مہاراشٹر کا نظامِ تعلیم۔’بدعنوانی کی دیمک‘ اور بچوں کا تاریک مستقبل۔ ازقلم : وسیم رضا خان۔


مہاراشٹر کا نظامِ تعلیم۔
’بدعنوانی کی دیمک‘ اور بچوں کا تاریک مستقبل۔ 
ازقلم : وسیم رضا خان۔

مہاراشٹر، جسے ترقی پسند خیالات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، آج اس کا نظامِ تعلیم ایک گہرے بحران سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں محکمۂ تعلیم میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے معاملات محض مالی گھوٹالے نہیں ہیں بلکہ یہ ریاست کے کروڑوں بچوں کے بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں ’ٹی ای ٹی‘ گھوٹالے نے پورے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہزاروں نااہل امیدواروں کو رشوت لے کر کامیاب قرار دیا گیا، جبکہ اہل اور باصلاحیت امیدوار سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے۔ یہ بھارتی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جب نااہل اساتذہ نظام میں داخل ہوتے ہیں تو تعلیم کے معیار کا گرنا یقینی ہو جاتا ہے۔ ضلع پریشد اور میونسپل اسکولوں میں بچوں کو دی جانے والی مڈ ڈے میل، یونیفارم اور وظائف میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی خبریں عام ہیں۔ کاغذوں پر اسکول ’ڈیجیٹل‘ بن رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کئی دیہات میں اسکولوں کی چھتیں ٹپک رہی ہیں اور پینے کے صاف پانی تک کا انتظام نہیں ہے۔ افسران اور ٹھیکیدار ملی بھگت کرکے بچوں کے حق کا پیسہ اپنی تجوریوں میں بھر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ کو ملنے والی بنیادی سہولتوں میں بھاری کٹوتی ہو رہی ہے۔ ریاست کے ہر شہر اور گاؤں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ایک ہی استاد کو بیک وقت دو یا تین جماعتوں کی ذمہ داری سنبھالنی پڑ رہی ہے۔ اساتذہ کو مردم شماری، انتخابی ڈیوٹی اور دیگر سرکاری سرویز میں اس قدر مصروف رکھا جاتا ہے کہ ان کے پاس پڑھانے کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔
مقامی بلدیاتی اداروں میں محکمۂ تعلیم کو سب سے کم ترجیح دی جا رہی ہے۔ افسران کی بے عملی کے باعث اسکولوں کا معائنہ نہیں ہوتا اور شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے، جس سے بدعنوانی کو فروغ مل رہا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے میونسپلٹیوں اور میٹروپولیٹن کارپوریشنوں کے ’اسکول بورڈ‘ کو ختم کرنے کا فیصلہ خودکُش ثابت ہوا ہے۔ پہلے اسکول بورڈ خصوصی طور پر تعلیم پر توجہ دیتے تھے، مگر اب یہ ذمہ داری عام انتظامی افسران کے پاس ہے، جن کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ ہی تعلیمی امور کی باریکیوں کو سمجھنے کی مہارت۔ اس کے نتیجے میں فیصلوں میں تاخیر، بجٹ کا غلط استعمال اور نگرانی میں کمی آئی ہے۔ اسے فوری طور پر دوبارہ بحال کرنا ناگزیر ہے۔ حقِ تعلیم قانون 2009 کے تحت حکومت ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے، لیکن آر ٹی ای کے مقررہ تناسب پر عمل نہیں ہو رہا۔ بدعنوانی انسداد قانون کے تحت قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونا حکومت کی ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کوئی کاروبار نہیں بلکہ قوم سازی کی بنیاد ہے۔ اگر اساتذہ کی بھرتی میں شفافیت نہ لائی گئی، اسکول بورڈ کو بحال نہ کیا گیا اور اساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں سے آزاد نہ کیا گیا تو مہاراشٹر کی آنے والی نسل ذہنی طور پر مفلوج ہو جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام اور عدلیہ اس نظام کا احتساب کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ مہاراشٹر کا ’تعلیمی ماڈل‘ آج بدعنوانی، خالی آسامیوں اور انتظامی بے حسی کی نذر ہو چکا ہے۔ ایک طرف ہم ’وشو گرو‘ بننے کا خواب دیکھتے ہیں، دوسری طرف ہمارے ضلع پریشد اسکولوں میں ایک ہی استاد تین جماعتوں کو سنبھالنے پر مجبور ہے۔ تعلیمی نظام سے وابستہ سرکاری اہلکاروں، خصوصاً وزیرِ تعلیم، کو ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ بھارتی آئین کے تحت 6 سے 14 سال کے بچوں کو ’مفت اور لازمی تعلیم‘ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کیا خستہ حال عمارتیں، اساتذہ کی کمی اور مڈ ڈے میل میں بدعنوانی اس حق کا مذاق نہیں ہیں؟
’پوتر پورٹل‘ اور بھرتی کے عمل میں تاخیر اور بدعنوانی نے ہزاروں اہل نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔ کیا حکومت ان خالی آسامیوں کو شفاف طریقے سے پُر کرنے کا حوصلہ دکھائے گی؟ اساتذہ کو مردم شماری، انتخابات اور دیگر سرکاری سرویز کا ’کلرک‘ بنا دیا گیا ہے، حالانکہ آر ٹی ای قانون کی دفعہ 27 واضح طور پر اساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں سے محفوظ رکھنے کی بات کرتی ہے، پھر بھی مہاراشٹر میں اس کی خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے؟ مقامی اداروں میں ’اسکول بورڈ‘ کو ختم کرکے تعلیم کے اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کو ختم کر دیا گیا ہے۔ کیا طلبہ کے مفاد میں اس ماہر بورڈ کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟ محکمۂ تعلیم میں جاری یہ بدعنوانی صرف ’مالی جرم‘ نہیں بلکہ ریاست کی آنے والی نسلوں کے ساتھ کیا جانے والا ’فکری جرم‘ ہے۔ افسران کی بھرتی ہوئی تجوریاں اور خالی ہوتے اسکول اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت بچوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔  مطالبہ ہے کہ محکمۂ تعلیم میں بدعنوانی کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور ’تعلیم بچاؤ‘ مہم کے تحت جنگی بنیادوں پر اصلاحات نافذ کی جائیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ آپ کو ان بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کے لیے یاد رکھے گی جن کے پاس اپنی آواز بلند کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ