، تو دوسری طرف ڈی. کے کے پاس پارٹی کے فنانس، انتظامیہ اور ایک چست، فعال مشین چلانے کی صلاحیت ہے۔ دونوں اقتدار کی کرسی کے لیے لڑ رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ریاستی سطح پر کانگریس کی ایک تصویر متاثر ہو رہی ہے۔
ان کے جھگڑے میں الزام، جوابی الزام، میڈیا بیانات اور دہلی کی طرف کئی بار کی سفر کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر اعلان اور ہر اقدام ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش میں لپٹا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام کے سامنے کانگریس کی “ایکتا” کا وہ چہرہ دھندلا رہا ہے جو پہلے سے ہی کمزور ہے، اور یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر کانگریس کا اصل فیصلہ کون کر رہا ہے؟
یہیں پر ملکارجن کھرگے سامنے آتے ہیں۔ وہ اعلیٰ کمانڈ کے طور پر ایک ایسے شخص کی طرح کھڑے ہیں جو دونوں جھگڑالو لیڈروں کے درمیان بیٹھ کر فیصلہ کر رہا ہو۔ ان کے پاس سیاسی تجربہ ہے، سینیاریٹی ہے، اور ایک بزرگ کی طرح حیثیت بھی۔ جب ریاستی سطح پر دونوں طرف کے لوگ آپس میں ٹکرائیں، تو مرکزی قیادت کو “ایک وقت، ایک فیصلہ” کرنے والا رہبر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ملکارجن کھرگے اپنے آپ کو ایک “حکمتِ عملی کا رہنما” بنا کر عوام اور پارٹی دونوں کے سامنے مضبوط کر سکتے ہیں۔
ایک اور بات یہ بھی ہے کہ ملکارجن کھرگے ایک دلت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان کے سیاسی سفر کی لمبی تاریخ کو ایک “سیاسی گہرائی” کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کئی دلت رہنما، ایکٹیویسٹ اور کانگریس کے حلقوں میں بعض لوگ کرناٹک کی سیاست میں اگلے سی ایم کے طور پر ان کا نام آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس طرح سِدّرامَیاہ–ڈی. کے کی لڑائی کے ساتھ ساتھ ملکارجن کھرگے کا نام بھی ایک نئی سیاسی امید کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ریاستی سطح پر جب نوجوان یا ہیج سیاستدان آپس میں گھسیٹیں، تو اعلیٰ کمانڈ کے بزرگ رہنماؤں کو “فائدہ” ہونا طبیعی بات ہے۔ ملکارجن کھرگے اپنے فیصلے سے یہ دکھا سکتے ہیں کہ اصلی اقتدار ریاستی سطح پر نہیں، بلکہ مرکز میں ہے۔ وہ دباؤ، مذاکرات، اور ایک ہلکی سی تدبیر کے ذریعے یہ احساس دلوا سکتے ہیں کہ “ہم ایک، تم دونوں” والا سیاق ہی کانگریس کے لیے بہتر ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف فیصلہ ساز بنیں گے، بلکہ ایک ایسا چہرہ بنیں گے جس کے سامنے ریاستی نام بھی جھکیں۔
لیکن یہ “فائدہ” ہمیشہ کا نہیں۔ اگر ملکارجن کھرگے کے فیصلے ایک طرفہ، یا سیاسی مصلحت کے زیادہ قریب، اور جماعتی اتحاد کے کم قریب نظر آئیں، تو ناراضی بھی سامنے آئے گی۔ ریاستی سطح پر کارکن، تحصیل اور ضلع کے صدور، سیاسی کارکن، جو سِدّرامَیاہ بھی ہیں اور ڈی. کے بھی، ایک دوسرے کے خلاف لڑنا شروع کر سکتے ہیں۔ اگر اس ناراضی کا رخ “مرکزی قیادت” کی طرف مڑ جائے، تو ملکارجن کھرگے کا یہ “فائدہ” بھی ٹوٹ سکتا ہے۔
دوسری جانب اگر دونوں جنگجو لیڈر باہر سے تو اعلیٰ کمانڈ کے فیصلوں کو منائیں، لیکن اندرونی طور پر اپنے نقطہ نظر اور خواہشات کو ختم نہ کریں، تو جنگ صرف سطحی طور پر ختم ہوگی، اصل اختلاف باقی رہے گا۔ اس صورت میں ملکارجن کھرگے پھر بھی “فیصلہ ساز” کہلائیں گے، لیکن “اصل مسئلہ حل کرنے والے” نہیں۔
اس لیے ملکارجن کھرگے کے لیے حقیقی فائدہ یہ ہے کہ وہ اس جھگڑے کو سیاسی سبق کے طور پر استعمال کریں۔ وہ یہ تدبیر بنائیں کہ ریاستی سطح پر کسی ایک چہرے کو “سی ایم کا واحد ہیرو” نہ بنایا جائے، بلکہ ایک ٹیم اور ایک مشترکہ چہرہ بنایا جائے۔ اگر کانگریس کے اندر ایک مستقل لیڈرشپ کی “ریسورس” تیار ہو – جہاں نوجوان، تجربہ کار اور مختلف سطحی کارکن سب کو اہمیت دی جائے – تو آنے والے وقت میں “سِدّرامَیاہ–ڈی. کے” کی طرح کے جھگڑے کم ہوں گے۔ اسی طرح اگر عوامی سطح پر کانگریس کو محض ایک سیاسی پارٹی نہیں، بلکہ “ایک واضح ایجنڈا” کی طرح پیش کیا جائے، جہاں اقتدار کی لڑائی نہیں، بلکہ عوامی مفادات اولیت ہوں، تو یہی جھگڑا بعد میں ملکارجن کھرگے کے لیے ایک مضبوطی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اگر سوال پوچھا جائے کہ “سِدّرامَیاہ–ڈی. کے شِواکُمار کی فائٹ: ملکارجن کھرگے کے لیے فائدے کا امتحان ہے یا نہیں؟” تو جواب یہ ہے کہ اس وقت کے لیے یہ فائدہ ہے، لیکن یہ فائدہ لمبے افق پر صرف اسی صورت قائم رہے گا، جب ملکارجن کھرگے اپنے فیصلوں کو ذاتی سیاسی مصلحت کے بجائے جماعتی اتحاد، نیک نیتی اور عوامی وفاداری کی بنیاد پر بنائیں۔ اس جنگ میں سب سے زیادہ سیاسی کیپٹل ملکارجن کھرگے کے پاس جمع ہو سکتا ہے، لیکن سب سے بڑا ردِ عمل بھی ان کے خلاف ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایک ہلکا، ہموار، اور سمجھدار طرزِ فیصلہ سازی ہی ان کے لیے اصل سیاسی جیت بن سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment