روحانیت ہی اسلام کی بنیاد ہے۔۔ از قلم شیخ محمود علی۔


روحانیت ہی اسلام کی بنیاد ہے۔
از قلم شیخ محمود علی۔
8055402819

مضمون کی شروعات میں ہم روحانیت کی تعریف اسطراح کریں گے

Spirituality is the development of the inner self that leads a person toward peace, morality, self-awareness, and a deeper connection with the 
Divine or ultimate reality.

ترجمہ
“روحانیت انسان کی باطنی شخصیت کی ایسی نشوونما ہے جو اُسے سکون، اخلاقی بلندی، خود شناسی، اور خدا یا حقیقتِ مطلق سے گہرے تعلق کی طرف لے جاتی ہے۔”
حضرت عبدالقادر جیلانی کے نزدیک روحانیت (تصوف) کسی ایک سادہ رسمی تعریف میں محدود نہیں، بلکہ یہ دل کی اصلاح اور اللہ سے مکمل وابستگی کا نام ہے
مولانا مودودی کے مطابق روحانیت کی تعریف
مولانا مودودی کے خیال میں روحانیت یہ ہے کہ
“انسان کی پوری زندگی اللہ کی اطاعت کے تابع ہو جائے، اس کا دل اللہ کے خوف محبت اور یاد سے زندہ ہو اور اس کے اعمال اخلاص کے ساتھ ہوں۔”
آج کا انسان ترقی، سہولت اور مادّی آسائشوں کے باوجود اندر سے بے چین دکھائی دیتا ہے۔ دولت بڑھ رہی ہے مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ علم میں اضافہ ہو رہا ہے مگر دل و دماغ اضطراب کا شکار ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان نے روحانیت کو زندگی سے الگ کر دیا ہے، حالانکہ اسلام کی اصل بنیاد ہی روحانیت ہے۔ اسلام صرف ظاہری عبادات، رسوم یا قوانین کا نام نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، اللہ سے تعلق اور اخلاقی بلندی کا نام بھی ہے۔
قرآنِ مجید بار بار انسان کے باطن کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسی عبادات کا مقصد صرف ظاہری عمل نہیں بلکہ انسان کے اندر تقویٰ، صبر، اخلاص اور خدا خوفی پیدا کرنا ہے۔ اگر عبادت دل میں عاجزی، رحم اور محبت پیدا نہ کرے تو وہ اپنی اصل روح سے خالی رہ جاتی ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے، نہ کہ دولت، نسل یا ظاہری حیثیت۔
رسولِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی روحانیت کا عملی نمونہ تھی۔ آپ ﷺ نے انسان کو صرف عبادت گزار نہیں بلکہ باکردار، رحم دل، انصاف پسند اور نرم خو انسان بنانا سکھایا۔ آپ ﷺ راتوں کو عبادت میں کھڑے ہوتے اور دن میں لوگوں کے دکھ درد بانٹتے۔ یہی حقیقی روحانیت ہے کہ انسان کا تعلق اپنے رب سے بھی مضبوط ہو اور مخلوقِ خدا سے بھی محبت و خیر خواہی کا رشتہ قائم رہے۔
بدقسمتی سے آج روحانیت کو یا تو محض چند مخصوص رسومات تک محدود کر دیا گیا ہے یا پھر اسے دنیا سے فرار کا نام سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ اسلام کی روحانیت انسان کو دنیا کے فرائض سے دور نہیں کرتی بلکہ اسے بہتر انسان، بہتر شہری اور بہتر معاشرتی کردار عطا کرتی ہے۔ ایک روحانی انسان جھوٹ، حسد، تکبر اور نفرت سے دور رہتا ہے۔ وہ رزقِ حلال کو عبادت سمجھتا ہے، والدین کی خدمت کو سعادت جانتا ہے اور بندوں سے محبت کو اللہ کی رضا کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
صوفیائے کرام نے بھی ہمیشہ یہی پیغام دیا کہ دل کی اصلاح کے بغیر دین ادھورا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی نے محبت اور انسان دوستی کو روحانیت کی بنیاد قرار دیا، جبکہ بایزید بسطامی اور حضرت عبدالقادر جیلانی نے نفس کی پاکیزگی اور عاجزی پر زور دیا۔ ان بزرگوں کے بایزید بسطامی کی کتاب تذکرۃ الاولیا لیکھتے ہیں کےسب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو مغلوب کر لے ان کے نزدیک روحانیت کا مطلب یہ تھا کہ انسان اپنے اندر روشنی پیدا کرے اور دوسروں کے لیے آسانی اور محبت کا سبب بنے۔
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اسی باطنی بیداری کی ہے۔ اگر دلوں میں خوفِ خدا، محبتِ رسول ﷺ اور انسانیت کے لیے خیر خواہی پیدا ہو جائے تو معاشرے سے ظلم، بدعنوانی، نفرت اور بے سکونی کم ہو سکتی ہے۔ اسلام کی طاقت صرف ظاہری نعروں میں نہیں بلکہ اس روحانی قوت میں ہے جو انسان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ روحانیت کے بغیر اسلام ایک جسمِ بے روح کی مانند رہ جاتا ہے۔ جب دل اللہ کی یاد سے زندہ ہو جائیں تو فرد بھی سنور جاتا ہے اور معاشرہ بھی۔ یہی اسلام کا اصل پیغام اور اس کی حقیقی بنیاد ہے۔
اصل روحانی ترقی تزکیۂ نفس اور تقویٰ ہے
عبادات کا مقصد انسان کے اندر اخلاص، نظم اور خدا خوفی پیدا کرنا ہے
اسلام محض روحانی ریاضت کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جس میں روحانیت اس کی جان ہے
مولانا مودودی کے نزدیک روحانیت اللہ کی مکمل اطاعت، اخلاصِ نیت اور زندگی کے ہر شعبے میں دین کا نفاذ ہے، نہ کہ صرف خانقاہی یا گوشہ نشینی والی کیفیت۔

Comments