تھکن کے اس پار - از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
تھکن کے اس پار -
از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
سردیوں کی دھند ابھی پوری طرح چھٹی نہ تھی۔ گاؤں کے کچے راستوں پر نمی بسی ہوئی تھی اور دور مسجد سے فجر کی اذان کی آواز پھیل رہی تھی۔ عاطف اپنے چھوٹے سے صحن میں بیٹھا پرانی سائیکل صاف کر رہا تھا۔ اس کی ماں اندر چولہے پر چائے رکھے بیٹھی تھی۔
عاطف شہر کے کالج میں پڑھتا تھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ شام کو ایک دکان پر کام بھی کرتا تاکہ گھر کا خرچ چلانے میں باپ کا ہاتھ بٹا سکے۔ اس کے والد، سلیم، ایک مزدور آدمی تھے۔ دن بھر اینٹیں اٹھاتے اور شام کو تھکے قدموں سے گھر لوٹتے۔
ایک دن کالج میں اعلان ہوا کہ بہترین طالب علموں کے لیے شہر کی بڑی یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی جائے گی۔ عاطف کی آنکھوں میں امید جگمگا اٹھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو شاید وہ آگے نہ پڑھ سکے۔
مگر اسی ہفتے سلیم صاحب کام کرتے ہوئے اونچی دیوار سے گر پڑے۔ ان کی ٹانگ بری طرح زخمی ہوگئی۔ ڈاکٹر نے آرام کا مشورہ دیا۔ گھر کی آمدنی اچانک رک گئی۔
رات کو سب خاموش بیٹھے تھے۔ ماں کی آنکھوں میں فکر تھی اور چھوٹی بہن کتاب ہاتھ میں لیے خاموشی سے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔
“بیٹا،” سلیم صاحب دھیمی آواز میں بولے، “ابھی تم کچھ دن پڑھائی چھوڑ دو۔ گھر پہلے ہے۔”
عاطف کے دل پر جیسے کسی نے بوجھ رکھ دیا۔ اس نے برسوں محنت کی تھی۔ خواب آنکھوں کے سامنے تھے، مگر گھر کی حالت اس سے بھی زیادہ تلخ تھی۔
اگلے دن وہ دکان پر گیا اور مالک سے زیادہ وقت کام مانگ لیا۔ اب وہ صبح کالج جاتا اور رات گئے تک دکان پر کھڑا رہتا۔ نیند کم ہوتی گئی، مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔
امتحانات قریب آئے تو اس کے دوست کہنے لگے، “اتنی تھکن کے ساتھ تم کیسے کامیاب ہوگے؟”
عاطف صرف مسکرا دیتا۔
ایک رات وہ دکان بند کرکے واپس آ رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک بوڑھے شخص کو گرتے دیکھا۔ لوگ قریب سے گزر رہے تھے مگر کوئی نہ رکا۔ عاطف فوراً دوڑا، انہیں سہارا دیا اور اسپتال پہنچایا۔ بوڑھے شخص نے جاتے ہوئے صرف اتنا کہا، “بیٹا، تمہاری محنت کبھی ضائع نہیں ہوگی۔”
چند ہفتوں بعد اسکالرشپ کے نتائج آئے۔ پورے ضلع میں عاطف کا پہلا نمبر تھا۔
وہ خوشی سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ صحن میں وہی بوڑھے شخص بیٹھے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ شہر کی اسی یونیورسٹی کے ٹرسٹی تھے۔ انہوں نے عاطف کی ایمانداری اور انسانیت دیکھ کر نہ صرف اس کی پوری تعلیم کا خرچ اٹھانے کا فیصلہ کیا بلکہ اس کے والد کے علاج میں بھی مدد دی۔
سلیم صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر کہا،
“اصل قربانی وہ ہوتی ہے جو انسان اپنے خواب توڑے بغیر دوسروں کے لیے دے۔”
عارف خاموش کھڑا تھا، مگر آج اس کی خاموشی میں شکست نہیں، کامیابی کی روشنی تھی۔
Comments
Post a Comment