حاملین نبوت کے اوصاف - محمد ناظم ملی، جامعہ اکل کو اں۔
حاملین نبوت کے اوصاف -
محمد ناظم ملی، جامعہ اکل کو اں۔
ابراہیم علیہ السلام ایسے داعی حق تھے جن کو راہ حق اور صراط مستقیم سے نہ دنیاوی طمع اور نہ کسی طرح کا کوئی لالچ ان پر اثر انداز ہو سکا ناہی کسی ظالم کے خوف و خشیت اور ڈرنے ان کے پائےثبات میں کوئی تزلزل اور کوئی جنبش پیدا نہ کی جب انہوں نے قوم کو دعوت حق اور توحید کا سبق پڑھایا تو قوم کا جواب اگر چہ مایوس کن اور ہمت شکن تھا اوروہ ڈرانے دھمکانے کی بات کرنے لگے تھے بادشاہ وقت نے اور خود باپ نے جلا وطنی اور ہلاکت کی بات کی مگر دنیا نے ہر زمانے میں اہل حق کا رویہ ان کی للکار سنی ہے یہی حال حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تھا ظاہر بات ہے کہ جب تک رب کائنات کی طرف سے ایک خاص عنایت نہ ہو تب تک یہ کام دشوار ہی سمجھا جا سکتا پھرنبوت تو ایک خاص انعام ہے جو صرف اور صرف اللہ کے انہی بندوں کو دیا جاتا ہے جن کو اللہ پہلے ہی سے اس کار نبوت ور رسالت کے لیے منتخب کر لیتا ہے۔۔ الله اعلم حيث يجعل رسالته..
اور نبوت کی اس اہم ذمہ داری کے لیے خداوند کریم وہ قلب سلیم عنایت کرتا ہے جو دنیا کی تمام الائشوں گندگیوں اور نامناسب عادتوں اور چیزوں سے پاک اور صاف ستھرا ہوتا ہے چنانچہ قران مجید نے اس طرف بھی اشارہ فرمایا ہے
وان من شيعته لابراهيم اذ جاء ربه بقلب سليم۔۔۔"اور اس (نوح) کے ہی طریقے پر چلنے والا ابراہیم تھا جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر ایا۔۔"
نوح علیہ السلام کے بعد اگرچہ کے بے شمار انبیاء علیہم السلام تشریف لائے لیکن ایک عظیم الشان عالمگیر دعوت لے کر اٹھنے والی شخصیت سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہی کی تھی اس لیے رب کا انداز بیاں یہ ہے کہ نوح کے بعد ان کا ذکر خاص طور پر کیا گیا جس وقت اپ کو نبوت پر سرفراز فرمایا گیا اس وقت اپ قوم کے ایسے صالح نوجوان تھے جس کا دل ہر قسم کی گندگیوں اور الائشوں سے پاک صاف ستھرا تھا اپ تمام پاکیزہ صفات کے حامل تھے اور فہم و فراست تو اس زمانے میں اپ کا کوئی ثانی نہ تھا اور ہو ہی نہیں سکتا تھا اپ علیہ السلام کی اس خوبی کی گواہی خود ذات خداوندی نے دی
ولقد اتينا ابراهيم رشده من قبل وكنا به عالمين.
(اور اس سے بھی قبل ہم نے ابراہیم کو اس کی ہوش مندی بخشی تھی اور ہم اس کو خوب جانتے ہیں)
یعنی ابراہیم کو یہ نبوت یوں ہی الل ٹپ نہیں دی گئی تھی بلکہ ان کے پاکیزہ قلب ان کی اہلیت قابلیت استعداد صلاحیت اور انکی ability سے ہم بخوبی واقف تھے اور اس کی استعداد بھی تو ہم نے دی تھی اور نبوت کی اس عظیم ذمہ داری کو تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسکو دیجائے اسی سےیہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ ہماری اس صدی کے بدبخت نالائق نا ہنجار بے وقوف جھوٹی نبوت کے دعوے دار چاہے وہ مرزا قادیانی ہو یا اور کوئی بدبخت۔ ان کو ان کو کیسے نبی تصور کیا جا سکتا ہے جبکہ ان کے اندر وہ صلاحیت ہی نہیں ہے حضور علیہ السلام نے واضح لفظوں میں فرمایا تھا .. لا نبی بعدي.
اور فرمایا تھا کہ اگر میرے بعد کسی کو نبی بنایا جاتا تو وہ صفت صرف اور صرف سیدنا عمر میں ہوتی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے دنیا میں معمولی حکمراں جب کسی کواپنا نمائندہ اور سفیر بنا کر بھیجتا ہے تو اس فرد کے متعلق تمام طرح کی چھان بین اور ہر طرح سے اس کی قابلیت اور اعتماد کو بد نظر رکھتے ہوئے پروانہ تقرری دیتا ہے تو کیا خیال ہے رب ذوالجلال کسی ایسے ویسے نہ خلف کو نبی بنا دے گا حاشا وکلا
چنانچہ اللہ تعالی نے جس منصب جلیلہ کے لیے سیدنا ابراہیم کا انتخاب کیا تھا انکے ائندہ واقعات زندگی نے ثابت کر دیا کہ وہی اس کے لیے موزوں ترین شخصیت تھے
جاری
Comments
Post a Comment