قربانی کے مقاصد - از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ)


قربانی کے مقاصد - 
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ) 

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایثار و رضا کی ایک بلند ترین یادگار ہے کہ انھوں نے اولاد کی طبعی محبت اور فطری تعلق کو بالائے طاق رکھ کر اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خداوند متعال کی خوشنودی کی خاطر اور نفس و شیطان کے تمام مکر و فریب سے اپنے دامن کو بچا کر ذبح کرنے کے لیے گلے پر چھری پھیر کر اطاعتِ خداوندی اور جذبۂ خلت کا وہ عظیم ترین نمونہ اہلِ دنیا کے سامنے پیش کیا جو تا قیامِ قیامت فراموش نہ کیا جائے گا چوں کہ قربانی بہت سارے مقاصد کا مجموعہ ہے، اسی لیے کئی اہم مقاصد کے تئیں اللہ رب العزت نے اپنے خاص بندوں(اہلِ استطاعت) کو اس حکم کی تعمیل کا مکلف بنایا، چناں چہ قرآن و حدیث پر نظر ڈالنے سے کئی اہم مقاصد آشکارا ہوتے ہیں، ان مقاصد میں سے *پہلا* مقصد، بندوں میں صفتِ تقوی پیدا کرنا ہے، *دوسرا* مقصد بندوں میں جذبۂ ایثار پیدا کرنا ہے، *تیسرا* مقصد شعائر اللہ کا اظہار، *چوتھا* مقصد نعمتِ خداوندی کی شکر گزاری کا جذبہ، *پانچواں* مقصد اطاعت و بندگی کے اظہار کا جذبہ، *چھٹا* مقصد عشقِ خالق میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کا جذبۂ، اس کے علاوہ اور بھی کئی مقاصد ہیں، کیوں کہ قربانی کی ابتداء عبدیت سے ہوتی ہے، پھر خواہشات، جذبات، احساسات اور اموال و اوقات کو وصول کرتی ہوئی فنائیت پر اس کی انتہاء ہوتی ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت میں ہر قسم کی قربانی اپنے حقیقی معنی اور مفہوم کے اعتبار سے پائی جاتی ہے، اسی لیے قربانی کی حقیقت دریافت کرنے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ارشاد فرمایا سنة ابيكم ابراهيم، تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، اس لیے اس اہم فریضہ کی ادائیگی میں کسی قسم کی سُستی اور غفلت نہ برتے، بل کہ نیک نیتی ، تقربِ خداوندی اور خوش دلی کے ساتھ ادا کریں، کیوں کہ جو شخص قربانی کرتا ہے گویا وہ بیک وقت ان تمام مقاصد پر عمل پیرا ہوتا ہے، اس لیے وسعت اور گنجائش ہو تو ضرور قربانی کو ادا کریں، البتہ قربانی کی ادائیگی میں اپنی نیت خالص رکھیں کیوں کہ بارگاہِ الٰہی میں وہی قربانی قبول و مقبول ہوتی ہے جس کا مقصد خالقِ کائنات کی رضا و خوشنودی ہو، بعض اوقات فاسد نیت سے مثلاً ریاکاری، دکھاوا، شہرت، نام و نمود سے قربانی کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا، قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا،، اللہ تعالی کے پاس نہ قربانی کے جانور کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی اس کا خون البتہ اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے، (سورہ حج) اس لیے خالص رضائے الٰہی مطلوب ہو۔

منجانب ادارہ پیغامِ جامعی مالدہ شیوار مالیگاؤں۔

Comments