یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے۔ - بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکل کواں۔
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے۔ -
بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکل کواں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا یہ انوکھا پہلو بھی ملاحظہ فرمائیں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ تم ایسے معبودوں کو کیوں پوجتے ہو جو نہ بولتے ہیں نہ سنتے ہیں مگر پھر بھی تم انہی کو پوجے جا رہے ہو تم اللہ کو چھوڑ کر جن کو پوج رہے ہو وہ محض پتھر کے صنم ہیں اور اور کائنات میں سب سے بڑی برائی یعنی شرک میں نہ صرف ان کی قوم بلکہ وقت کا بادشاہ اور اس سے بھی ایک قدم اگے وہ اپنے خود کے گھر میں دیکھ رہے تھے کہ اصنام پرستی کس زوروں پر ہے باپ نہ صرف پجاری تھا بلکہ بت گر تھا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے والد قوم اور شاہ وقت کو سچائی اور اچھائی کی دعوت دی اس حقیقت پسندانہ گفتگو کے بعد تو ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ وہ سیدنا ابراہیم کی اس بات پر غور و فکر کر کے اپنے اپ کو شرک سے بچا سکتے تھے مگر وہ ڈھٹائی پر اتر ائے بلکہ حضرت ابراہیم کے درپے ہو گئے مگر ایک نبی جو دعوت کی تمام لطافتوں اور باریک بینیوں سے خوب خوب واقف ہوتا ہے اور رب ذوالجلال ان کو محض اسی مقصد کے تحت دنیا میں مبعوث فرماتا ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسی انداز میں داعی حق ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے بعد میں انے والے تمام ادوار کے لیے دعوت کا ایسا حسین اور ایسا موثر نہج پیش کیا جو قیامت تک کے لیے حق کے متوالوں کے لیے ایک روشن شاہ راہ بن کر رہنمائی کرتا رہے گا
یہ حقیقت ہے کہ صاحب دعوت کا پہلا اور فطری میدان اس کا اپنا گھر اپنا خاندان اپنا معاشرہ اور اپنا ملک ہوتا ہے جن لوگوں میں وہ پلا بڑا ہوتا ہے جن لوگوں سے اس کے روابط تعلقات ہوتے ہیں جن سے وہ مانوس ہوتا ہے جن میں وہ خود پہلے سے متعارف ہوتا ہے وہی اس کے زیادہ حقدار ہوتے ہیں کہ ان کو نعمتوں سے مالا مال کرے جن سے وہ خود مستفید ہو رہا ہے دوسروں کے مقابلے میں یہ لوگ اس کی بات سننے کے لیے زیادہ مستعد اور موزو ں ہو سکتے ہیں وہ ان کی زبان اور طور طریقے سے بھی اچھی طرح واقف ہوتا ہے اس لیے انہی کی زبان میں جسے وہ سمجھ سکے اپنی بات اچھی طرح بیان کر سکتا ہے وہ ان کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھتا ہے اس لیے انہی نفسیاتی طور پر بہتر طریقے پر سمجھا سکتا ہے یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف کلام ربانی اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ،. وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين لهم۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام چونکہ نبی تھے دعوت کے اسلوب کو بہت اچھی طرح جانتے تھے ترتیب دعوت سے بخوبی واقف تھے اس لیے اپنے والد اور گھر سے ہی دعوت و تبلیغ شروع کی اور اس بات کا پورا خیال رکھا اورقوم کی خواہشات اور غلط عقائد کے علی الرغم کمال جرات ایمانی کے ساتھ حق کو واضح کیا
دعوت کی راہ میں کبھی ایسا مقام بھی اتا ہے جب تمام مصلحتوں مخالفتوں اور مزاحمتوں کے باوجود حق کو اس کی ٹھیٹھ شکل میں پیش کرنا ہوتا ہے چاہے اس سے کوئی خوش ہو یا نہ خوش یہ ایک ایسا نازک مرحلہ تھا کہ اگر اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام احقاق حق میں ذرا بھی کسر چھوڑ دیتے یا مخاطبین کی ذہنیت کے پیش نظر ذرا سی بھی مداہنت اختیار کر لیتے تو قیامت تک کے لیے باطل سے مصالحت قائم کرنے کی کوئی نظیر ہو جاتی ممکن ہے کہ ایسے نازک موقع پر ایک عام ادمی اپنے مخاطبین کے دل جیتنے کے لیے اس رعایت کو ہی اصول بنا لیتا اور پھر احقاق حق ہے اور ابطال باطل کے لیے مداہنت اور مصلحت ہی سے کام لیا جاتا اور عزیمت کو پس انداز کر دیا جاتا یقینا دعوت کی اس عظیم ذمہ داری میں مصلحتوں کے قرائن و شواہد بھی موجود ہیں تاہم جس شخصیت کو اللہ تعالیٰ "للناس اماما"انسانی دنیا کا امام بنانا چاہتا تھا اور جو اسی کی براہ راست نگرانی میں کام کر رہا تھا وہ کیسے کوتاہی کر سکتا تھا چنانچہ سیدنا ابراہیم نے ڈنکے کی چوٹ پر صاف واضح انداز میں اپنا موقف بیان کیا اور یہ فرمایا" میرا تمہارے معبودوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں"یہی وہ وقت ہوتا ہے جب داعی کو اپنے ایمان کی حلاوت محسوس ہونے لگتی ہے اور پھر اللہ رب العالمین کی طرف سے وہ انعامات حاصل ہوتے ہیں جس کا رب کریم نے وعدہ فرمایا ہے یہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اس جرات ایمانی کا اللہ تعالی نے یہ صلہ دیا کہ اج بھی چار ہزار سال گزرنے کے باوجود دعوت ابراہیمی اپنی پوری اب و تاب کے ساتھ باقی ہے پائندہ وہ تابندہ ہے اور ائندہ بھی رہے گی
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ
Comments
Post a Comment