حضرت علی ؓ کی منقبت۔۔ (اردو شعراء کے چند اشعار کاسرسری ذکر) محمدیوسف رحیم بیدری، کرناٹک۔
حضرت علی ؓ کی منقبت۔۔
(اردو شعراء کے چند اشعار کاسرسری ذکر)
محمدیوسف رحیم بیدری، کرناٹک۔
حضرت مرزا ؔچشتی صابری نظامی صاحب اپنے مضمون ”مختصر تذکرہ حضرت علی ؓ “ میں لکھاہے ”حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی، بحرِ مصائب کے شناور، سوزِ آتشِ محبت، ولیوں اور برگزیدہ بزرگوں کے پیشوا ہیں۔ طریقت میں شانِ عظیم اور بلند ترین درجے کے مالک ہیں“آگے بتاتے ہیں کہ آپ 13/رجب واقعہ فیل کے تیسویں دن اندرون کعبتہ اللہ میں پیدا ہوئے۔ ”بچپن سے آپ کی پرورش، تعلیم و تربیت آغوشِ رسالت مآب میں ہوئی، اس طرح معلمِ کل نے نبوت وولایت کی ایسی تعلیم فرمائی کہ معلمِ عالم فرما دیا“
مولانا ابوزہیر سید زبیر ہاشمی نظامی (مدرس جامعہ نظامیہ) اپنے مضمون ”حضرت سید نا علی بن ابی طالب ؓ کی شخصیت واہمیت“ میں لکھتے ہیں
”حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب و فاطمہ بنت اسد کے بطن سے (ایک روایت کے مطابق اندرون خانہ کعبہ) چھٹویں صدی عیسوی میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی کفالت میں آگئے۔ اور دربار نبوت سے آخر تک جڑے رہے۔ آپؓ نے دس سال کی کم عمر میں اسلام قبول کیا“
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے اپنے مضمون ”سیرت علی ؓ کے چند تابناک پہلو، تاریخ وروایات کے آئینہ میں“ میں رقم طراز ہیں ”متعدد روایات کے ذریعے رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت ثابت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ”اقضاکم علی“ ”تم لوگوں میں سب سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت علیؓ میں ہے۔“ العقاد مزی لکھتے ہیں: ”حضرت علی ؓ کے اولین کارناموں میں سے عقائد و علم کلام، علم قضا اور نحو اور عربی کتابت کے ضبط و اصول کی تدوین ہے۔“ (العبقریات للعقاد) اسلامی تقویم (کیلنڈر) کے بارے میں یہ فیصلہ کہ سال ہجرت ِ نبویؐ کو تقویم اسلام کی اصل قرار دی جائے، حضرت علی ؓ کی رائے تھی جس کو حضرت عمر ؓ اور دوسرے صحابہ نے پسند کیا تھا اور یہ حکم دیا گیا کہ اسلامی جنتری کی ابتداء سال ہجرت نبوی کو قرار دیا جائے۔ (بحوالہ: ”المرتضیٰ“) (مضمون بحوالہ انقلاب ممبئی، یکم اپریل 2024ء)
موٹا لباس اور بے دھلا کرتا:۔عطا ابی محمد سے مروی ہے کہ میں نے علیؓ کو انہیں موٹے کپڑوں کا بے دھلا کرتہ پہنے دیکھا۔ ابو العلاء مولائے اسلمین سے مروی ہے کہ میں نے علیؓ کو ناف سے اوپر تہہ بند باندھتے دیکھا۔عمرو بن قیس سے مروی ہے کہ علیؓ کو پیوند لگی ہوئی تہہ بند باندھے دیکھا گیا تو اُن سے کہا گیا، انہوں نے کہا کہ وہ دل کو خاکسار بناتی ہے اور مومن اس کی پیروی کرتا ہے (طبقات ابن سعد)
)فائدہ(درج بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے موٹے کپڑے بھی پہنے اور کبھی کبھی بے دھلے کپڑے بھی پہن لینے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔ تہہ بند ہمیشہ ناف سے اوپر باندھنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا طریقہ مقدس ہے۔ نیز پیوند لگے لباس پہننا بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سنت مبارکہ ہے بلکہ اس کے بے شمار فوائد ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دل میں خاکساری پیدا ہوتی ہے۔(بحوالہ ”فیضان حیدری(شرح دیوانِ علی رضی اللہ عنہ)۔ ابوا حمد غلام حسن اویسی قادری، صفحہ 59)
حضرت علی ؓ کا تحمل اور بردباری:۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی تحریروں پرمشتمل عاصم نعمانی کی مرتبہ کتاب ”مقام ِ صحابہ ؓ“ میں لکھاہے۔”حضرت علیؓ نے اپنے زمانہ ء خلافت میں خوارج کی انتہائی بدزبانیوں کو بڑے ٹھنڈے دل سے برداشت کیا۔ ایک مرتبہ پانچ خارجی ان کے پاس گرفتار کر کے لائے گئے جو علی الاعلان ان کو گالیاں دے رہے تھے اور ان میں سے ایک برسرِ عام کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم میں علیؓ کو قتل کر دوں گا۔ مگر حضرت علیؓ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور اپنے آدمیوں سے فرمایا کہ ان کی بدزبانی کا جواب تم چاہو تو بدزبانی سے دے لو، مگر جب تک وہ عملاً کوئی باغیانہ کارروائی نہیں کرتے، محض زبانی مخالفت کوئی ایسا جرم نہیں ہے جس کی وجہ سے ان پر ہاتھ ڈالا جائے۔(ص۔30)
مرزاؔچشتی صابری نظامی کے مطابق 21/رمضان کو حضرت علی ؓ کا وصال ہوا۔کئی ایک حوالوں میں حضرت علی ؓ کی شہادت کی مختلف تواریخ کاذکر آیاہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وصال کی تاریخ گوگل 21/رمضان المبارک 40ہجری،کوفہ بتاتاہے۔
ہرقول تحقیق کے بعد لیجئے:۔ ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے دارالافتاء دیوبند کہتاہے ”حضرت علی ؓ کی طرف منسوب ہر قول آنکھ بندکرکے نہیں لینا چاہیے بلکہ تحقیق کرنا چاہیے، اگر معتبر سند سے اس کا ثبوت ہوتو لینا چاہیے ورنہ نہیں۔ حضرت علی ؓ کی سیرت اور معتبر اقوال کے لئے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ازالۃ الخفاء، مولانا عبدالشکور فاروقی لکھنوی کی سیرت خلفائے راشدین اور مولانا معین الدین صاحب ندوی کی خلفائے راشدین کامطالعہ کرسکتے ہیں۔حضرت علی ؓ سے مروی 12000احادیث نبوی کا مجموعہ علامہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مرتب کیاہے۔ کسی نے 17/ہزار احادیث نبوی کامجموعہ بھی مرتب کیاہے۔ لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہمارا موضوع اردو شاعری کے حوالے سے حضرت علی ؓ کی منقبت ہے۔ چند اشعار کاذکرمقصود ہے۔ یہ اشعار کوئی چنندہ اشعار نہیں ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے چاہنے والے اس سے بہتر اشعار پڑھ چکے ہوں گے۔ ہماراکوئی دعویٰ نہیں ہے البتہ کوشش ہے کہ صحابہ کرام ؓ کا ذکر خیر وقتاً فوقتاً سہی اردو ادب کے حوالے سے ہوتارہے۔ لہٰذا ہم اردو شعراء کے منقبت اور حضرت علی ؓ پر ان کے کہے گئے اشعار کی طرف آتے ہیں۔میرتقی میرؔایک منقبت میں فرماتے ہیں ؎
عقل ہے تو مرا کہاکر تو
محوِ یاد علی ؓرہاکر تو
ایک اور مقام پر نصیحت کرتے ہوئے میرؔصاحب کہتے ہیں ؎
ہے حقیقت سے تو اگر آگہ
یاد میں روزوشب علی ؓ کی رہ
ایک اورمنقبت میں میرؔصاحب کہتے ہیں ؎
زور وثبات وتاب وتواں مرتضیٰ علیؓ
امید گاہ خردو کلاں مرتضیٰ علی ؓ
ایک اورمنقبت میں حضرت علی ؓ کو ”رازِ انما کا محرم“ بتایاہے۔ ملاحظہ کیجئے گا ؎
یاعلیؓ شاہ اولیاء ہے تو
محرم رازِ انّما ہے تو
حضرت علی ؓ کا دراور ان کے گھر کے بارے میں میرؔتقی کہتے ہیں ؎
قابل سجدہ ہے علی ؓکادر
باب تعظیم ہے علی ؓکا گھر
میرتقی میرؔ حضرت علی ؓ کواور کیاکیاسمجھتے ہیں،ملاحظہ کیجئے ؎
ہادی علی ؓ، رفیق علی ؓ، رہنما علی ؓ
یاورعلی ؓ، ممدّعلی، آشناعلی ؓ
مرزا سلامت علی دبیر کہتے ہیں ؎
تشریح قل کفیٰ کی ہے کیامرتضیٰ علی ؓ
تصریح انما کی ہے کیامرتضیٰ علی ؓ
ایک اور شعر میں اس طرح اپنے ممدوح کی تعریف میں لگ جاتے ہیں ؎
تاروں میں آفتابِ مبیں، پھولوں میں گلاب
سب عورتوں میں فاطمہ ؓ، مردوں میں بوتراب ؓ
جب کہ میرانیس ایک مرثیہ میں لکھتے ہیں ؎
تکتے تھے فوق سے تو ملک، تخت سے بشر
اللہ ری چمک علم بوتراب کی
جناب منظر پھلوری سائل نے 7/اشعار کی نقطہ کے بنایعنی غیرمنقوط منقبت حضرت علی ؓ کے لئے کہی ہے۔ اس کایہ شعر سماعت کیجئے گا ؎
کس کے لئے روا ہے کہ مولا سے وہ لڑے
اللہ کا اسد ہے سراسر علی علی
حضرت ارشد شرفی کہتے ہیں ؎
ہیں قرطاس وقلم رقصاں، حرو ف ولفظ بھی رقصاں
علی ؓ کی منقبت کے ہوگئے اشعار می رقصم
اکرم تلہری لکھتے ہیں ؎
بزم تصورات میں صورت علی ؓ کی ہے
مومن ہے جو بھی اس کو ضرورت علی ؓ کی ہے
میرؔبیدری کاکہناہے ؎
تاحشر دیکھئے گا، زمانہ علی ؓ کا ہے
کیسے نہ پھر کہوں کہ سہارا علی ؓ کا ہے
جوش ؔملیح آباد ی کاعجز اور حضرت علی ؓ سے ان کی عقیدت ملاحظہ کیجئے ؎
منظور ہے خدا کوتو پہنچوں گا روزحشر
چہرے پہ خاک مل کے درِ بوتراب کی
ریاض انور بلڈانوی کہتے ہیں ؎
خیبر شکن بھی، حیدرِ کرّار بھی علی ؓ
اشرا رکے قلوب پہ ہیبت علی ؓ کی ہے
مزید شعراء کا کلام درج ذیل ہے ؎
کچھ بھی نہیں ہے دہر کا رنج والم انہیں
الفت میں تیری جو بھی گرفتار ہیں علی ؓ
حشمتی گوونڈی
سبیل ِ عشق کی سب رونقیں علی ؓ سے ہیں
طریق رشد کی سب مشعلیں علی ؓ سے ہیں
عباس عدیم قریشی
ہر کوچہ ء خیال میں ہے یاعلی ؓ کی گونج
کرتاہے نور سارا زمانہ علی ؓ علی ؓ
سید نورالحسن نورؔ
حکمتوں کے گھر کادروازہ علی شیر خدا
خیبر کافاتح حق کا آوازہ علی شیر ِ خدا
مفتی محمد انصرالقادری چشتی
اک سانس کے لئے نہیں رکتا کہے بغیر
یعنی قلم علی ؓ کاقصیدہ کہے بغیر
مرتضیٰ کشاف ؔ
جسے سن کے، آنکھیں سمندر بہائیں
وہی داستاں ہے علی ؓ کی شہادت
میرؔبیدری
سید علی میاں کامل کے لکھے مرثیہ کاشعر ہے ؎
کی لعینوں نے جفاروح علی ؓپر، ہے ہے
گھوڑے دوڑائے تن سبط نبی پر،ہے ہے
علی حیدرعلوی کی غزل کاشعر ہے ؎
سلام کرتے ہیں چادرنشیں سروں کو علی
درود پڑھتے ہیں محمل کے خیرخواہوں پر
شعیب و موہی کی منقبت کاشعر ہے ؎
جذبہ علیؓ ہیں جو ش علیؓ حوصلہ علی ؓ
دین نبی کی راہ کے ہیں رہنما علی ؓ
ڈاکٹر فیض احمد چشتی کا ایک قطعہ ہے، بڑا پراثر ہے، ملاحظہ فرمائیں ؎
بغیر حب علی ؓ مدعا نہیں ملتا
عبادتوں کا بھی صلہ نہیں ملتا
خدا کے بندو، سنو غورسے خداکی قسم
جسے علی ؓ نہیں ملتا، اسے خدا نہیں ملتا
مجموعی طورپر حضرت علیؓ سے عقیدت، ان سے محبت، ان کی اہلیہ بی بی فاطمہ ؓ سے عقیدت، ان کی آل واولادؓ سے اپنے گہرے تعلق پر شعرا ء کرام نے ہزاروں لاکھوں اشعار کہے ہیں۔ جنہیں عقیدت سے پڑھتے ہوئے حضرت علی ؓ سے اپنے تعلق کو مضبو ط بنایاجاسکتاہے۔اللہ تعالیٰ ہماری محبت کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان کی نسل سے وابستہ رکھے۔ہماری آنے والی نسلیں آپ ؓ کے علم اورآپؓ کی سیرت پر فدارہیں۔آمین
Comments
Post a Comment