یومِ مزدور یا یومِ مجبور؟۔ ازقلم : آفتاب عالمؔ شاہ نوری،ںکروشی، بلگام، کرناٹک۔


یومِ مزدور یا یومِ مجبور؟
ازقلم : آفتاب عالمؔ شاہ نوری،ں
کروشی، بلگام، کرناٹک۔
8105493349

لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی
 مگر یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی

عالمِ انسانیت پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہیں، اور ان ہی نعمتوں میں مزدور بھی ایک عظیم نعمت ہیں۔ اگر مزدور نہ ہوتے تو یا تو امیروں کو اپنے کام خود انجام دینے پڑتے یا پھر ایسی مشینوں کا سہارا لینا پڑتا جو ان کے تمام کام انجام دے سکتیں۔ مزدور بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں: جسمانی مزدور اور ذہنی مزدور۔ جسمانی مزدور وہ ہے جو جسمانی مشقت کرتا ہے، جیسے کھیتی کرنے والا، معمار، فیکٹری یا مل میں کام کرنے والا، سڑکیں تعمیر کرنے والا وغیرہ۔ آسان لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ “روز کنواں کھود کر پانی پینے والا” جسمانی مزدور ہے۔

اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنا
بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں

دوسری قسم ذہنی مزدوروں کی ہے، جو اپنی ذہنی صلاحیتوں کے ذریعے روزی کماتے ہیں۔ کلرک، کمپیوٹر آپریٹر، غیر سرکاری اداروں کے اساتذہ اور اس جیسے دوسرے شعبوں سے وابستہ افراد اسی زمرے میں آتے ہیں۔ آسان لفظوں میں ذہنی مزدور وہ ہے جو اپنے وقت سے زیادہ کام کرے، مگر مہینے میں صرف ایک بار، بلکہ بعض جگہ کئی کئی مہینوں کے انتظار کے بعد مٹھی بھر تنخواہ حاصل کرے۔

ذہنی مزدور
شام کے ڈھل جاتے ہی اکثر
یوں لگتا ہے دل کو میرے
شہر کے اک اک سیٹھ کی دن بھر
میں نے ہی مزدوری کی ہے
ذہن پہ غم کا بوجھ ہے ڈھویا
دفتر میں سر اپنا کھپایا
پھر سے اک دن اور گنوایا
دیکھو خود کو کتنا ستایا
بھیڑ بھرے رستوں سے ہر دم
خود کو گھر لے آتا ہوں میں
کندھوں سے سامان گرا کر
خود کو ہلکا پاتا ہوں میں
دیکھ کے تن کی تھکن کو میرے
بستر نے چپکے سے بلایا
جسم تو گہری نیند میں سویا
ذہن نے لیکن چین نہ پایا
صبح سویرے خود کو جگا کر
جسم مجھے دفتر ہے لایا
آفتاب عالمؔ شاہ نوری

بلاتے ہیں ہمیں محنت کشوں کے ہاتھ کے چھالے
چلو محتاج کے ہاتھ میں نوالا رکھ دیا جائے
 نامعلوم

میرے خیال میں آج کے دور میں جس قدر زیادتیاں مزدور طبقے کے ساتھ ہو رہی ہیں، شاید ہی کسی اور طبقے کے ساتھ ہوتی ہوں۔ بہت سے مالکان مزدوروں کو گویا بوتل سے نکلا ہوا جن سمجھتے ہیں؛ ایک کام ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا تیار رکھتے ہیں۔ ان کا اصول یہی ہوتا ہے کہ “آؤ جلدی اور جاؤ دیر سے”۔ اگر کسی دن مزدور کو ذرا تاخیر ہو جائے تو تنخواہ تک کاٹ لی جاتی ہے۔ حالانکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت بھی اپنے ماتحتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی۔
بعض لوگ دل کے اتنے سخت ہوتے ہیں کہ مہینوں تک تنخواہ دینے میں تاخیر کرتے رہتے ہیں۔ بے چارے مزدور مانگ مانگ کر تھک جاتے ہیں، مگر ان مالکان کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے:
وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
“أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه.”
(رواہ ابن ماجہ)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو۔”جب مزدور تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرے تو بعض لوگ عجیب جواب دیتے ہیں کہ “آپ میں قوم و ملت کی خدمت کا جذبہ نہیں، آپ ہر کام پیسوں کے لیے کرتے ہیں۔” حالانکہ آج کی اس مہنگائی میں معمولی تنخواہ پر گزارا کرنا انتہائی دشوار ہے۔ اس صورتحال پر جوشؔ ملیح آبادی کے یہ اشعار یاد آتے ہیں

صرف ایک پتلون سلوانا قیامت ہوگیا
وہ سلائی لی میاں درزی نے ننگا کر دیا
آپ کو معلوم بھی ہے چل رہی ہے کیا ہوا؟
صرف ایک ٹائی کی قیمت گھونٹ دیتی ہے گلا
حیف، ملک و قوم کی خدمت گذاری کے لئے
رہ گئے ہیں ایک ہمیں ایمان داری کے لئے

افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ خود کو دیندار اور سماجی کارکن بھی کہتے ہیں، مگر جب مزدور اپنی محنت کی اجرت مانگے تو صاف انکار کر دیتے ہیں۔ خاص طور پر بعض نجی اسکولوں کے ذمہ دار حضرات چند ہزار روپے تنخواہ دے کر یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ادارے سے سائنس دان تیار ہوں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص معمولی قیمت میں ہیرا خریدنا چاہے۔ کم تنخواہ دے کر اعلیٰ معیار کی خدمات کی توقع رکھنا ناانصافی ہے۔ کم تنخواہ اور اس میں بھی کئی کئی مہینوں کی تاخیر کوئی نئی بات نہیں؛ یہ مسئلہ غالبؔ کے زمانے میں بھی موجود تھا۔ اسی لیے غالبؔ نے بادشاہ کے نام اپنی تنخواہ کے متعلق یوں لکھا تھا:
مجھ کو دیکھو تو ہوں بقید حیات
اور چھ ماہی ہو سال میں دوبار
بس کہ لیتا ہوں ہر مہینے قرض
اور رہتی ہے سود کی تکرار
میری تنخواہ میں تہائی کا
ہو گیا ہے شریک ساہوکار
آج مجھ سا نہیں زمانے میں
شاعر نغز گوے خوش گفتار
رزم کی داستان گر سنیے
ہے زباں میری تیغ جوہر دار
بزم کا التزام گر کیجیے
ہے قلم میری ابر گوہر بار
ظلم ہے گر نہ دو سخن کی داد
قہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار
آپ کا بندہ اور پھروں ننگا
آپ کا نوکر اور کھاؤں ادھار
میری تنخواہ کیجیے ماہ بماہ
تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار
ختم کرتا ہوں اب دعا پہ کلام
شاعری سے نہیں مجھے سروکار
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

آخر میں قرآنِ مجید کی دو آیات پیش ہیں، جو ان لوگوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں جو قوم و ملت کے نام پر مزدور سے کام تو لیتے ہیں، مگر اجرت ادا کرنے میں کمی کرتے ہیں یا سرے سے تنخواہ ہی نہیں دیتے:
فَانْطَلَقَا حَتّٰى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُّضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُّرِيدُ أَنْ يَّنْقَضَّ فَأَقَامَهُ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا
(سورۃ الکہف: 77)
ترجمہ: “پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو ان سے کھانا طلب کیا، مگر انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا۔ پھر وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی، تو انہوں نے اسے سیدھا کر دیا۔ موسیٰؑ نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کوئی اجرت لے لیتے۔”
قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَىٰ أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا
(سورۃ الکہف: 94)
ترجمہ: “انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! بے شک یاجوج ماجوج زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ معاوضہ مقرر کر دیں، اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں؟”اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مزدوروں کا حق مارنے سے محفوظ فرمائے اور ہر محنت کش کو اس کی محنت کا پورا صلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments