عید۔۔ ازقلم : ڈاکٹر فہمیدہ جمیل۔
عید۔۔
ازقلم : ڈاکٹر فہمیدہ جمیل۔
اب اور کتنے سوٹس لوگی گڑیا ؟
زوبیہ نے اپنی بیٹی زویا سے پوچھا
امی جان! آپ کو تو پتہ ہے کہ عید الفطر کے موقع پر میں ہر سال کم از کم پانچ جوڑے کپڑے خرید لاتی ہوں .
مگر چندا ! ہر سال کی طرح اس سال بھی لینا ضروری تو نہیں ہے.
پر کیوں امی ؟
زویا ! زندگی میں حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں ـ ہر سال آپ نے لیے ہیں ، لیکن اس سال حالات کچھ اور ہیں گڑیا ، اور آپ نے پہلے والے ڈر سیس پہنے ہی نہیں ہیں وہ بھی تو نئے ہیں ـ اسی پر اکتفا کرلیتے ہیں ـ میں نے بھی اپنی شاپنگ نہیں کی ہے صرف دادا جان اور دادی جان کے لئے نئے ملبوسات لیے ہیں آپ کے بابا جان بھی سال گذشتہ کا کرتا پہن رہے ہیں ـ
پر کیوں ؟ یہ قربانی دینے کی کیا ضرورت ہے امی جان ؟ الحمد الله ہم کثیر آمدنی والے ہیں اور میں تو آپ کی اکلوتی بیٹی ہوں .
ہاں بیٹی! ہم جانتے ہیں کہ عيد کے معنی ہی خوشی و مسرت کے ہوتے ہیں الله رب العزت نے اپنے بندوں کو اس نعمت سے نوازا ہے پر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کے چند بندے ہمارے محتاج ہیں اور اللہ تعالی نے ہمیں اپنے فضل سے ان کی مدد کا وسیلہ ہمیں بنایا ہے ـ اس لئے اگر ہم اپنے سے کم تر پر رحم کھائیں گے تو الله تعالی ہم سے راضی ہوجائے گا.
آپ کو معلوم ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز مسلمانوں کے ایک مشہورخلیفہ تھے . وہ خلیفہ بننے سے پہلے بڑی شان و شوکت والی زندگی گزارتے تھے ، لیکن دور خلافت میں ان کی زندگی بالکل تبدیل ہوگئی یہاں تک کہ عید کے موقع پر اپنے بیوی بچوں کو نئے کپڑے تک نہیں بنوائے اپنی ساری دولت اور سارے قیمتی زیورات اور سامان بيت المال میں داخل کروا دیے . اس دور کےایسے نیک اور پرہیزگار بندے ہوا کرتے تھے جو اپنی ساری ملکیت عوام اور خدا کے بندوں پر خرچ کیا کرتے تھے ـ اور انکا ساتھ دینے میں خاندان کبھی پس و پیش نہیں رہا.
امی جان ! واقعی یہ تو ايمان کے عروج کی مثال ہے ـ
ہاں بیٹی! اتنا نہ سہی ہم ذرا سا بھی کرلیں گے تو ہمارا ایمان تازه اور دل مطمئن ہوجائیں گے ـ
پچھلے سال جو کپڑے لیے گئے ہیں ان میں اگر آپ چند سو ٹسس کسی غریب کو دو گی تو اس کے گھر بھی عید کی خوشیاں دو بالا ہو جائیں گی .
جی امی جان! آپ نے آج مجھے عید کے معنی بتا دیے
ہاں بیٹی! اور ابوجان کے بھی ہم معاون بنے گے . كم اخراجات کرنے سے اسراف سے بچ سکتے ہیں اور وہی رقم زكوة ، صدقہ اور خیرات میں استعمال میں لائی جاسکتی ہے.
بالکل صحیح کہا بہو! ارے دادی جان آپ نے ہماری ساری باتیں سن لی کیا ؟
ہاں زویا! آپ کی امی ایک نیک اور اچھی امی ہیں ـ میں الله کا لاکھ لاکھ شکر بجا لاتی ہوں کہ اس نے مجھے ایک عقل و دانش مند اور دیندار بہو عطا فرمائی ہے
Comments
Post a Comment