پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب" چائے" ہے _ "درویش حمید الدین شاہد"
دودھ سے صرف ہڈیاں اور چائے سے رشتےو تعلق اور دوستی مضبوط ہوتی ہے - عالمی یوم چائے کے موقع پر پروفیسر محمد مسعود احمد،محمد حسام ریاض کا خطاب -محفل مشاعرہ کا بھی انعقاد
حیدرآباد 22 مئی( پریس نوٹ) صدر انجمن تاجران چائے تلنگانہ و نائب صدر نشین فیڈریشن آف آل انڈیاٹی ٹریڈرس اسوسی ایشن جناب درویش حمید الدین شاہد نے کہا کہ پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب "چائے" ہے طبی نکتہ نظر سے بھی چائے کے کئی فوائد ہیں چائے کے استعمال سے تر و تازگی آتی ہے اور تھکن دور ہوتی ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار عالمی یوم چائے (21 مئی) کی مناسبت سےایوان احمد ملک پیٹ میں "چائے پہ راۓ" نشست کو مخاطب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ نے کیا تھا جناب درویش حمید الدین شاہد نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کی چائے کو عالمی مقبولیت حاصل ہے اور اس سلسلے میں ہماری تیار کردہ "لاسا لمسا " چائے کی پتی سارے ہندوستان کے ہر شہر' ہر گاؤں' ہر دیہات کے علاوہ دنیا کے کونے کونے میں منگوائی اور استعمال کی جاتی ہے پروفیسر محمد مسعود احمد کی خواہش پر انہوں نے لفظ" لاسا_ لمسا" کا مفہوم بتاتے ہوئے کہا کہ تبت کا پائے تخت جسے لاسا کہا جاتا ہے اور یہ مانا گیا ہے کہ لاسا میں چائے کی ایجاد ہوئی اس سے لاسا کا لفظ اخذ کیا گیا اور اسی طرح چائے کی خوشبو کو محسوس کرنے کے لیے لفظ "لمسا" کو لاسا کے ساتھ جوڑا گیا ہے لمس کے معنی محسوس کرنے کے ہیں خوشبودار چائے کے لیے" لمسا" کا نام تجویز کیا گیا اور عام چائےکو لاسا کا نام دیا گیا اس طرح سے ایک مرکب لفظ "لاسا -لمسا" ہوا ہے جناب درویش حمید الدین شاہدنے بتایا کہ ان کے دادا جناب درویش عبدالحمید اور دادا کے بھائی جناب درویش عبداللطیف نے 1933 عیسوی میں حیدرآباد دکن میں چائے کے کاروبار کاآغاز کیا تھا چائے حیدرآبادی تہذیب و تمدن کے اظہار کا ذریعہ ہے اور یہ ایسا مشروب ہے جس کے بغیر کوئی بھی محفل ادھوری سمجھی جاتی ہے ناظم مشاعرہ لطیف الدین لطیف کی تجویز پر جناب درویش حمید الدین شاہد نے فوری طور پر اعلان کیا کہ وہ پروفیسر مسعود احمد اور جناب لطیف الدین لطیف سے مشاورت کے بعد ہر سال "عالمی یوم چائے" کے موقع پر ایک مشاعرہ کا بھی اہتمام کریں گے پروفیسر محمد مسعود احمد نے چائے کے عالمی دن پر جناب درویش حمید الدین شاہدکے ایوان احمد ملک پیٹ پہنچنے پر خیر مقدم کیا اور کہا کہ ایوان احمد میں مختلف ادبی، تہذیبی اور شعری محفلیں منعقد کی جاتی ہیں اسی مناسبت سے چائے کے عالمی دن پر بھی اس نشست کا اہتمام کیا گیا ہے انہوں نے درویش حمید الدین شاہد کے والد محترم جناب درویش غیاث الدین کا بھی تذکرہ کیا کہ چائے کے کاروبار میں عالمی پیمانے پر انہوں نےایک اپنی منفرد اور معروف شناخت بنائی ہے دنیا بھر میں آج لاسا لمسا چائے کا لوگ بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں جناب عبدالواحد رکن عاملہ انجمن تاجران چائے تلنگانہ نے کہا کہ دنیا بھر میں چائے پینے والے لوگ لاسا لمسا کو اپنی اولین ترجیح مانتے ہیں ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض نے کہا کہ دودھ سے صرف ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور چائے سے رشتے ،تعلق، دوستی اور محبت مضبوط ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ چائے صرف چائے ہی نہیں بلکہ تنہائیوں میں خود سے گفتگو کرنے اور اپنےآپ کو وقت دینے کا بہانہ بھی ہوتا ہے اس کے علاوہ چائے ایک سلیقہ ہے اور مہمانوں کی ابتدائی وعلامتی تواضع کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں چاروں طرف شور و غل ہے، بے بسی ہے جنون ہے، لیکن ایک بس چائے ہی ہے جس میں مزہ ہے لطف اور سکون ہے اس موقع پر پروفیسر محمد مسعود نے مخدوم ایوارڈ یافتہ ممتاز و معروف پروقار شاعر جناب فاروق شکیل اور جناب درویش حمید الدین شاہد کی گل پوشی اور شال پوشی کی اور اپنے کتابوں کا تحفہ پیش کیا جناب درویش حمید الدین شاہدانے بھی اپنی جانب سے حاضرین محفل کو لاسا لمسا چائے کا تحفہ پیش کیا بعد ازاں ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ ہوا جس میں شعرا نے چائے کے علاوہ مختلف اشعار سے محفل کو خوب روشن کیا ناظم مشاعرہ جناب لطیف الدین لطیف نے نہایت ہی عمدگی کے ساتھ اور مزاحیہ اشعار سناتے ہوئے نظامت کی اور محفل کو زعفران زار کیا صدر مشاعرہ ڈاکٹر فاروق شکیل کے علاوہ جناب سمیع اللہ حسینی سمیع پروفیسر محمد مسعود احمد، جناب لطیف الدین لطیف ،جناب جہانگیر قیاس، جناب ثنا اللہ انصاری وصفی، جناب سہیل عظیم نے اپنا کلام سنایا جناب محمد حسام الدین ریاض نے شکریہ ادا کیا
Comments
Post a Comment