روزگار اور تعلیم - از قلم : محمود علی لیکچرر۔
روزگار اور تعلیم -
از قلم : محمود علی لیکچرر۔
ہیں۔ تعلیم انسان کو سوچنے سمجھنے اور ہنر سیکھنے کے قابل بناتی ہے، جبکہ روزگار اس صلاحیت کو عملی جامہ پہنا کر معاشرے میں وقار اور کامیابی عطا کرتا ہے۔
تعلیم آپ کو راستے دکھاتی ہے لیکن روزگار ان راستوں پر چلنے کی ہمت اور وسائل فراہم کرتا ہے
یہاں تعلیم اور روزگار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے چند بہترین اقوال اور اقتباسات پیش ہیں:
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، مگر جب تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود ہو جائے اور روزگار کے دروازے بند ہونے لگیں تو معاشرہ بے چینی مایوسی اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب روزگار سے محروم ہیں۔ یونیورسٹیوں سے ہر سال ہزاروں گریجویٹس نکلتے ہیں مگر عملی میدان میں ان کی صلاحیتوں کے مطابق مواقع کم دکھائی دیتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب کم تعلیم یافتہ افراد کو بھی آسانی سے ملازمت مل جاتی تھی، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ صرف ڈگری کافی نہیں رہی بلکہ مہارت، تجربہ، زبان، ٹیکنالوجی سے واقفیت اور عملی تربیت بھی ضروری ہو گئی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں اب بھی زیادہ تر زور رٹے، امتحانات اور نمبرات پر دیا جاتا ہے جبکہ عملی زندگی کی ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی خود کو غیر یقینی مستقبل کے اندھیروں میں کھڑا پاتے ہیں۔
روزگار کی کمی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی بحران بھی پیدا کرتی ہے۔ بے روزگاری نوجوانوں میں احساسِ محرومی، ذہنی دباؤ اور بعض اوقات جرائم کے رجحانات کو بھی جنم دیتی ہے۔ جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان برسوں ملازمت کی تلاش میں دربدر پھرتا ہے تو اس کے خواب، اس کا اعتماد اور اس کی شخصیت متاثر ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ بیرونِ ملک ہجرت کو اپنی نجات سمجھنے لگتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو بازارِ کار کی ضروریات سے جوڑا جائے۔ اسکولوں اور کالجوں میں فنی تعلیم، ڈیجیٹل مہارتیں، کاروباری تربیت اور جدید علوم کو فروغ دیا جائے۔ نوجوانوں کو صرف نوکری ڈھونڈنے والا نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم ہو تاکہ تعلیم یافتہ افراد کے لیے عملی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
اسلام بھی محنتِ حلال اور علم دونوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے لیے اس کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر رزق کوئی نہیں۔ اس لیے تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو انسان کو باعزت روزگار اور معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکے۔
اگر ہم نے تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود فاصلے کو کم نہ کیا تو ہماری نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہوتی رہے گی۔ لیکن اگر بروقت اصلاحات کی جائیں، جدید تقاضوں کے مطابق نظامِ تعلیم ترتیب دیا جائے اور نوجوانوں کو مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تو یہی نوجوان قوم کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment