افسانچہ: جنگی روٹی - ازقلم : سی. عبدالعزیز تسلیم،نندیال ڈسٹرکٹ، آندھراپردیش،انڈیا۔
افسانچہ: جنگی روٹی
ازقلم :-سی. عبدالعزیز تسلیم،
نندیال ڈسٹرکٹ،
آندھراپردیش،
انڈیا۔
بچے، نوجوان، اور معمر افرادہر اک ماہ صیام کے انتظار میں تھے۔ مغرب کی نماز کے بعد مسجد کے امام نے اعلان کیا کہ چاند کو دیکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مسجد کی چھت پر سب چڑھ گئے۔ سب کی نظریں آسمان پر چاند کو تلاش کرنے لگیں۔ فلک پر ستارے غائب تھے، بادل بستر بچھاےء ہوےء تھے۔ تھوڑی دیر بعد نوکیلی سی نور کی لکیر نمودار ہوئی، غور سے دیکھا تو یہی چاند تھا جس کا ہر اک کوانتظار تھا-رمضان المبارک کے آغاز پر سب ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرنے لگے۔
نماز تراویح ادا کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک دو ممالک کے درمیان ہنگامی جنگ شروع ہو گئی۔ آسمان پر گرجنے کی آواز سنائی دی۔ سیکنڈوں میں آسمان پر جنگی جہاز داغے گئے۔آسمان پر ہوتے ہوےء سکول پر جنگی جہاز کا دھماکہ ہوا، تقریباً 270 طلبہ شہید ہو گئے۔
ایک جانب دنیا بھر میں سیاسی طور پر اپنی طاقت بڑھانے کے لیے وحشیانہ فطرت والا، تشدد برپا کرنے والا ایک ملک کھڑا رہا، دوسری جانب اپنے ملک میں امن و امان کو برقرار رکھنے، اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے، اپنی تہذیب و تمدن کی برقراری کے لےء دوسرا ملک کھڑا رہا۔ آسمان سے جنگی جہاز، بم برستے رہے، ہزاروں لوگ جان بحق ہو گئے۔ جو بچ گئے، سر پر چھت سے محروم رہ گئے۔
جان ہتھیلی پر رکھے، ماں اپنی پانچ سالہ لڑکی کے ساتھ پہاڑی غار میں روزنامہ اخبار کے اوراق پلٹاتی رہی۔ بازو میں بیٹھی لڑکی نے عاجلانہ طور پر اخبار جھپٹ لیا اور نوالہ بنا کر کھانے لگی۔ ماں اپنی بیٹی کی اس حرکت کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ساتھ ہی اپنی بیٹی کے منہ میں انگلی ڈال کر اخبار کا نوالہ باہر نکالا۔ بیٹی اپنی آنکھوں سے جھر جگر آنسو بہات ہوئی اپنی ماں سے کہنے لگی، "بھوک نے زور پکڑا تو اخبار میں رہی روٹی کھارہی تھی، تم نے کیوں میری روٹی چھین لی-"
اپنی بیٹی کی اس حرکت پر، ماں کا دل لرز اٹھا۔ فوری اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے آسمان کی جانب خاموش دیکھتی رہی . دیکھنے والوں کو سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر اس بچی کی ماں اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہی ہے یا مظلوم بن کر ظالموں کے حق میں بد دعا دے رہی ہے۔
Comments
Post a Comment