ایک عظیم معلّم، ایک شفیق سرپرست ..... جناب وسیم احمد محمد یوسف نلّامندو - از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو۔
ایک عظیم معلّم، ایک شفیق سرپرست ..... جناب وسیم احمد محمد یوسف نلّامندو -
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو۔
زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض رشتوں کی حدود تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنی محبت خلوص اور کردار کے باعث دلوں پر حکمرانی کرتی ہیں۔ جناب وسیم احمد محمد یوسف نلّامندو صاحب بھی ایسی ہی ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کے مالک ہیں، جنہیں ہم سب گھر والے عقیدت و محبت سے "وسیم بھیا" کے نام سے بلاتے ہیں۔
میرے لیے ان کی حیثیت صرف ایک قریبی رشتہ دار کی نہیں بلکہ ایک سایۂ شفقت کی ہے۔ میرے والد کے بعد اگر کسی نے مجھے پدرانہ محبت، خلوص اور رہنمائی سے نوازا ہے تو وہ میرے سسر محترم محمد یوسف نلاّمندو اور ان کے ہمراہ وسیم بھیا ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے اپنی بیٹی کا درجہ دیا اور اپنی شفقتوں سے کبھی محروم نہیں ہونے دیا۔
وسیم بھیا کی شخصیت سادگی، سنجیدگی اور متانت کا حسین امتزاج ہے۔ اس دورِ پُر فتن میں جہاں نمود و نمائش کو معیارِ عظمت سمجھا جاتا ہے، انہوں نے ہمیشہ سادہ طرزِ حیات کو اختیار کیا اور اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ اصل وقار انسان کے اخلاق، اخلاص اور خدمتِ خلق میں مضمر ہے۔ بطورِ معلّمِ فنِ مصوری (ڈرائنگ ٹیچر) انہوں نے محض رنگ و خطوط کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ اپنے طلبہ کے اذہان میں حسنِ ذوق، تخلیقی شعور اور جمالیاتی بصیرت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے ہاتھوں نے کاغذ پر نقش و نگار اُبھارے مگر ان کے کردار نے دلوں پر انمٹ نقوش ثبت کیے۔ مجھے یقین ہے ان کے شاگرد آج بھی انہیں ایک مشفق استاد بہترین رہنما اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر کے طور پر یاد کرتے ہونگیں ۔
انہوں نے ایم۔ اے۔ پانگل اینگلو اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج، سولاپور میں پینتیس برس نہایت دیانت، استقامت اور وقار کے ساتھ اپنی تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہ محض ایک مدت نہیں بلکہ ایک ایسا درخشاں سفر ہے جو محنت، ایثار، خلوص اور فرض شناسی سے عبارت ہے۔ انہوں نے اپنے فرائض کو ہمیشہ عبادت کا درجہ دیا اور ایک مثالی معلّم کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ آج تیس اپریل جب وہ اس ادارے سے سبکدوش ہوئے ہیں تو بلاشبہ ایک تابناک عہد اپنے اختتام کو پہنچا ہے، مگر ان کی یادیں، تعلیمات اور خدمات ہمیشہ زندہ و تابندہ رہیں گی۔
اس موقع پر دل میں ایک خلش بھی موجود ہے کہ مجھے اس باوقار تقریب میں شرکت کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ یہ میرے لیے باعثِ افسوس ہے کہ میں اس یادگار لمحے کی براہِ راست گواہ نہ بن سکی اور نہ ہی بنفسِ نفیس انہیں تہنیت پیش کر سکی۔ تاہم میرا دل، میری دعائیں اور میری نیک تمنائیں ہر آن ان کے ساتھ ہیں۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ وسیم بھیا کو صحتِ کاملہ، عافیتِ دائمہ اور سکونِ قلب عطا فرمائے۔
ان کی حیات کے آئندہ ایام کو راحت، مسرت اور برکتوں سے معمور کرے۔ان کی پینتیس سالہ خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔اللہ ربّ العزّت انہیں دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے سرفراز فرمائے۔آمین یا ربّ العالمین ۔
Comments
Post a Comment