سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ : ٹی ای ٹی امتحان تمام اساتذہ کے لیے لازمی برقرار - اساتذہ کی تمام نظرِ ثانی درخواستیں مسترد، ٹی ای ٹی پاس کرنے کی آخری مہلت 31 اگست 2028 تک - (خصوصی رپورٹ : پٹھان شریف خان)

نئی دہلی، 29 مئی : سپریم کورٹ آف انڈیا نے اساتذہ کے لیے ٹیچر ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ (TET) کو لازمی قرار دینے والے اپنے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے تمام نظرِ ثانی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے واضح اور دوٹوک فیصلے میں کہا ہے کہ پرانے ہوں یا نئے، تمام اساتذہ کے لیے ملازمت برقرار رکھنے اور ترقی (Promotion) حاصل کرنے کی غرض سے TET امتحان میں کامیابی لازمی ہوگی۔
یہ اہم فیصلہ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس منموہن پر مشتمل سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے 29 مئی 2026 کو سنایا۔
مقدمہ کا پس منظر : 
سپریم کورٹ نے اس سے قبل ’’انجمن اشاعتِ تعلیم ٹرسٹ بنام ریاست مہاراشٹر‘‘ مقدمہ میں ایک تاریخی فیصلہ صادر کیا تھا، جس کے مطابق حقِ تعلیم قانون (RTE Act 2009) نافذ ہونے سے قبل تقرر پانے والے اور جن کی ملازمت کے پانچ سال سے زائد عرصہ باقی ہے، ایسے تمام اساتذہ کے لیے بھی TET امتحان لازمی قرار دیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف مختلف ریاستی حکومتوں، اساتذہ تنظیموں اور ہزاروں اساتذہ کی جانب سے نظرِ ثانی درخواستیں داخل کی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ برسوں سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ پر اچانک TET لازمی کرنا ناانصافی اور غیر مناسب اقدام ہے۔
عدالت نے تمام اعتراضات مسترد کر دیے : 
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ RTE قانون کی دفعہ 23 کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پارلیمنٹ نے ابتدا ہی سے حاضر سروس اساتذہ کو مطلوبہ تعلیمی اہلیت حاصل کرنے کے لیے پانچ سال کی مہلت فراہم کی تھی، جسے بعد میں 2017 کی ترمیم کے ذریعے مزید توسیع دی گئی۔ لہٰذا اس قانون کو ماضی پر لاگو (Retrospective) قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ TET صرف ملازمت کی ایک رسمی شرط نہیں بلکہ آئینِ ہند کے آرٹیکل 21-A کے تحت بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے بنیادی حق کا حصہ ہے۔ اس لیے طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ ہزاروں اساتذہ کے نااہل قرار پانے سے تعلیمی نظام متاثر ہوگا۔ عدالت کے مطابق اساتذہ کو TET امتحان پاس کرنے کے لیے پندرہ برس سے زیادہ کا وقت دیا جا چکا ہے، جو کسی بھی اعتبار سے کافی سے زیادہ ہے۔
اساتذہ کو محدود راحت : 
اگرچہ سپریم کورٹ نے تمام نظرِ ثانی درخواستیں خارج کر دیں، تاہم عملی دشواریوں اور تعلیمی نظام کے تسلسل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اساتذہ کو محدود راحت فراہم کی ہے۔
عدالت نے TET امتحان پاس کرنے کے لیے پہلے دی گئی دو سالہ مہلت میں مزید ایک سال کا اضافہ کرتے ہوئے اسے تین سال کر دیا ہے۔ اس طرح اب اساتذہ کو 31 اگست 2027 کے بجائے 31 اگست 2028 تک TET امتحان پاس کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔
ساتھ ہی سپریم کورٹ نے تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ اساتذہ کو مناسب مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر چھ ماہ میں کم از کم ایک مرتبہ، یعنی سال میں دو بار TET امتحانات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
عدالت کا سخت انتباہ : 
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئندہ اس معاملے میں مزید کسی بھی قسم کی مہلت یا توسیع کے لیے کی جانے والی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ملک بھر کے لاکھوں اساتذہ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل مانا جا رہا ہے، جس کے تعلیمی شعبہ پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

Comments